سرسید احمد ایک عبقری شخصیت

نظرعالم

قومی صدر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں

سرسید کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ بیک وقت ایک زبردست مفکر، بلند خیال مصنف اور جلیل القدر مُصلح تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کی اِصلاح کا بیڑا اس وقت اٹھایا جب زمین مسلمانوں پر تنگ تھی اور انگریز اُن کے خون کے پیاسے ہورہے تھے۔ اِن کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں تھیں۔ نوکریوں کے دروازے اِن پر بند تھے اور معاش کی تمام راہیں مسدود تھیں۔ سرسید دیکھ رہے تھے کہ اصلاح احوال کی اگر جلد کوشش نہیں کی گئی تو قوم، خان ساماں، خدمت گار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا کچھ اور نہ رہیں گے۔ سرسید اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایک موقع پر جو کچھ کہا ان سے ان کے دلوں میں چھپا قوم کا درد ہر ایک لفظ سے پھوٹتا ہوا دکھتا ہے، کہتے ہیں:

’’اے مری قوم کے لوگوں! اپنے عزیز اور پیارے بچوں کو غارت نہ کرو، ان کی پرورش کرو، ان کی آئندہ زندگی اچھی طرح بسر ہونے کا سامان کرو، مجھ کو تم کچھ ہی کہو، مری بات سنو یا نہ سنو مگر یاد رکھو کہ اگر تم ایک قومی تعلیم کے طور پران کو تعلیم نہیں دو گے تو وہ آوارہ اور خراب ہوں گے۔تم ان کی ابتر حالت کو دیکھوگے اور بے چین ہوگے۔ روؤگے اور کچھ نہ کرسکوگے۔ تم اگر مرجاؤگے تو اپنی اولاد کی خراب زندگی دیکھ کر تمہاری روحیں قبروں میں تڑپیں گی اور تم سے کچھ نہیں ہوسکے گا۔۔۔‘‘

کسی شاعر نے سرسید کی زندگی سے متاثر ہوکر کیا خوب شعر کہا ہے:

مری زندگی کا حاصل کہ سبھی کو فیض پہنچے

میں چراغِ رہ گزر ہوں مجھے شوق سے جلانا

 

ہاں وہ سرسید ہی تو تھے جنہوں نے اپنی قوم کو مہلک امراض سے نکالا، انہیں ڈوبنے سے بچاپا اور شاندار مستقبل کا حسین خواب دکھایا۔

سرسید نے اپنی اگر تمام صلاحیتوں کو کسی ایک رُخ پر مرکوز کردیا ہوتا تو شاید اُس شعبے میں سب سے بڑا ماہر ہونے کا اعزاز پاتے۔ اگر دین کی طرف جاتے تو بڑا عالم، سیاست تو ماہر سیاست داں، تعلیم تو ماہر تعلیم، شعرگوئی تو غالب اور اقبال کے ہم پلہ۔ مگر اِنہوں نے تخصیص کی راہ چھوڑ اپنی قوم کو تباہی کے گڑھے سے باہر نکالنے اور ترقی کا راستہ دِکھانے کا کام کیا۔

 

دنیاوی دستور کے مطابق اِنہیں بھی نہایت صبر آزما حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ کوہِ ہمالیہ سے اونچی رکاوٹیں سِدِّ راہ ہوئیں مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ناممکن کو ممکن کردکھایا اور اپنے مقصد میں بے حد کامیاب ہوئے۔ بقول’’محمد علی جناح‘‘

’’سرسید احمد خاں درحقیقت ایک جلیل القدر انسان تھے انہوں نے ایک ایسی مثال چھوڑی ہے جو ہر مسلمان کے لئے قابل تقلید ہے۔‘‘

 

سرسید کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پروفیسر آرنلڈ لکھتا ہے:

’’تاریخ سے معلوم ہوگا کہ دنیا میں بڑے آدمی اکثر گزرے ہیں اُن میں بہت کم ایسے نکلیں گے جن میں یہ حیرت انگیزاوصاف اور لیاقتیں مجتمع ہوں وہ (سرسید) ایک ہی وقت میں اسلام کا محقق، علم کا حامی، قوم کا سوشل ریفارمر، سیاست داں، مصنف اور مضمون نگار تھا۔۔۔ ہندوستان میں ایسے شخص کی مثال جیسا کہ وہ تھا کہاں مل سکتی ہے کہ نہ جاہ و مرتبہ تھا، نہ دولت تھی باوجود اِس کے ہندوستان میں مسلمانوں کی قوم کا سردار بن کر ظاہر ہوا۔ یہ وہ مرتبہ ہے جو اس سے پہلے کسی شخص کو بغیر تلوار کے زور سے حاصل نہیں ہوا۔‘‘

بے شک ان دو بزرگوں نے سرسید کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور حقیقت کا اعتراف کیا۔

سرسید کی تمام زندگی قوم و ادب کی خدمت میں گزری۔ ان کا نقطہ نظر تھا کہ قوم کی ترقی جدید تعلیم میں پوشیدہ ہے۔

 

زمانہ گردش کرتا رہتا ہے دورِ حاضر کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اگر سرسید نہ ہوتے تو مسلمان ۵۰ سال اور پیچھے ہوجاتے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ سرسید کے مشن کو آج بھی بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے مگر مشکل یہ ہے:

اب اُس کے بعد لشکر ہے، مگر افسر نہیں کوئی

بھٹکتا پھر رہا ہے قافلہ، رہبر نہیں کوئی

 

پھربھی میں نا اُمید نہیں ہوں ہاں مجھے نااُمید نہ ہونے کی وجہ سرسید ہی تو ہیں۔ سرسید احمد خاں کروڑوں کے اَنبوہ میں اُس وقت اکیلے تھے جنہوں نے ہندوستانی قوم کی بدحالی ختم کرنے پر اپنے آپ کو کمربستہ کرلیا تھا۔ اُن کے ساتھ بقول شاعر ’’لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘‘ کے مِصداق دردمندان اقوام کے وہ افراد اِکٹھا ہوگئے جو قوم کی بدحالی پر خوں کے آنسو روتے تھے۔ مجھے اُمید ہے کہ آج بھی کوئی نوجوان اُبھرکر آئے گا جن کے حوصلے و ارادے دونوں جوان ہوں گے اور پھر ایک بار قوم کو موجودہ بدحالی سے نکال باہر لے جائیگا۔ ضرورت ہے سرسید کے خدمات کو عام کرنے کی۔ اخیر میں اس شعر پر اپنی بات کو ختم کرنا چاہوں گا:

 

مت سہل ہمیں جانو پھرتاہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انساں نکلتا ہے

****

Comments are closed.