بڑے اور امیر لوگ اپنے بچوں کو مدارس میں کیوں نہیں پڑھاتے ؟ ان کو مدارس کی طرف مائل کرنے کا آزمودہ نسخہ:میرا مطالعہ

 

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ھے کہ ماضی میں مسلمانوں میں دینی جذبہ بہت تھا ، دیندار ہونا لوگ اپنے لئے فخر کی بات سمجھتے تھے ، مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ، لوگوں میں مادیت کا زہر پھیلتا گیا اور اکثر لوگ دین پر دنیا کو ترجیح دینے لگے ، یہ اثر مسلم معاشرہ میں ہر سطح پر دیکھا جا سکتا ھے ، مگر تعلیم کے شعبہ میں اس کا اثر زیادہ دیکھنے کو ملتا ھے ، مثلا ہندوستان کی آزادی سے پہلے مسلمانوں کے بڑے اور امیر لوگ اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم دلانا فخر سمجھتے تھے ، مگر آزادی کے بعد مدارس میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے والے اکثر غریب لوگ نظر آتے ہیں ، ان ہی غریبوں کے بچوں سے مدارس آباد ہیں ، اور دین میں ان ہی کا زیادہ حصہ بھی نظر آتا ھے ، آخر بڑے دانشوران اور امیر لوگ اپنے بچوں کو مدارس کی تعلیم دلانا کیوں نہیں چاہتے ؟ کبھی اس پر غور و فکر کرنے کی زحمت نہیں کی گئی ، اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں ، مگر میرے مطالعہ کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ھے کہ مدارس میں پڑھ کر فارغ ہونے والے حضرات کو سماج نے وہ حیثیت نہیں دی ، جس کے وہ مستحق تھے ، لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ غریب گھرانے کے بچے بھی اسکول کالج میں پڑھ لیتے تو بڑے منصب پر فائز ھوتے ، اور بڑی تنخواہیں پاتے ، سماج کے لوگ ان سے بڑے بڑے کام لیتے ہیں ، اور وہ بڑی خدمت انجام دیتے ہیں ، مدارس میں دین کی تعلیم دیتے ہیں ، مساجد میں امام اور خطیب کے فرائض انجام دیتے ہیں ، جب مرجاتے ہیں تو کفن دفن کی رہنمائی کرتے ہیں ، نماز جنازہ پڑھاتے ہیں ، دین پر قائم رکھنے کے لئے فکرمند رہتے ہیں ، ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود ان کو تنخواہ اتنی کم دیتے ہیں کہ وہ اپنے بال بچوں کی صحیح سے کفالت نہیں کر پاتے ہیں ، بہت سے بغیر دوا و علاج کے مرجاتے ہیں ، ہائے افسوس !

مدارس کے منتظمین ان کے قبیلے کے ہوتے ہیں ، وہ بھی مدرسہ ہی سے پڑھ کر آتے ہیں ، چونکہ وہ مدرسہ کے منتظم ہیں ،اس لئے وہ دیگر فارغین مدارس کو ہیچ سمجھتے ہیں ، اور ان کی تنخواہ وہ خود بھی دس ہزار سے زیادہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، اس طرح وہ خود بھی مدارس کی تعلیم کو بے حیثیت کر رہے ہیں ،

موجودہ وقت میں زیادہ تر معاملہ تنخواہ کا ھے ، اگر مدارس میں تنخواہ کے معیار کو بلند کردیا جائے اور اس میں سروس کنڈیشن وغیرہ لاگو کردیا جائے تو پھر مدارس میں ان ہی لوگوں کے بچے زیادہ نظر آنے لگیں گے ،جو آج مدارس کی تعلیم پر تنقید و تبصرہ کرتے ہیں ، اس کی مثال آپ مدارس ملحقہ کو دیکھ لیجئے ، جب مدارس ملحقہ میں تنخواہ کم تھی تو کوئی ان مدارس کا پرسان حال نہیں تھا ، مگر جب حکومت نے تنخواہ بڑھادی ، اور معیاری تنخواہ کی ادائیگی شروع کی تو زیادہ تر دبنگ اور سفید پوش مدارس کے صدر و سیکریٹری بننے کے لئے لڑائی جھگڑا کرنے لگے ، اور مدرسہ کی کمیٹی کے سیکڑوں معاملے کورٹ پہنچ گئے ، صدر و سیکریٹری بننے کے پیچھے صرف ان یہ جذبہ کار فرما ہوتا ھے کہ اپنے بیٹے پوتے کو مدرسہ میں بحال کردیں ، خواہ وہ جاہل ہی کیوں نہ ھو، یہی وجہ ھے کہ آج بھی مدارس ملحقہ میں اساتذہ کے جتنے عہدے منظور ہیں ،ان میں سے لگ بھگ 50 فیصد عہدے خالی ہیں ، مدرسہ کے صدر و سیکریٹری حضرات انتظار میں ہیں کہ ان کا بیٹا ،پوتا وغیرہ پڑھ کر آئے گا ،تب اس جگہ پر تقرری کی جائے گی ، اسی فکر نے مدارس ملحقہ کے نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ، آج تقریبا اکثر مدارس اساتذہ کی کمی کی وجہ سے بند ہونے کے دہانے پر ہیں ، اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ، یہ ہوتا ھے تنخواہ میں زیادتی کا اثر ، میرے مطالعہ کے مطابق پرائیویٹ مدارس میں تنخواہ کے معیار کو بلند کرکے سروس کنڈیشن وغیرہ کو پرائیویٹ مدارس کے ذمہ داران اپنے مدارس میں لاگو کر دیں تو پھر بڑے لوگوں کے بچے اتنے پڑھنے کے لئے آجائیں گے کہ ان کو چندہ وصول کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ، چونکہ ان کے ذہن میں یہ بات ھوگی کہ ہمارے بچے بھی مدارس میں پڑھ کر ان کے استاذ بنین گے تو ان کو بھی معیاری تنخواہ ملے گی ، اور پھر مدارس میں بہار کی توقع بڑھ جائے گی ، اللہ تعالی مدارس کو شر و فتنہ سے حفاظت فرمائے اور دین کے تحفظ کا ذریعہ بنائے

 

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

Comments are closed.