اترپردیش میں غیر رجسٹرڈ مدارس کی قانونی حیثیت، آئینی تحفظ، چیلنجز اور عملی اثرات
مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ، ندوۃ العلماء کے زیر اہتمام ایک علمی مذاکرہ کا انعقاد
لکھنؤ:17؍مئی(محمد نفیس خان ندوی)’’ مدارس کا قیام مسلمانوں کا آئینی حق ہے۔ اگرچہ مدارس کا رجسٹریشن کرانا لازمی نہیں، تاہم مدارس سے متعلق دیگر امور، خصوصاً تعمیرات، مالیات اور فنڈنگ میں شفافیت نہایت ضروری ہے۔ اسی طرح مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد دینی علوم کی تعلیم و اشاعت ہے، اس لیے مذہبی تعلیم اور جدید عصری تعلیم کو الگ الگ دائرے میں رکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ دونوں شعبوں کے لیے مستقل اور منظم ادارے قائم کیے جائیں تاکہ ہر نظام اپنی اصل روح اور مقصد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔‘‘
ان خیالات کا اظہار ایڈوکیٹ آفتاب احمد صدیقی (ہائی کورٹ، لکھنؤ) نے کیا۔ انھوں نے ہندوستان، خصوصاً اترپردیش میں مدارس کی تاریخی اور قانونی حیثیت پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کا یہ نظام کوئی نیا نظام نہیں، بلکہ اس کی ابتدا عہدِ تغلق سے ہوچکی تھی۔ بعد ازاں انگریزوں کے دورِ حکومت میں بھی یہ نظام برقرار رہا اور آزادی کے بعد بھی مسلسل جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں تعلیم سے متعلق جو نئے قوانین اور ضابطے سامنے آئے ہیں، ان کے نتیجے میں مدارس کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کے مستقل وجود پر سوالات کھڑے کیے گئے۔ تاہم مسلم وکلاء، دانشوروں اور دینی اداروں کی قانونی جدوجہد اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں بظاہر ان مسائل پر قابو پایا گیا، مدارس کے وجود کو تسلیم کیا گیا اور آئینی و قانونی طور پر انھیں تحفظ بھی حاصل ہوا۔تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس کے ذمہ داران کو اب بھی غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے، بلکہ بدلتے ہوئے قانونی و انتظامی تقاضوں سے باخبر رہنا چاہیے۔ نئے قوانین، حکومتی پالیسیوں اور عدالتی ہدایات کا مسلسل مطالعہ اور ان کی روشنی میں ضروری احتیاطی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، تاکہ مدارس کا نظام ہر طرح کے قانونی و انتظامی مسائل سے محفوظ رہ سکے۔
اس موقع پر معزز مہمان کی حیثیت سے ایڈوکیٹ سید فاروق احمد (ہائی کورٹ، لکھنؤ) بھی موجود تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کی جانب سے مدارس کے سلسلے میں جو ہدایات اور ضوابط جاری کیے جاتے ہیں، بظاہر انھیں مسلمانوں کی خیرخواہی اور قوم کی تعلیمی ترقی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس محسوس ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر واقعی حکومت کو نظامِ تعلیم کی اصلاح مطلوب ہوتی تو وہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی خستہ حالی پر بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیتی، جو براہِ راست حکومت کی نگرانی اور ذمہ داری میں ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت نہایت ابتر ہے؛ کہیں اساتذہ کی شدید کمی ہے، کہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، اور کہیں تعلیمی معیار انتہائی پست ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود ان اداروں کی اصلاح پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی، جبکہ مدارس کے معاملات میں غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا جاتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس طرزِ عمل کے پسِ پشت ایک اہم مقصد مسلمانوں کے دینی افکار و نظریات پر اثرانداز ہونا بھی محسوس ہوتا ہے، کیونکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ کی دینی، فکری اور تہذیبی رہنمائی کا بنیادی فریضہ انہی مدارس کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ مدارس صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اسلامی تشخص، دینی شعور اور ملی اقدار کے محافظ مراکز ہیں، اسی لیے ان کے نظام اور مزاج کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔
موصوف نے اپنے خطاب میں مدارس کے قانونی استحقاق اور ان کے تحفظ کے سلسلے میں جاری سرگرمیوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے علمی و عملی تجربات کی بنیاد پر قانون کی مختلف دفعات اور سرکاری ہدایات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان قوانین کا صحیح مفہوم کیا ہے، نیز موجودہ حالات میں مدارس کو کن قانونی تقاضوں کو اختیار کرنا چاہیے اور کس حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ مدارس کے تحفظ، قانونی رہنمائی اور بروقت چارہ جوئی کے لیے ضلعی سطح پر مضبوط اور فعال کمیٹیوں کی تشکیل ناگزیر ہے۔ ایسی کمیٹیاں ان افراد پر مشتمل ہوں جو بدلتے ہوئے قانونی و انتظامی نظام، سرکاری ضوابط، تعلیمی پالیسیوں اور عدالتی امور سے پوری واقفیت رکھتے ہوں، تاکہ کسی بھی مشکل یا قانونی پیچیدگی کی صورت میں مدارس کو فوری اور مؤثر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
آخر میں صدرِ مجلس مولانا عتیق احمد بستوی (سکریٹری مجلس تحقیقات شرعیہ )کا خطاب ہوا، جس میں انہوں نے اس ماہانہ پروگرام کی اہمیت و ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ اس نوعیت کی ماہانہ نشستیں مختلف قومی و ملی مسائل سے آگہی، حالاتِ حاضرہ کے صحیح فہم اور ملت کے لیے درپیش چیلنجز کو سمجھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔
مولانا نے آج کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ موجودہ حالات میں حکومت کی جانب سے مدارس کو مختلف پہلوؤں سے گھیرنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی کارروائی مکمل طور پر قانونی دائرے سے باہر ہوکر انجام دینا آسان نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اکثر ذمہ دارانِ مدارس قوانین اور سرکاری ضوابط کی صحیح جانکاری نہیں رکھتے، جس کے نتیجے میں وہ لاعلمی میں بعض ایسی کوتاہیوں کا شکار ہوجاتے ہیں جو بعد میں مشکلات کا سبب بنتی ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہت سے مدارس اور مکاتب محض قانونی امور سے عدم واقفیت، ضروری دستاویزات کی کمی اور سرکاری تقاضوں کو بروقت پورا نہ کرنے کی وجہ سے بند ہوگئے یا شدید دشواریوں سے دوچار ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس کے ذمہ داران قانونی شعور حاصل کریں، بدلتے ہوئے نظام کو سمجھیں اور ہر معاملہ میں منظم اور محتاط طریقے سے آگے بڑھیں، تاکہ دینی اداروں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
جلسہ کی نظامت مولانا نصر اللہ ندوی نے کی اور ہندستان میں اقلیت کے مذہبی حقوق اور مدارس کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ۔
اخیر میں سوالات و جوابات کابھی سلسلہ رہا.
اس پروگرام میں ندوہ طلباء واساتذہ کے علاوہ شہر کے معزز وکلاء کی ایک تعداد بھی شریک رہی۔
Comments are closed.