مدارس کے فارغین کے لئے طب کے شعبے نہایت مفید ، اس جانب توجہ کی ضرورت ہے
( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدارس کا تعلق علم طب سے بہت گہرا ھے ، ماضی میں طب یونانی کا بول بالا رہا ہے ، اس کی تعلیم مدارس ہی میں ہوا کرتی تھی ، یہی وجہ ھے کہ طب یونانی کی اکثر بڑی کتابیں عربی زبان ہی میں ہیں ، یہی نہیں بلکہ اکثر علمائے کرام پیشہ کے طور پر مدارس میں درس و تدریس کو نہیں اختیار کرتے تھے ، بلکہ پیشہ کے طور پر مطب کیا کرتے تھے ، ان کے مطب جسمانی امراض کے لئے بھی شفاء خانہ ہوا کرتے تھے اور روحانی امراض کے لئے بھی ،
ماضی میں تعلیم کے شعبے قائم نہیں تھے ، دیسی علاج کی جانب لوگوں کی توجہ زیادہ ہوتی تھی ، اس لئے مدارس ہی میں طب کی تعلیم ہوتی تھی ، بڑے اطباء و حکماء کے بھی اپنے ادارے ہوتے تھے ،جہاں وہ طلبہ کو طب کی تعلیم دیا کرتے تھے ،اور اپنے مطب میں دواسازی کی ٹریننگ دیتے تھے ، پھر دھیرے دھیرے تعلیم کے شعبے الگ کئے جانے لگے ، عصری اداروں میں شعبے الگ الگ قائم کئے گئے ، پھر حکومت نے پیشہ ورانہ تعلیم کے ادارے کھولنے پر زور دیا ، اس کے نتیجہ میں مدارس میں طب کی تعلیم بند ہوگئی اور الگ طبی کالج قائم کئے گئے ، اس طرح طب کی تعلیم مدارس میں بھی بند ہوگئی اور پرائیویٹ تعلیم کا سلسلہ بھی بند ہوگیا ، حکومت کی جانب سے طبی کالج کے قیام کے لئے شرائط مقرر کئے گئے ، جن شرائط کی تکمیل کے بعد ہی طبی کالج کو قائم کیا جاسکتا ھے ، اس طرح فارغین مدارس کے ایک بڑے پیشہ کا راستہ مسدود ہوگیا ، جو پیشہ فارغین مدارس کے لئے بہت مناسب تھا ، چونکہ طب کی تعلیم مدارس ہی میں ہوتی تھی ، اس طرح وہ حکیم بھی بن کر نکلتے تھے ، اب یہ سلسلہ بند ھوگیا تو فارغ ہونے کے بعد الگ سے طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے 5/6 سال لگا نا مشکل ھوتا ھے ، چونکہ ان سے اکثر غریب فیمیلی کے ھوتے ہیں ، اس کے متحمل نہیں ھو پاتے ہیں ، ویسے یونیورسیٹی اور حکومت نے بھی فارغین مدارس کے لئے گنجائش رکھی ھے ، اور اس کے لئے پری طب کا ایک سال کا کورس کرایا جاتا ھے ، مگر سیٹ بہت کم ھے ،اس کی وجہ سے بہت کم فارغین داخلہ لے پاتے ہیں ، زیادہ تر داخلہ سے محروم رہ جاتے ہیں ،
اللہ کا فضل ھے کہ بہت سے بڑے مدارس ہیں ، جن کے پاس وسائل دستیاب ہیں ، وہ اپنے فضلاء کی آگے کی تعلیم کے لئے طبی کالج قائم کر کے سرکار سے منظوری حاصل کر سکتے ہیں ، وہ جس طرح عوامی چندہ سے مدارس چلاتے ہیں ،اسی طرح طبی کالج بھی عوامی چندہ سے چلا سکتے ہیں ، یا اس کی یہ شکل کی جاسکتی ھے کہ جن طلبہ کا داخلہ لیا جائے ،ان سے بھی کچھ فیس لی جائے ، بہرحال فارغین مدارس کے لئے یہ بڑی ضرورت ھے ، اس جانب توجہ دی جائے ، تو ان کی ایک بڑی ضرورت کی تکمیل ہوگی ، اہل مدارس کے علاؤہ دیگر حضرات کے لئے بھی یہ لمحہ فکریہ ھے
موجودہ وقت میں حکومت کی جانب سے پرائیویٹ یونیورسیٹی قائم کرنے کی اجازت ھے ، پرائیویٹ یونیورسیٹی کو منظوری دی جا رہی ھے ، بڑے مدارس کے ذمہ داران اس انداز پر بھی غور و فکر کریں ، تو تعلیم کے لئے ایک نئی راہ ھموار ھوگی ، اور ملت کی بڑی ضرورت پوری ہوگی ۔
Comments are closed.