آخرکب تک؟

سمیع اللہ ملک
اس بات کوتسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کشمیرکے مسئلے کاپرامن تصفیہ ہی خطے میں ترقی کی ضمانت ہے۔قریباً 75برس سے یہ مسئلہ اس خطے کی سلامتی کیلئے آتش فشاں بناہوا ہے ۔اسی انسانی المیے کی وجہ سے دونوں نیوکلیئرپاورزہر وقت جنگ کے دھانے پرکھڑی رہتی ہیں۔اسی قضیے کی وجہ سے دونوں ممالک میں ترقی کی بہت سی راہیں مسدودہوچکی ہیں ۔ اسی تنازعے کی وجہ سے تعلیم صحت اورسماجی ترقی ان دوممالک میں مفقودہے۔دہائیوں اس قضیے میں الجھنے کے بعد بھی کسی ملک کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔دونوں ممالک میں دفاعی اخراجات اس متوقع جنگ کے نام پرہی بڑھائے جاتے ہیں۔اگر اس تنازعے کاپرامن حل ہوجائے تویہ نہ صرف اس خطے کیلئیبلکہ بین الا قوامی امن عامہ کیلئے نہایت سودمندہوگا۔ اس سے خطے میں امن ہوگا،ترقی ہوگی اورسماجی بہبودپرخرچ کرنے کیلئیرقم بھی بچے گی۔غربت کے مارے ان دوممالک کواس حوالے سے ہرممکن کوشش کرناہوگی لیکن اس حل میں کشمیریوں کی رائے کواہمیت دیناہوگی۔ایساحل جومزیداختلافات کا باعث بنے وہ ان ممالک کی سلامتی کومخدوش کردے گا۔حل ایساہوناچاہیے کہ جس سے دونوں ممالک کے علاوہ کشمیریوں کی بھی حق تلفی نہ ہو۔
کشمیرپربھارت کے حالیہ بہیمانہ اقدامات پرہرپاکستانی شہری کوغم ہے۔اس خاموشی پربھی غم ہے جوہماری طرف سے اختیار کی جارہی ہے۔سوال صرف اتناہے کہ اگریہی ہوناتھا اور اسی حل کوہم نے راضی بہ رضاتسلیم کرلیناتھاتوپھراسے1948میں ہی تسلیم کرلیناچاہیے تھا۔اگریہی ہوناتھاتواتنے برس پاکستانیوں کوکشمیرکی آزادی کی ترانے کیوں سنوائے تھے،کشمیرمیں ماتم کرتی ہوئی عورتوں کے مناظرکیوں دکھائے تھے۔جنازوں پرروتے ہوئے بزرگ کیوں دکھائے گئے۔نہتی بچیاں مسلح بھارتی فوجیوں پرپتھراوکرتی کیوں دکھائی گئِیں،کشمیرکو پاکستان کی شہہ رگ کیوں کہاگیا۔کشمیرمیں ہونے والی جنگ آزادی کے حوالے سے ہمارے سینے کیوں گرمائے گئے۔یوم کشمیرکیوں اتنے جوش وخروش سے منایاگیا ۔ اب جب کئی نسلوں کی وابستگی اس سرزمیں کشمیرسے ہوگئی ہے توپھر1948 والے حل پرکیوں اکتفاکرلیاگیا۔یہ کام کئی دہائیوں پہلے کیوں نہیں کیا گیا۔میرے وطن کی کئی نسلیں تعلیم سے کیوں محروم رہیں،کیوں انہیں صحت کی سہولیات نہیں ملیں،کیوں یہ ملک ترقی نہ کر سکا؟
چندبرس قبل قومی اسمبلی میں کشمیرکے موضوع پردھواں دھاربحث ہوئی۔اس وقت لے لیڈ رآف دی اپوزیشن شہبازشریف نے نہایت درمندانہ لہجے میں تمام اختلافات بھلاکر کشمیر کے مسئلے پرحکومت کومکمل تعاون کایقین دلایا۔جواب میں وزیراعظم عمران خان نے دبنگ لہجے میں کہاکہ’’مجھے تعاون نہیں تجاویزچاہئیں۔کیاآپ چاہتے ہیں ہم بھارت کے خلاف جنگی محاذکھول دیں؟جنگ کاآغازکردیں؟‘‘اسمبلی کی اس کاروائی کودیکھ کربچوں کاوہ کھیل یادآگیاجس میں ایک بچے کی آنکھوں پرپٹی باندھ دی جاتی اوراسے دوسروں کو پکڑنے پرمامورکیاجاتاہے۔اس دفعہ المیہ یہ ہے کہ دونوں بچوں کی آنکھوں پرپٹی بندھی ہے اوردونوں نجانے کس کوپکڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔دونوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں آرہا اوردونوں ہی ’’پکڑلیا،پکڑلیا‘‘ کا شورمچارہے ہیں۔
اس لئے کہ اس فیصلے کومنسوخ یامنظورکرنے میں دونوں بے اختیارہیں۔بدقسمتی تویہ ہے کہ جونہی حکومت سے اپوزیشن میں آتے ہیں توفورایہ راگ الاپاجاتاہے کہ یہ منصب کبھی بھی سول قیادت کونہیں سونپاگیا۔ووٹ سے منتخب لوگوں کوکبھی اس کااختیارنہیں دیاکہ وہ خارجہ پالیسی میں کوئی رائے دے سکیں۔ہم نے کب ہتھیارڈالنے ہیں،کب ہتھیاراٹھانے ہیں، کب کسی ملک کواپنے صوبہ بنانے کاخواب دیکھناہے،کب چین کے ساتھ یاری لگانی ہے،کب ایران کے ساتھ اختلاف پیداکرناہے،کب جہادکیلئے چندے کی صندوقچیوں کوملک کی ہردکان کے باہررکھناہے،کب اسی جہادسے منکرہوجاناہے،کب بھارت کے وزیر اعظم کے ملک میں آنے کوغداری کہناہے اورکب مودی کومسلسل کالیں کرنے کوخارجہ پالیسی کہناہے؟
کب ایران سے تعلقات کے بارے میں بات کرنے کوفرقہ واریت کہناہے اورکب ایران کے قصیدے گانے ہیں۔ کب کسی وزیر اعظم پرکشمیرکے بورڈہٹانے پرغداری کی تہمت لگانی ہے اورکب کشمیرپربھارتی تسلط پرخا موش رہناہے۔کب فلسطین کی آزادی کیلئے ملک بھرسے ڈنڈابردارنوجوانوں کی ریلیاں نکالنی ہیں،کب یمن میں ہونے والے مظالم پر چپ سادھ لینی ہے۔کب امریکاکوصہیونی طاقت کہناہے اورکب امریکاسے ملاقات کیلئے شہزادوں کی مدد حاصل کرنی ہے۔کب مذہبی بنیادوں پرنکالے گئے جلوسوں میں موٹر سائیکلوں کونذرآتش کرناہے کب پرامن مظاہرے کرناہے۔کب کس کے حکم پراپنے ہی محب وطن افرادکوبین الاقوامی دہشتگردقراردیکرانہیں جیل کی ہوالگوانی ہے۔کب بھارت کے ساتھ تجارت کوملک دشمنی کہناہے کب تجارتی معاہدوں کیلئے تعلقات کی پینگیں بڑھاناہے اورکب عمران خان کے امریکامیں اسامہ بن لادن والے بیان پرچپ رہناہے۔
کب فاطمہ جناح کوغدارکہناہے اورکب مادرملت کی یادمیں اعزازی ٹکٹ کااجراکرناہے۔کب71کی جنگ کاملبہ مجیب الرحمن پرڈالناہے اورکب اسے بھٹوکی سازش کہنا ہے ۔ کب بگڑتی معشیت کاسہراگذشتہ حکومتوں پرڈالناہے اور کب اسی ابترمعشت کونیاپاکستان کہناہے۔کب مدرسوں پرچھاپے مارنے ہیں اورکب انہیں فنڈنگ مہیاکرنی ہے۔کب آپریشن ضرب عضب شروع کرناہے اورکب آپریشن ضرب قلم کاآغازکرناہے۔کب نوجوانوں کوبدراہ کہناہے اورکب انہیں انٹرنی بنا کر گالی گلوچ سکھاناہے۔کب کس چینل کومحب وطن قراردیناہے اورکب کس چینل کوملک دشمن قراردیناہے۔
کب صحافیوں کی تصویروں پرلال دائرے لگاکرانہیں اینٹی سٹیٹ قراردیناہے اورکب کس صحافی کوتمغہ حسن کارکردگی سے نوازناہے۔کب کس پرکفرکا فتویٰ لگناہے اورکب کسی درگاہ کی چوکھٹ پرسجدہ کرناہے اورکب کسی کے تعویذوں پرایمان لاناہے۔کب کسی وزیراعظم کوپھانسی پر لٹکاناہے کب کسی وزیراعظم کی کن پٹی پرپستول رکھ کرملک بدرکرناہے،کب کس منتخب وزیراعظم کے ہاتھ میں پکڑے جام والی تصویرکووائرل کرواناہے اورکب کسی ڈکٹیٹرکی کتوں کے ساتھ تصویرکھنچواکرفرنٹ پیج پرلگواکرماڈریشن کادرس دینا ہے،کب ماتھے پر جام رکھ کررقص کرنے والی تصویرکی نقاب کشائی کرناہے،کب ایف آئی آرکے سربراہ کی جام وسبوکی محفل میں بیہودہ رقص کوسوشل میڈیامیں وائرل کرناہے۔کب نیب کے ذریعے انتقام لیناہے اورکب اسی محکمے کے سربراہ کی ایک واہیات وڈیوسرعام لانی ہے۔کب اخباروں کے دفترجلانے ہیں،کب سارے ملک سے اخبارکی کاپیاں غائب کرنی ہیں اورکب
انہیں اخباروں میں شہہ سرخیاں لگواکراپنے لئے رائے عامہ ہموارکرنی ہے۔
اب کیایہ سمجھ لیاجائے کہ سیاسی لیڈروں کی وہ حیثیت ہے جیسے دوبچے آنکھوں پرپٹی باندھے ایک دوسرے کوپکڑرہے ہیں ،نہ کسی کوکچھ دکھائی اورسجھائی دے رہا ہے،نہ کسی کے پاس کوئی اختیارہے نہ کسی کی کوئی بساط ہے یاپھرسیاسی لیڈراپنی شعلہ بیانی اورالزامات کی بارش کی چھتری کے نیچے کھال بچانے کیلئے اپنے گندے کپڑے کسی اورکی لانڈری میں دھونے کاتاثردیکرقوم کو دھوکہ دے رہے ہیں۔آخراس کافیصلہ ہم کب کریں گے؟
بروزجمعرات۲ ربیع الثانی۱۴۴۴ھ۲۷/اکتوبر۲۰۲۲ء
لندن

Comments are closed.