صرف شیواجی مہاراج ہی نہیں بلکہ وزیراعظم مودی کی تصویربھی کرنسی نوٹوں پرہو:رام کدم

نئی دہلی(ایجنسی) عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال کی طرف سے ہندوستانی کرنسی نوٹوں پر بابائے قوم مہاتما گاندھی کے ساتھ ساتھ بھگوان گنیش اور دیوی لکشمی کی تصاویر شائع کرنے کے مطالبے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نےاب ایک نیاتنازعہ کھڑاکردیاہے۔بی جے پی لیڈر رام کدم نے نہ صرف فوٹو شاپ کے ذریعے چھترپتی شیواجی مہاراج کی تصویر کے ساتھ پانچ سو روپے کے نوٹ کی تصویر ٹویٹ کی ہے بلکہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ بھی نوٹ کی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے۔
رام کدم نے اپنے ٹوئیٹ میں چارتصاویرٹوئیٹ کی ہیں اورساتھ ہی اس طرح کے نعرے بھی لکھے ہیں:’’اکھنڈ بھارت… نیو انڈیا… عظیم ہندوستان… جئے شری رام… جئے ماتا دی…! یہ چاروں تصاویرفوٹوشاپ کی مددسے بنائی گئی ہیں، اورریزروبینک آف انڈیاکی جانب سے جاری کئے جانے والے 500 روپے کے نوٹ پر بابائے قوم مہاتما گاندھی کی جگہ، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر’جنہیں آئین کے معمار کہا جاتا ہے‘ ، چھترپتی شیواجی مہاراج، ونائک ساورکر اور وزیراعظم نریندر مودی کی تصویریں ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اس سے قبل بدھ کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے انڈونیشیا کی کرنسی پر بھگوان گنیش کی تصویروں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ہندوستانی کرنسی نوٹوں پر بھگوان گنیش اور دیوی لکشمی کی تصویریں بھی لگائی جائیں۔ اس کے بعد بی جے پی لیڈروں نے اس مطالبہ کا مذاق اڑانا شروع کیا، اور الزام لگایا کہ یہ مطالبہ عام آدمی پارٹی کی ہندو مخالف ذہنیت سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔

بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے اس سے قبل چھترپتی شیواجی مہاراج کی تصویر کے ساتھ 200 روپے کے نوٹ کی تصویر بھی ٹویٹ کی تھی۔ نتیش رانے کے علاوہ، بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پاترا نے بھی نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران اروند کیجریوال کے مطالبے کو AAP کی ’یو ٹرن سیاست‘ کی توسیع قرار دیا تھا، اور اسے منافقت قرار دیا تھا۔ ایک اور سینئر بی جے پی لیڈر منوج تیواری نے بھی اس مطالبے کو’ ’آپ کی طرف سے انتخابات سے پہلے چہرہ بچانے کی کوشش قرار دیا تھا، جو ہندو دیوتاؤں کے ساتھ ’بدتمیزی‘ کرتا ہے‘‘۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے یہ بھی کہا تھا، ’’جو لوگ رام مندر کی مخالفت کر رہے تھے، وہ نیا نقاب لے کر آئے ہیں…‘‘

Comments are closed.