مدنی (34) – عظیم مسلم مجاہدین آزادی جنہیں بھلادیا گیا
تحریر : مظاہرحسین عماد قاسمی
قسط (87)
ایک سو نوے سالہ انگریزی دور اقتدار میں کروڑوں مسلمانوں نے وطن عزیز ہندوستان کی حفاظت کے لیے جان و مال کی قربانیاں دیں ، ان میں حکام بھی تھے ، علماء اور ادباء بھی تھے ، اور عام مسلمان بھی ، ان میں سنی بھی تھے اور شیعہ بھی ، بڑے بڑے تہجد گذار اور پیر و مرشد بھی تھے ، اور بے نمازی مسلمان بھی ،
میں نے چند سال قبل ” مسلم مجاہدین آزادی ” کے عنوان سے ایک نظم لکھی تھی ، اس میں انیس مسلم مجاہدین آزادی کا ذکر ہے ، ان میں سے اکثر چوٹی کے بڑے علماء ہیں ،
ہم ایک بند لکھیں گے اور اس بند میں مذکور مجاہدین آزادی کا مختصر یا مفصل تذکرہ کریں گے ،
ہم نے اس مضمون کی پہلی قسط میں نواب بنگال نواب سراج الدولہ کا تذکرہ کیا تھا ،
دوسری قسط میں والی میسور حیدر علی کا تذکرہ کیا تھا
تیسری ، چوتھی اور پانچویں اقساط میں میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کا تذکرہ کیا تھا ،
چھٹی قسط میں *پٹنہ کے انقلابی مجاہد آزادی شہید پیر علی خاں "* کا تذکرہ کیا تھا ،
ساتویں اور آٹھویں اقساط میں اردو کے پہلے اخبار کے ایڈیٹر ،اور صحافی و ادیب ، شیعہ عالم مولوی محمد باقر دہلوی کا تذکرہ کیا ،
نویں قسط میں مولانا جعفر تھانیسری کا تذکرہ کیا ، دسویں قسط میں جامع معقولات و منقولات علامہ فضل حق خیرآبادی کا تذکرہ کیا ،
گیارہویں قسط میں انیس سو سنتاون کی جنگ آزادی کے کمانڈر ان چیف جنرل بخت خاں کا تذکرہ کیا،
بارہویں، تا چودہویں اقساط میں کالا پانی کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں ،
پندرہویں تا سترہویں اقساط میں قائد جہاد آزادی آخری مغل تاج دار بہادر شاہ ظفر کی تعلیم و تربیت ، اولاد ، شاعری اور ان کی قید رنگون وغیرہ کا تذکرہ کیا ،
اٹھارہویں قسط میں شہید آزادی حضرت حافظ ضامن شہید رح کا تذکرہ کیا ،
انیسویں اور بیسویں اقساط میں ہم نے شیخ العرب والعجم سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رح کا تذکرہ کیا ،
اکیسویں تا تیئیس ویں اقساط میں قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رح کا تذکرہ کیا ،
چوبیسویں تا اٹھائیس ویں اقساط میں ہم نے حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح کا تذکرہ کیا ،
انتیسویں تا اکتیسویں اقساط میں ہم نے حضرت نانوتوی رح کے فرزند ارجمند حضرت حافظ محمد احمد رح ، حفید رشید حضرت حکیم الاسلام قاری طیب رح ، حضرت حکیم الاسلام رح کے بیٹے خطیب الاسلام حضرت مولانا سالم قاسمی رح ، حضرت حکیم الاسلام کے حفید رشید حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی مدظلہ العالی اور ان کے صاحب زادے مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی صاحب کا تذکرہ کیا ،
بتیس ویں قسط میں جنگ آزادی کے ایک غیور سپاہی قاتل لارڈ میئو کا تذکرہ کیا ،
تینتیس ویں قسط تا بیالیس ویں قسط میں ہم نے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رح کا تذکرہ کیا ،
،
تینتالیس اور چوالیس ویں اقساط میں امیر جہاد آزادی حضرت حاجی ترنگ زئی رح کا تذکرہ کیا ،
پینتالیس ویں ، تا انچاس ویں اقساط میں ہم نے مولانا ابوالکلام آزاد رح کا تذکرہ کیا ،
پچاس ویں اور اکیاون ویں اقساط میں ہم نے امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رح کا تذکرہ کیا ،
باون ویں اور ترپن ویں اقساط میں آزادی ہند کی خاطر پوری زندگی جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے عظیم مجاہد آزادی اور مبلغ اسلام مولانا برکت اللہ بھوپالی رح کا تذکرہ کیا ،
چون ویں قسط سے ہم شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح کا تذکرہ کر رہے ہیں ،
*اور اس ستاسی ویں قسط میں بھی شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رح کا ہی تذکرہ کریں گے* ،
*کیا جانتے ہو محمود کو تم، کیا مالٹا بھی ہے یاد تمہیں؟*
*آزاد کی ،سندھی،برکت کی، مدنی کی بصیرت بھول گئے؟*
*شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح، (1296/1879-1957)(34)*
*شیخ الاسلام رح اور جہاد آزادی (21)*
*علامہ اقبال رح اور شیخ الاسلام مدنی رح (6)*
*ڈاکٹر محمد اقبال کی بانی پاکستان محمد علی جناح پر تنقید و ترجیع (2)*
مولانا حکیم فضل الرحمان سواتی رح لکھتے ہیں ،
” میں نے علامہ اقبال کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ قطعہ تو بہت اچھا ہے لیکن جناح صاحب پر اس قدر سخت تنقید غیر مناسب ہے ، تمام لوگ قطعہ کو بہت پسند کر رہے ہیں مگر میں اس بارے میں آپ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ،
میں بھی آپ کی طرح جناح صاحب کا مخالف ہوں ناگ پور میں کانگریس کے اجلاس میں جب ان پر شیم شیم کی آوازیں کسی گئیں تو میں نے بھی زور زور سے شرم شرم کی صدا بلند کی،
میں پکا خلافتی اور کانگریسی یوں اور وہ ان دونوں کے سخت خلاف ہیں لیکن انہوں نے انیس سو اٹھارہ میں جو بہت اہم کام انجام دیا ہے اس کا اثر میرے دل و دماغ پر بہت زیادہ ہے ،
*جناح صاحب کا بہت اہم کام*
انیس سو اٹھارہ میں وزیر ہند لارڈ مانٹیگو (1) جب ہندوستان آئے تھے اور پورے ملک کا دورہ کیا تو ایک رپورٹ (4) لارڈ چیمپو (2)اور مانٹیگو کے نام سے مرتب کی گئی ، اس میں سفارش کی گئی تھی کہ ہندوستان میں کافی صلاحیت ہے اس لیے اسے اصلاحات ملنے چاہییں ، اس رپورٹ کی تائید تمام صوبہ جات کے گورنروں اور لفٹنٹ گورنر نے کی ، لیکن بمبئی کے گورنر لارڈ ولنگٹن (3) نے اس کی مخالفت کی کہ ہندوستان میں اصلاحات کی قابلیت نہیں ہے، ولنگٹن کے اس رویہ کی کسی نے مخالفت نہیں کی ، صرف مسٹر محمد علی جناح ہی تھے جنہوں نے مشرح اور غیر مبہم الفاظ میں مخالفت کی اور لارڈ ولنگٹن کو دشمن ہند کہا کہ ایسے دشمن ہند گورنری کے لائق نہیں ہیں ،
حکومت برطانیہ کو چاہیے کہ وہ انہیں واپس بلائے جب لارڈ ولنگٹن کی میعاد گورنری ختم ہوئی ، اور وہ لندن جانے لگے تو بمبئی کے کارپوریشن کی جانب سے لارڈ موصوف کے اعزاز میں جلسہ منعقد ہوا ، اس موقع پر مسٹر محمد علی جناح اور ان کی بیوی نے کالی جھنڈیوں سے لارڈ ولنگئن کا استقبال کیا، غیر قوم میں سے کسی کی یہ جرأت نہ ہو سکی،
لہذا میں آپ کی خدمت میں بادب التماس کرتا ہوں کہ اگر براہ کرم اس قطعہ کو اپنے مجموعہ اشعار سے خارج کر دیجئے گا،
خط لکھ کر دو ہفتے کے بعد جناب ڈاکٹر اقبال کا نوازش نامہ موصول ہوا جس میں آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ واقعی جوش میں آ کر میں نے چند تنقیدی اشعار لکھ دیے ہیں لیکن آپ کے خط نے میرے جوش کو فرو کر دیا،
میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے بروقت مجھے متنبہ کر دیا ، آپ کے سوا اور کسی نے مجھے نہ لکھا ہے اور نہ کسی نے زبانی ہی کچھ کہا ہے، اس بارے میں لکھنے والے آپ فرد واحد ہیں اطمینان رکھیے میں نے ان اشعار کو آپ ہی کے کہنے سے اپنے مجموعہ اشعار سے خارج کر دیا ہے
انیس سو اٹھائیس میں جب ڈاکٹر اقبال صاحب مدراس تشریف لائے تھے تو میں ان سے ملنے کی غرض سے مدراس گیا اور جناب یعقوب حسن سیٹھ صاحب کی معیت میں ان سے ملا ، سیٹھ صاحب نے میرا تعارف ان سے کرانا چاہا ،
آپ نے فرمایا ” میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں یہ اہل ایمان میں سے ہیں ،
*جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں*
*ادھر نکلے ادھر ڈوبے ، ادھر ڈوبے ادھر نکلے*
اور پھر فرمانے لگے انیس سو سترہ میں آپ لاہور آکر مجھ سے ملے ہیں ،میں نے اسرار خودی میں جو تنقید خواجہ حافظ پر کی تھی اس بارے میں آپ نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں ان تنقیدی اشعار کو اسرارخودی سے خارج کر دوں ، چنانچہ ان کے کہنے سے میں نے ان اشعار کو خارج کر دیا ،
پھر انیس سو اکییس میں مسٹر محمد علی جناح صاحب پر چند اشعار بطور تنقید لکھے تھے جن کو تمام اخبارات نے شائع کیا تھا ، اس بارے میں آپ کا ایک خط آیا تھا کہ ان اشعار کو اپنے مجموعہ سے خارج کرو ، میں نے ان کے لکھنے سے ان اشعار کو اپنے کلیات سے خارج کردیا ،
میں جانتا ہوں ہو یہ افغان ہیں ، جب کسی بات کے پیچھے لگ جاتے ہیں جب تک اسے حاصل نہیں کر لیتے چین سے نہیں بیٹھتے ، ”
ڈاکٹر محمد اقبال کی چند تنقیدات و ترجیعات از مولانا فضل الرحمان سواتی ثم آمبوری رح
الجمعیت شیخ الاسلام رح نمبر اشاعت دوم 10/ جولائی 1998
____________________________
*حواشی*
(1)ایڈون سیموئیل مونٹیگو پی سی (6 فروری 1879 – 15 نومبر 1924) ایک برطانوی لبرل سیاست دان تھا جس نے سترہ جولائی 1917 اور انیس مارچ 1922 کے درمیان ہندوستان کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے طور پر خدمات انجام دیں ۔
اس زمانے میں سیکریٹری آف اسٹیٹ کو ہی وزیر ہند کہا جاتا تھا , برطانوی دور حکومت میں سیکریٹری آف اسٹیٹ اور گورنر جنرل دو بڑے عہدے تھے ، موجودہ زمانے کے حساب سے گورنر جنرل صدر جمہوریہ ہند کی طرح اور سیکریٹری آف اسٹیٹ وزیر اعظم کی طرح تھا ، گورنر جنرل کو وائسرائے بھی کہا جاتا تھا ،
یہ دونوں عہدے بغاوت ہند 1857کے بعد 1858 میں تشکیل دیے گئے تھے ، اٹھارہ سو سنتاون تک ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان وغیرہ مقبوضہ ممالک پر ڈائریکٹ حکومت کرتی تھی ،اس کے بعد سے تاج برطانیہ کی حکومت رہی ،
مونٹیگو ایک "بنیاد پرست” لبرل اور بھارت کا تیسرا یہودی ( سر ہربرٹ اور سر روفس آئزکس کے بعد ) برطانوی حکمراں تھا۔
(2) چیمسفرڈ (12 اگست 1868 – 1 اپریل 1933) ایک برطانوی سیاستدان تھا۔ اس نے 1905 سے 1909 تک کوئنز لینڈ کے گورنر، 1909 سے 1913 تک نیو ساؤتھ ویلز کے گورنر اور 1916 سے 1921 تک ہندوستان کے وائسرائے کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں وہ مونٹاگو – چیمسفورڈ ریفارمز کی تشکیل کے ذمہ دار تھے۔
(3)تھامس، ولنگٹن مارکویس ( 12 ستمبر 1866 – 12 اگست 1941)، ایک سخت قسم کا برطانوی لبرل سیاست دان اور ایڈمنسٹریٹر تھا جو بمبئی کے بعد مدراس کا گورنر تھا ،
اسی کے زمانے میں انیس سو اکیس میں مالابار میں مسلمانوں کو تنگ کیا گیا اور جس کے نتیجے میں مالابار کے مسلمانوں نے بغاوت کی ، انیس سو چوبیس سے انیس سو اکتیس تک وہ کناڈا کا گورنر جنرل ریا ،اس کے بعد اٹھارہ اپریل انیس سو اکتیس تا اٹھارہ اپریل انیس سو چھتیس ہندوستان کا گورنر جنرل اور وائسرائے رہا ،
جنگ عظیم اول (1914-1918) سے جنگ عظیم دوئم ( 1939-1942) کے درمیان کوئی برطانوی حکمراں ہندوستانیوں کی حق میں بہت سخت تھا تو کوئی بہت نرم ، کوئی آزاد خیال تھا ، تو کوئی متعصب اور فرقہ پرست ،
انیس سو پانچ میں کے تقسیم بنگال کے نتیجے میں ہندوؤں کی بے چینی ، تحریک ریشمی رومال ، تحریک خلافت اور پھر ان دونوں تحریکات سے متاثر گاندھی ، نہرو اور آزاد کی کانگریس نے ہر ہندوستانی کے دل میں آزادی کی تڑپ اور گرمی پیدا کردی تھی ، اور اس گرمی کی تپش کو کم کرنے کے لیے انگریز حکام ہندوستان کو مراعات دینے پر مجبور تھے ، اس لیے کوئی انگریز حکمراں بڑی میٹھی باتیں کرتا تھا ،
مگر چونکہ وہ ہندورستان کو آزاد کرنا نہیں چاہتے تھے ، اس لے کوئی حکمران بڑی سخت باتیں کرتا تھا ،
آج بھی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ لیڈران مسلمانوں کے متعلق بڑی سخت باتیں کرتے ہیں ، اور کچھ بڑی نرم باتیں کرتے ہیں ، مگر عملا کوئی کچھ نہیں کرتا ،
انگریزوں نے اپنی خوشی سے ہندوستان کو آزاد نہیں کیا بلکہ ہندوستان کو آزاد کرنا ان کی مجبوری تھی ،
مولانا حبیب الرحمن صاحب قاسمی پالن پوری رح سابق مہتمم دارالعلوم چھاپی نے بڑا عمدہ شعر کہا ہے ،
*ہندوستاں کو ماہی مغرب نگل گئی*
*جب ہضم ہوسکا نہ تو آکر اگل گئی*
مولانا حبیب الرحمٰن پالن پوری صاحب رح گجرات کے ایک بہت بڑے عالم ، صاحب دیوان اور علامہ اقبال کے لہجے کے شاعر تھے ، انیس سو ساٹھ کے آس پاس کی دارالعلوم دیوبند سے ان کی فراغت تھی ،
صوراسرافیل“، ”حرکت آفاق“ اور”شہادت بابری مسجد“ ان کا مجموعہٴ کلام ہے ،
میرے والد صاحب مولانا اختر حسن قاسمی رح (15/دسمبر 1932- 18/اپریل 2012 )بھی انیس سو ساٹھ کے دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے ، کئی سالوں تک دار العلوم چھاپی ، پالن پور میں استاذ رہے ، میں نے بھی انیس سو اکیا سی – براسی میں دس سال کی عمر میں دارالعلوم چھاپی میں دورۂ حفظ کی تعلیم حاصل کی ہے ، اور مولانا حبیب الرحمن صاحب سے بات چیت کرنے اور ان کے گھر جانے اور وہاں کھیلنے کودنے کا شرف حاصل کیا ہے ،
ان کا گاؤں فیروز پور چھاپی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ،
میرے والد صاحب کا کمرہ دفتر اہتمام سے متصل ہی تھا ، اور میں والد صاحب کے ساتھ ہی رہتا تھا ، اور جب بھی موقع ملتا میں دفتر اہتمام میں گھس کر نئی دنیا ، صدق جدید ، الجمعیت جیسے اخبارات ورسائل پڑھنے میں مشغول ہوجاتا ،
ابتداء میں میرا دفتر اہتمام میں آنا مہتم صاحب کو ناگوار گذرا ، اور مجھے صاف منع کرنے کے بجائے چہرے کے تلون سے ڈرانے کی کوشش کی ، مگر میں کہاں ڈرنے والا تھا ، اس کے بعد وہ مجھ سے کچھ نہ کچھ سوالات کرتے رہتے ، اور میں جواب دیتا رہتا ،
چند دنوں کے بعد ان کو میری ذہانت ، شوق اور بے ضرری کا یقین ہوگیا تب وہ میرے اوپر مہربان ہوگئے ،
میرے گاؤں جوگیا سے دو کلومیٹر دوری پر واقع مولا نگر کے مولانا ماہتاب قاسمی صاحب نے اپنے گاؤں مولا نگر میں مولانا حبیب الرحمن صاحب رح کے نام پر جامعۃ الحبیب کے نام سے ایک مدرسہ دس پندرہ سال قبل قائم کیا ہے ، اور ماشاء اللہ مدرسہ اچھا چل رہا ہے ,
اس زمانے میں مشہور محدث مولانا زین العابدین قاسمی اعظمی رح ( 1932- 2013) سابق استاذ مظاہر العلوم سہارنپور بھی دارالعلوم چھاپی میں استاذ تھے ، وہاں اس زمانے میں وہاں چار اساتذہ غیر گجراتی تھے ، ایک بستی کے ، ایک بلیا کے ، مولانا زین العابدین صاحب رح پورہ معروف اعظم گڑھ کے ، اور میرے والد رح سیتا مڑھی بہار کے ، ان سب کی عمریں چالیس اور پچاس کے درمیان تھیں ، میرے والد اور مولانا زین العابدین صاحب رح ہم عمر تھے اور ان کی عمریں تقریبا پچاس سال تھی ، میرے والد صاحب اور مولانا زین العابدین صاحب رح ہم مزاج اور ہم خیال بھی تھے ،
مولانا زین العابدین صاحب رح اکثر مجھے اپنے گھر بلا کر لے جاتے اور اکثر عصر بعد بن بلائے ان کے یہاں میں چلا جاتا ، مجھے کھیل کود سے تو دل چسپی زیادہ تھی نہیں ،
میں عصر بعد اور جمعہ کے دن مولانا زین العابدین صاحب رح کے گھر چلا جاتا اور ان کے اس وقت کے چھوٹے بچے کو کھلانے میں لگ جاتا ، جو چھ ماہ یا سال بھر کا تھا ،
اب تو چالیس سال کا عرصہ گذر چکا ہے ، ان کے بچوں کے نام یاد نہیں ہیں ، البتہ خود مولانا زین العابدین صاحب رح کی صورت ذہن میں اس طرح نقش ہے گویا میں انہیں سامنے دیکھ رہا ہوں ،
4)لارڈ چیمپو اور مانٹیگو رپوٹ کو مونٹیگو چیمسفرڈ اصلاحات بھی کہا جاتا ہے ،
*مونٹیگو چیمسفرڈ اصلاحات*
پہلی جنگ عظیم میں کامیابی کے بعد تاج برطانیہ نے اپنی ہندوستانی رعایا کے لیے جنگ میں ان کے شاندار خدمات کے اعتراف کے طور پر اصلاحات اور مراعات کا ایک نیا پیکیج دیا۔ جسے اس وقت کے وزیر ہند مانٹیگو اور برطانوی ہند کے گورنر جنرل چیمسفورڈ نے مل کر مرتب کیا تھا۔ برٹش پارلیمنٹ نے ان اصلاحات کے بل کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کے نام سے پاس کیا۔ لیکن یہ عام طور پر مانٹیگو۔ چمسفورڈ اصلاحات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
*پس منظر*
گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کے پس منظر میں مندرجہ ذیل اصلاحات و واقعات قابل ذکر ہیں۔
*پہلی جنگ عظیم میں ہندوستانیوں کا کردار*
1919ء میں پہلی جنگ عظیم کو برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے ہندوستان اور ہندوستانیوں کی طاقت پر جیت لیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس عالمگیر جنگ میں تقریبا دس لاکھ ہندوستانی فوجی فرنگی سرکار کی طرف سے شریک ہوئے۔ جن میں 36 ہزار ہلاک اور 70 ہزار زخمی ہوئے۔
( ان ہی میں سے ہزاروں کے نام انڈیا گیٹ پر لکھے ہوئے ہیں ، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مجاہدین آزادی ہیں ، عماد قاسمی )
مالی امداد کی مد میں فوجی اخراجات کے لیے ہندوستانی خزانے سے ایک ارب 54 کروڑ روپیہ ادا کیے گئے۔ ان کے علاوہ وفادار ہندوستانیوں نے عطیے کے طور پر مزید ایک ارب روپیہ انگریز سرکار کی خدمت میں پیش کیے۔
*معاہدہ لکھنؤ*
جنگ کے دوران ہندوستانیوں میں جو سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں تھیں۔ ان میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے درمیان 1916ء میں طے پانے والا لکھنؤ کا سمجھوتہ کافی اہم تھا۔
اس سمجھوتے کے تحت ہندوستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے مطالبات ماننے اور انگریزوں سے مزید اصلاحات اور مراعات حاصل کرنے سے اتفاق کیا تھا۔
*ہوم رول کی تحریک*
ہندوؤں کے انتہا پسند رہنماؤں بال گنگا دھر تلک اور اینی بیسنٹ نے ہوم رول کے حصول کے لیے اپنی تحریک شروع کر رکھی تھی۔ جس سے ملک میں سیاسی بے چینی بڑھ گئی تھی۔
ان حالات و واقعات کی وجہ سے انگریز سرکار نے جنگ عظیم کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کے تحت برطانوی ہند کے لیے جن اصلاحات اور مراعات کا اعلان کیا۔ ان کا بنیادی مقصد ہندوستانی رعایا کو یہ باور کرانا تھا کہ تاج برطانیہ کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہندوستانیوں کو امورِ حکومت میں شامل کیا جائے تاکہ مستقبل میں ان کو ملک کے مکمل اختیارات سنبھالنے اور چلانے کے لیے اہل بنایا جاسکے۔
*رپورٹ کے نکات*
مانٹیگو۔ چیمسفورڈ اصلاحات کے چیدہ چیدہ نکات مندرجہ ذیل تھیں۔
1۔ برطانوی ہند میں پہلی مرتبہ ایمپرئیل لیجسلٹیو اسمبلی (مرکزی اسمبلی) کی جگہ دو ایوانی مقننہ کو متعارف کرایا گیا۔ جس کے ایوان بالا کو کونسل آف دی اسٹیٹ جبکہ ایوان زیریں کو لیجسلیٹیو اسمبلی کہتے تھے۔ ایوان زیریں کے کل 145 نشستیں تھیں جن میں 105 منتخب اراکین کے لیے جبکہ 40 انگریز سرکار کی طرف سے نامزد اراکین کے لیے مختص کر دی گئیں تھیں۔
2۔ برطانوی ہند میں پہلی مرتبہ صوبائی سطح پر دو عملی نظام متعارف کرایا گیا۔ اس نظام کے تحت صوبائی حکومت کے تمام محکمے دو گروپوں میں تقسیم کر دیے گئے تھے۔
مخصوص محکمے، جن میں فنانس، عدلیہ اور پولیس کے قلمدان شامل تھے کو گورنر کی ایگزیکٹیو کونسل میں شامل کونسلروں کے حوالے کیے گئے۔ ان کونسلروں کی تقرریاں ہز میجسٹی کی حکومت کیا کرتی تھیں اور یہ کونسلرز گورنر کے سامنے جوابدہ تھے۔
منتقلہ محکمے، جن میں تعلیمم، پبلک ہیلتھ، ایکسائز اور زراعت کے قلمدان شامل تھے۔ صوبائی وزراء کو دے دیے گئے۔ اور یہ وزراء صوبائی لیجسلیٹو اسمبلی کے سامنے جوابدہ تھے۔ صوبائی لیجسلٹیو اسمبلی کے کونسلروں میں 70 فیصد منتخب کونسلرز ہوا کرتے تھے۔
3۔ گورنر جنرل کی ایگزیکٹیو کونسل جو چھ ارکان پر مشتمل ہوا کرتی تھی، میں توسیع کرتے ہوئے ارکان کی تعداد سے متعلق پابندی ختم کر دی گئی۔ لیکن یہ شرط بدستور رکھی گئی کہ کونسل ہذا میں ہندوستانی ارکان کی تعداد تین سے کم نہ ہو۔
4۔ صوبائی سطح پر گورنر کو سربراہ مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری ہزمجسٹی کی حکومت پانچ سال کے لیے کرتی تھیں۔
5۔ جداگانہ طریقۂ انتخاب کے اصول کو نہ صرف برقرار رکھا گیا۔ بلکہ سکھ، انڈین کرسچین اور اینگلو۔ انڈین جیسی قومیتوں کو بھی یہ حق دیا گیا۔
6۔ رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ جو 33 ہزار سے بڑھا کر 55 لاکھ سے زیادہ کر دی گئی
7۔ وزیر ہند کی تنخواہ جو پہلے ہندوستانی خزانے سے ادا کی جاتی تھی اب انگلستان کے خزانے سے مقرر ہوئی۔
8۔ انڈین کونسلز ایکٹ 1919 کی ایک شق کی رو سے دس سال بعد ان اصلاحات کا جائزہ لینے، ان کو برقرار رکھنے، واپس لینے یا ان میں ترمیم وغیرہ کرنے کے لیے ایک آئینی کمشن مقرر کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا۔
*تبصرہ اور ہندوستانیوں کا رد عمل*
اگرچہ مانٹیگو۔ چیمسفورڈ اصلاحات کے نتیجے میں مرکزی مقننہ اور صوبائی لیجسلٹیو کونسلوں میں ہندوستانیوں اور غیر سرکاری اراکین کی تعداد میں اضافہ تو کر دیا گیا لیکن خصوصی اختیارات گورنر جنرل اور صوبائی گورنروں کے پاس تھے۔ وہ کسی بھی مسئلے میں ان کونسلروں اور کونسلوں کو By Passکر سکتے تھے۔ علاوہ ازیں مالیاتی امور میں مقننہ کے پاس کوئی قابل ذکر اختیار نہیں تھا۔ ہندوستانی Home Ruleکے طلبگار تھے لیکن انگریز سرکار نے ان صوبوں میں نیم ذمہ دار حکومت عطا کر دی۔ ہندوستانیوں کے سیاسی رہنماؤں نے ان اصلاحات کو ناکافی قرار دیا۔ خاص کر صوبوں میں دو عملی نظام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ کانگریس اور لیگ دونوں نے مزید اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
*نوٹ* : اس قسط کے حواشی طویل ہوگئے اور اس میں کچھ اپنی آپ بیتی بھی آگئی ، بات سے بات نکلی تو بات لمبی ہوگئی ،
جنہیں اس طوالت پر تکلیف پہونچی ہو، ان سے معافی کا خواستگار ہوں.
_______________
سلسلہ جاری ہے
Comments are closed.