غیر رجسٹرڈ کو غیر آئینی کہنا صحیح نہیں ہے

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندوستان جمہوری ملک ھے ، اس ملک کا مضبوط آئین ھے ، یہاں کی حکومت ملک کے آئین کے تابع ھے ، ملک کے آئین نے اقلیتوں کو اپنے ادارے قائم کرنے کی اجازت دی ھے، یہ بنیادی حقوق میں شامل ہے ، اس کا رجسٹرڈ ہونا ضروری نہیں ھے ، میری اطلاع کے مطابق کسی اسٹیٹ نے رجسٹریشن کو لازم بھی نہیں کیا ھے ، البتہ موجودہ وقت میں حکومت مدارس کا ریکارڈ رکھنا چاہتی ھے ، اس کے لئے سروے کرا رہی ھے ،تاکہ حکومت کے ریکارڈ میں رہے کہ صوبہ میں / ملک میں کتنے مدارس چل رہے ہیں ، سروے سے یہ بات سامنے آئی ھے کہ بہت سے مدارس نہ بورڈ سے منظور ہیں اور نہ رجسٹریشن ایکٹ کے ذریعہ رجسٹرڈ ہیں ، ایسے مدارس جو رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کو غیر قانونی کہا جارہا ھے ، حالانکہ جو مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں ، ان کو غیر آئینی کہنا صحیح نہیں ھے ، چونکہ وہ ملک کے آئین کے مطابق ہیں ، البتہ ان کو غیر رجسٹرڈ کہا جاسکتا ھے ، موجودہ سروے سے پہلے بھی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ سروے کا مقصد ڈیٹا جمع کرنا ھے ، مگر اس کے باوجود کنفیوژن پھیلایا جارہا ھے

ملک میں مدارس کا نظام بہت قدیم ہیں ، سبھی لوگ واقف ہیں کہ ملک میں دو طرح کے مدارس پائے جاتے ہیں ، ایک وہ مدارس ہیں جو کسی مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں ، ان میں بورڈ کا نصاب تعلیم رائج ھے اور حکومت کی مدد سے چلتے ہیں ، گویا یہ بورڈ کے ذریعہ منظور اور بورڈ سے رجسٹرڈ ہیں ، اور دوسرے وہ مدارس ہیں جو آزاد ہیں ، کسی مدرسہ بورڈ سے ملحق نہیں ہیں ، یہ حکومت سے تعاون نہیں لیتے ، عوامی چندہ سے چلتے ہیں ، ان میں سے کچھ مدارس ٹرسٹ ڈیڈ / سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کے ذریعہ رجسٹرڈ ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہے ہیں ، یہ سبھی مدارس اقلیتوں کو آئین میں دیئے گئے حقوق کے مطابق ہیں ، اس لئے یہ سبھی مدارس ملک کے ائین کے مطابق ہیں ،

ایسی امید نہیں تھی کہ میڈیا کے حضرات آئینی اور غیر آئینی میں فرق نہیں سمجھتے ہونگے ، مگر یوپی سروے رپورٹ کے بعد میڈیا میں یہ خبر شائع ہونے لگی کہ یوپی میں بہت سے مدارس غیر قانونی ہیں ، کسی نے لکھا کہ غیر آئینی ہیں ، اصل غلط فہمی یہاں سے پیدا ہوئی کہ رجسٹریشن کو غلط اور صحیح کا معیار سمجھ لیا گیا ، بھر جو مدارس نہ مدرسہ بورڈ سے رجسٹرڈ ہیں اور نہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں ، ان کو غیر قانونی کہہ دیا گیا ، اس کی وجہ سے حکومت کے ذمہ داروں کو بھی وضاحت کی ضرورت پڑ رہی ھے اور بڑے ادارہ کے ذمہ داران بھی غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی میں فرق سمجھا رہے ہیں ، بڑی اچھی بات یہ ہوئی کہ حکومت کی جانب سے اس غلط فہمی کو دور کر نے کی پوری کوشش کی گئی ، اور کی جارہی ھے ، یہ عمل قابل ستائش ھے

ملک میں مدارس کا نظام جس طرح پھیلا ھوا ھے ، یہ یقین نہیں آرہا ھے کہ۔ میڈیا کے رپورٹر اور ملک کے دانشوران مدارس اور ان کے نظام سے ناواقف ہوں گے ، یقینا اس طرح کی بات میں بری نیت کا دخل معلوم ہوتا ھے ، جو نہایت ہی افسوسناک ھے ، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی صاحب کا اقدام قابل ستائش ھے کہ انہوں نے بروقت اس سلسلہ میں اپنا بیان جاری کیا ، اور لوگوں کو یہ سمجھایا کہ جن اداروں کا رجسٹریشن نہیں ھے ، وہ غیر رجسٹرڈ ہیں ، ان کو غیر آئینی اور غیر قانونی کہنا صحیح نہیں ھے ، بلکہ وہ صحیح اور ملک کے آئین کے مطابق ہیں

موجودہ وقت فتنہ کا ھے ، فتنہ سے بچنا وقت کی ضرورت ھے ، اس لئے اداروں کو رجسٹرڈ کرانا مناسب معلوم ھوتا ھے ، چونکہ اس سے شر و فتنہ سے اداروں کی حفاظت ہوگی ، نیز اس کی بھی ضرورت ھے کہ کسی ادارہ میں کوئی کمی ھے تو اس کمی کو دور کیا جائے ، مثلا اس کے نصاب میں ضرورت کے مطابق عصری مضامین شامل کئے جائیں ، کاغذات وغیرہ درست ہوں ، حساب و کتاب کا اوڈٹ کرایا جائے ، ہاسٹل کا نظام درست رکھا جائے ، طلبہ کے قیام و طعام کا انتظام مناسب ہو ، صفائی ستھرائی کا انتظام بہتر ہو ، کلاس ، پانی وغیرہ کا مناسب انتظام ہو ، یعنی اس طرح کی تمام ضروری باتوں پر توجہ دی جائے ، تاکہ مدارس ہر فتنہ سے محفوظ رہ سکیں ، اللہ تعالی ان کی حفاظت فرمائے. آمین

Comments are closed.