بھارت میں گائے کا تقدس مذہبی ہے یا سیاسی

 

سید عمران ناندیڑ

بھارت میں گائے کا تقدس آج مذہبی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے، مگر تاریخی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہیں۔ اگر ہندو دھرم کی مقدس کتابوں اور ہندو اسکالرز کی تحریروں کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ویدک دور میں گائے کا ذبیحہ ممنوع نہیں تھا۔ بلکہ گائے اور اس کے بچھڑوں کو دیوتاؤں کے حضور قربانی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، اور گائے و بیل کا گوشت روزمرہ خوراک کا حصہ تھا۔ اس دور میں گائے کو آج کے معنوں میں “مقدس جانور” نہیں سمجھا جاتا تھا۔

رِگ وید میں کئی مقامات پر دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے گائے، بیل اور بھینسوں کی قربانی اور ان کے گوشت کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔ خاص طور پر اندر، جو ویدک دور کے بڑے دیوتاؤں میں شمار ہوتا ہے، اس کے لیے بیل پکانے اور قربان کرنے کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔ مثال کے طور پر:

رِگ وید 10.86.14

“وہ میرے لیے پندرہ یا بیس بیل پکاتے ہیں۔”

رِگ وید 10.28.3

“وہ تیرے لیے بیل پکاتے ہیں۔”

رِگ وید 6.17.11

“اے اندر! تیرے لیے بھینسے پکائے جاتے ہیں۔”

اسی طرح دیگر اشلوکوں میں سانڈھوں، بھینسوں اور مختلف جانوروں کی قربانیوں کا ذکر موجود ہے۔

 

سوامی وویک آنند نے بھی قدیم ہندوستان میں گوشت خوری کے حوالے سے لکھا ہے:

“ایک وقت ایسا تھا کہ گائے کا گوشت کھائے بغیر کوئی برہمن، برہمن نہیں رہ سکتا تھا۔”

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ویدک دور میں مہمانوں کی خاطر بہترین بیل یا گائے ذبح کر کے اس کا گوشت پیش کیا جاتا تھا۔

 

اسی طرح T. N. Gupta اپنی کتاب پراچین بھارت میں لکھتے ہیں کہ مہابھارت، موریا اور گپتا ادوار میں گوشت خوری عام تھی۔ کشتری طبقہ بکثرت گوشت استعمال کرتا تھا، جبکہ برہمنوں کے بعض طبقات میں بھی گوشت خوری رائج تھی۔ موریا دور میں بازاروں میں گوشت، چاول اور دیگر غذائیں فروخت ہوتی تھیں، اور مختلف جانوروں کی قربانی دی جاتی تھی۔

بعد ازاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قدیم ہندوستان میں گائے کا ذبیحہ عام تھا تو پھر گائے کے تقدس اور اس کی ممانعت کا تصور کہاں سے آیا؟

اس حوالے سے B. R. Ambedkar اپنی کتاب The Untouchables میں لکھتے ہیں:

“یہ برہمنوں کی جنگی چال کا حصہ ہے کہ وہ گوشت خور بننے کے بجائے گائے کے پجاری بن گئے۔ بدھسٹ اور برہمنوں کے درمیان چار سو سالہ لڑائی میں یہ راز پوشیدہ ہے۔”

 

 

ڈاکٹر امبیڈکر کے مطابق یہ تبدیلی صرف مذہبی عقیدت نہیں تھی بلکہ بدھ مت کے بڑھتے ہوئے اثر کو کم کرنے کی ایک “جنگی چال” بھی تھی۔بدھ مت رحم، مساوات اور عدمِ تشدد کی تعلیم دیتا تھا، یعنی وہ انسانوں پر ظلم کے خلاف تشدد کے خلاف تعلیم دے رہا تھا جس کی وجہ سے عام لوگ اس کی طرف مائل ہو رہے تھے اور برہمنوں کا اثر و رسوخ کم ہورہا تھا۔ لیکن برہمنوں نے ایسے میں یہ جنگی حکمتِ عملی اپنائی بلکہ ایک جالی مکھوٹا استعمال کیا جس کے تحت انہونے اپنے آپ کو گوشت خور کے بجاے جانوروں کے رکھوالے کے طور پر پیش کیا حتیٰ کے گائے کو مقدس قرار دے کر خود کو “گائے کے محافظ” قرار دیا جو گائے کل تک بھگوانوں کو خوش کرنے کے لیے نذرانے کے طور پر پسند کی جاتی تھی وہ گائے اچانک گائے ماتا بن گئی۔ اس چار سو سالہ لڑائی میں بدھ مت جو انسانوں پر اہنسا کا پاٹھ پڑھا کر برہمنوں پر بازی لے گیا تھا اُسے برہمنوں نے ایک قدم آگے بڑھ جانوروں پر اہنسا کا تصور پیش کرکے دوبارہ سیاسی غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

 

بھارت میں سنگھ پریوار گائے کو ایک سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور بھولی بھالی عوّام کو مذہب کے نام ورغلا کر اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے بظاھر تو یہ اپنے آپ کو جانوروں کے مسیحا بتاتے ہیں گائے کو ماں دیکھاتے ہیں مگر دُنیا دیکھ رہی ہے کے بیف ایکسپورٹ میں ہم دُنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور بیف ایکسپورٹ کرکے اربوں کما رہے ہیں خود بھارت میں کئی ریاستوں میں گائے ذبیح پر کوئی پابندی نہیں ہے اور اسے چھپانے کے لیے ایک اور ہتھکنڈا اپنایا گیا ہے کے فلا ریاست کی گائے ماتا ہے اور فلا ریاست کی گائے میتھون ہے یعنی یہ نسل والی گائے ماتا نہیں ہے یعنی وہ ذبح بھی کی جاسکتی ہے کھائی بھی جاسکتی ہے اور ایکسپورٹ بھی کی جاسکتی ہے۔ مگر یہ آفر آپ مسلمانوں کے لیے ولیڈ نہیں ہے اس کے لیے آپ کو ایک مخصوص کمیونٹی سے ہونا لازمی ہے۔

Comments are closed.