اروند کجریوال کے قدم ہندتوا کے اور بڑھتے ہوئے

از:۔ مشاہد حسین (جرنلسٹ)

جناب ارویند کچریوال صاحب آج کل ایک ایسا ہندوتوا کارڈ کھیل رہے ہیں جس سے خود بی جے پی اپنی آپ کودفاع کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔بی جے پی آئی ٹی سیل بھی پریشان ہے کریں تو کریں کیا۔ اور ٹویٹر پر لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ بلی آخر تھیلے سے باہر آگئی ہے ۔ارویند کیچریوال نے کل ایک پریس کانفرنس میں اپنا ہندوتوا اثر دیکھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی کرنسی نوٹ پر گاندھی جی کے ساتھ ساتھ بھگوان گنیش اور لکشمی کی تصویر لگا نا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ انتہائی سنگین حالات میں بھی ہم بھگوان پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ ایسے میری اپیل ہے کہ بابائے قوم مہا تما گاندھی کے ساتھ لکشمی اور شری گنیش جی کی تصویر ہندوستانی کرنسی پر یعنی نوٹوں پر چھا پی جائے ۔اورنوٹ پر لکشمی اور گنیش کی تصویر لگانے کے کجریوار کے بیان کے بعد کانگریس اور بی جے پی دونوں پارٹیوں نے کجریوال کو ہندوتوا کارڈ کھیلنے کاالزام لگارہے ہیں۔اور بی جے پی کے سپوک پرسن سمبت پاترا نے کہا کہ کیجریوال نے ایک مرتبہ رام مندر کی تعمیر کی مخالفت کی تھی اور کہاتھا کہ ایودھیا میں اس مقام پر ایک ہاسپٹل بنایا جانا چاہئے ۔تو لہذا کہا یہ جارہا ہے آم آدمی پارٹی ایک طرح سے سوفٹ ہندوتوا کی سیاست کی طرف تیزی سے بڑھتے جارہی ہے ۔
اگست 2019
میں آم آدمی پارٹی نے بی جے پی کی طرف سے جموو کشمیر کی خصوصی حیثیت آرٹیکل 370کو ختم کیا اس وقت آم آدمی پارٹی نے اس کی حمایت کی ۔
فروری2020
کجریوال اپنے آپ کو ہندو ثابت کرنے کی جنگ میں لگے ہوئی تھے اور بی جے پی کو جواب دینے کیلئے ایک ٹی وی ڈبیٹ میں کجریوال نے ہنومان چالیسہ پڑھا۔
مارچ 2021
کیجریوال نے کہاتھا کہ ان کی حکومت دہلی میں رام راجیہ کا ماڈل قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔
مئی2022
گجرات میں آم آدمی پارٹی نے یہ اعلان کیا کہ اگر گجرات میں ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو ہر بزرگ کو ایودھیا کی یاترا پر لے جائے گی۔اورجیسا کہ گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران ایک ریلی میں منیش سوسودیا سے ایک رپورٹر نے پوچھا کہ آپ بلکیس بانو کے بارے میں کیوں نہیں بات کرتے ہیںاور جواب میں منیش سوسودیا نے کہا کہ ہم ایجوکیشن کے اوپر بات کرتے ہیں ۔یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آم آدمی پارٹی کو سیکولر لوگوں کی طرف شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔یہ اسی لئے کہاجارہا ہے کہ آم آدمی پارٹی تیزی سے ہندوتوا کی طرف پڑھتے جارہی ہے ۔اورکہا یہ جارہا ہے کہ کرنیسوں پر ہندو دیوی دیوتاوں کی تصویریں لگانے کا کام درحقیقت بھارت کے سسٹم میں ہندوراشٹر کے عملی نفاذ کی طرف ایک اور بڑا قدم ہوگا۔ اور کہا یہ جارہا ہے کہ اروند کیجریوال سنگھ کا بھاجپا سے زیادہ وفادار ہے،تو پھر کیا مودی سے زیادہ کیجریوال سے بچنا چاہیے ۔کیونکہ کیجریوال کا ہندوتوا مودی سے زیادہ چالاک ہے ۔

Comments are closed.