’’فتنۂ گوہر شاہی دور حاضر کا بدترین فتنہ‘‘
خطاب جمعہ
(بتاریخ 06؍ جنوری 2023ء بروز جمعہ)
شائع کردہ: مرکز تحفظ اسلام ہند
+918495087865
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن و عَلَیٰ اَلۃِ وَ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ، أما بعد
فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ،بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ وَمَن یَّبتَغِ غَیرَ الاِسلَامِ دِینًا فَلَن یُّقبَلَ مِنہُ ،وَہُوَ فِی الاٰخِرَۃِ مِنَ الخٰسِرِینَ (سورۃ آل عمران، 85):صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْم
تمہید:
برادران اسلام، معزز سامعین!
اسلام ایک کامل ومکمل صاف ستھرا نہایت جامع دین ہے، جو قیامت تک چلنے والا ہے۔ اب مزید کسی دین کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا دین قابل قبول ہے۔ وَمَن یَّبتَغِ غَیرَ الاِسلَامِ دِینًا فَلَن یُّقبَلَ مِنہُ کہ اب اگر کوئی مذہب اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے دین کی پیروی کریگا یا خود سے اسلام کے نام پر کوئی نیا دین بنائیگا تو وہ عند اللہ ناقابل قبول ہے اورمردود ہے۔ اسی طرح حدیث شریف میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںمَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ (الحدیث متفق علیہ)
ترجمہ: جو ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کرے جو دین میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔
محترم حاضرین!جس دور سے ہم گزر رہے ہیں یہ انتہائی خطرناک اور فتنوں بھرا دور ہے، ہر دن ایک فتنہ اور ہر رات ایک فتنہ جنم لے رہا ہے، جو ہمارے اور ہماری نسلوں کے ایمان کو ختم کرنے کی ناپاک کوشش کررہے ہیں اور ہم سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری سب سے قیتمی متاع ہمارا ایمان ہے ،جسکے لئے ہم سب کچھ قربان کرسکتے ہیں مگر اپنے ایمان کا سودا نہیں کرسکتے۔ اس لئے کہ ابد الآباد کی زندگی میں صرف ایمان ہی ایسی دولت ہے، جس کی وجہ سے ہماری نجات ممکن ہے ورنہ ہمارے سارے اعمال ہکارت کرجائیں گے۔ اس لئے اپنے عقائد کو درست رکھنا ازحد ضروری ہے اور جان ومال سے کہیں زیادہ ایمان کی حفاظت لازمی ہے ۔ورنہ ہمیں ہمیشہ ہمیش کیلئے ناکامی ونامرادی کا سامنا کرنا پڑیگا، العیاذ بااللہ۔ انھیں نت نئے فتنوں میں ایک خطرناک فتنہ ’’ فتنۂ گوہر شاہی‘‘ بھی ہے ۔ جس کے متعلق کچھ ضروری باتیں ہم آپکی خدمت میں پیش کرنے جارہے ہیں ۔
جھوٹے مدعیان مہدویت اور فتنۂ گوہر شاہی:
حضرات! جن لوگوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کے لیے مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے ان کی خاصی تعداد ہے، جن میں برصغیر میں خاص طور پر مرزا غلام احمد قادیانی، شکیل بن حنیف، وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ انھیں جھوٹے دعویداروں میں ایک نام’’ ریاض احمد گوہر شاہی ‘‘کا بھی ہے، اس بدقسمت نے نہ صرف مہدی ہونیکا دعویٰ کیا بلکہ مختلف خطرناک دعوے کئے جن میں مہدی، کالکی اوتار، اور خدا کا روپ بلکہ رب الارباب ہونے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ اسکے موجودہ اندھے بھگت متبعین تو اسکو بے دریغ رب الارباب کہتے ہیں یعنی اللہ کا بھی رب اور باپ۔ یہ وہ منحوس ومکروہ دعویٰ ہے جسکا ارتکاب فرعون کے بعد شاید ہی کسی نے کیا ہو۔
الغرض پہلے ہم ریاض احمد گوہر شاہی کے متعلق کچھ باتیں پیش کریں گے پھر آئندہ مضمون میں اسکے موجودہ خلیفہ یونس الگوہر کے متعلق کچھ حقائق واشگاف کریں گے، ان شاء اللہ
فتنۂ گوہر شاہی کے بانی کا مختصر تعارف:
پیدائش اور خاندانی پس منظر:
حضرات! فتنۂ گوہر شاہی کے بانی کا نام ریاض احمد ہے،جو بابا گوہر علی شاہ کی پانچوں پشت سے ہے، والد کا نام فضل حسین مغل تھا، جو کہ ایک سرکاری ملازم تھا۔ یہ اپنے آپ کو سید کہتا ہے،مگر اصلاً یہ مغل ہے۔گوہر علی شاہ جو کہ سری نگر کے رہائشی تھا، وہاں اس سے ایک قتل سرزد ہوا، پکڑے جانے کے ڈر سے راولپنڈی آگیا اور نالہ لئی کے پاس رہائش پذیر رہا، جب انگریزی پولیس کا ڈر زیادہ ہوا تو فقیری کا روپ دھار کر تحصیل گوجر خان کے ایک جنگل میں ڈیرہ لگایا، جہاں کافی لوگ اسکے مرید ہو گئے اور جنگل کو نذرانے میں پیش کر دیا، یہی جنگل ڈھوک گوہر علی شاہ کے نام سے آباد ہوا اور یہیں ریاض احمد گوہر شاہی 25؍نومبر 1941ء میں پیدا ہوا۔
تعلیمی لیاقت:
اپنے گاؤں میں ہی مڈل پاس کیا اور پھر پرائیویٹ طور پر میڑک کیا، اس کے بعد ویلڈنگ اور موٹر میکینک کا کام سیکھ کر اس کی دوکان کھولی؛ مگر اس میں کوئی نفع حاصل نہ ہوا۔ حصولِ روزگار کے لیے پریشانی ہوئی تو اس نے سوچا کہ دادا والا کام دھندہ یعنی پیری مریدی شروع کر دی جائے۔ اس کے لیے ابتداء خانقاہ کے چکر لگائے۔خود لکھتا ہیکہ:
بے رہبر کے فضول مجاھدے اور شیطانی رنگینیاں:
’’کئی سال سیہون کے پہاڑوں اور لال باغ میں چلے اور مجاہدے کیے مگر گوہرِ مراد حاصل نہ ہوا اور پھر بری امام اور داتا دربار بھی رہا؛ مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘
مزید لکھتا ہیکہ: ’’اس کے بعد طبیعت بگڑ گئی۔ بیس سال کی عمر سے تیس سال تک ایک گدھے کا اثر رہا، نماز وغیرہ ختم ہو گئی، جمعہ کی نماز بھی ادا نہ ہو سکی۔ زندگی سینماؤں اور تھیٹروں میں گزرتی۔ حصولِ دولت کے لیے حلال و حرام کی تمیز جاتی رہی۔ بے ایمانی، جھوٹ اور فراڈ شکار بن گیا۔ (روحانی سفر ص: 13تا16)- پھر ایک مرتبہ عزم مضبوط کر کے سندھ کے پسماندہ اور غیر تعلیم یافتہ علاقے جام شورو ٹیکسٹ بک بورڈ میں جھونپڑی ڈال کر پیری مریدی شروع کر دی، کچھ کمزور عقیدہ لوگوں کی آمد شروع ہو گئی؛ لیکن قریبی یونیورسٹی کے پرنسپل نے سارا منصوبہ خاک میں ملا دیا اور جھونپڑی اُکھاڑنے کا حکم دیا، ہم نے چپ چاپ اکھاڑ لی (روحانی سفر،ص:8,9)
پھر حیدر آباد، سرے گھاٹ میں رہنے لگا، اپنے آپ کو سید ظاہر کیا جب کہ تھا مغل۔ سندھ کے لوگ چونکہ سید کے نام پہ مرتے ہیں؛ اس لیے اس کی کافی پذیرائی کی۔ یہیں سے شہرت ملی اور 1980ء میں اس نے کوٹری حیدر آباد، سندھ، خورشید کالونی سے ہی ’’انجمن سرفروشانِ اسلام‘‘ کی بنیاد ڈالی اور اپنے گمراہ کن عقائد کا پر چار شروع کیا۔ اس کے گمراہ کن عقائد و نظریات اور باطل دعوے مندرجہ ذیل ہیں۔
ریاض احمد گوہر شاہی کے کفریہ عقائد:
اللہ رب العزت کی توہین:
یہ ملعون اپنی کتاب میں لکھتا ہیکہ اللہ مجبور ہے اور شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا ہے۔ پھر مزید کہتا ہیکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر اللہ کے ہاتھ میں وہ انگوٹھی دیکھی جو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دی تھی۔ یعنی اس کے کہنے کا مطلب یہ ہیکہ نعوذبااللہ اللہ تعالیٰ زیورات کے محتاج ہوگئے ہیں۔ (یادگار لمحات، ص: 24)
اسی طرح اس کے ماننے والے بدنصیب ریاض احمدگوہرشاہی کو رب الارباب یعنی اللہ کا باپ مانتے ہیں اور یوں عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ یونس الگوہر کو ریاض احمد گوہر شاہی نے اللہ کے عرش پر بٹھایا تو پھر یونس سجدے میں گرگیا تو بازو میں دیکھا کہ نعوذباللہ من ذلک، اللہ تعالیٰ بھی ریاض احمد گوہر شاہی کے لئے سجدے میں گرگئے ہیں، یوں ریاض احمدگوہر شاہی رب الارباب ہوا کہ اللہ بھی گویا نعوذ باللہ اسکے لئے سجدہ کررہا ہے۔(ماخوذ از ویڈیو کلپ یونس الگوہر)
حضرات انبیاء کرام کی توہین:
حضرات! ملعون گوہر شاہی حضرت آدم علیہ السلام کو نعوذبااللہ حسد اور شرارتِ نفس کا مریض قرار دیتا ہے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کو جسدِ اطہر سے خالی اور شرک کا اڈا باور کرانا اور حضرت خضر علیہ السلام کا قاتلِ نفس گردانتے ہوئے ان کی توہین کرتا ہے۔(روحانی سفر)۔
موجودہ اسکا نمائندہ یونس الگوہر نالائق بھی اپنی ویڈیو کلپ میں حضرت آدم علیہ السلام کو دھکا دیکر نکالا ہوا نبی کہتا ہے۔
خود ساختہ کلمہ:
کلمہ میں محمد رسول اللہ کی جگہ اس ظالم نے گوہر شاہی رسول اللہ لکھوایا۔(حق کی آواز)
نیز اس وقت اس مردود کے متبعین بر ملا ’’لا الہ الا ریاض‘‘ کا ذکر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ سرکار گوہر شاہی کی آمد کے بعد جس نے بھی لا الہ الا اللہ پڑھاوہ مشرک ہے۔ (ماخوذ از ویڈیوکلپ یونس الگوہر)
نبوت کا دعویٰ:
اسی طرح ہندؤں میں ایک عقیدہ کالکی اوتار کا ہے کہ ایک مہان ہستی آخر میں آنے والی ہے، یہ آخری نبی کے معنیٰ میں ہے یہ ملعون دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کالکی اوتار میں ہی ہوں۔ (دور جدید کا مسیلمہ کذاب گوہر شاہی، ص:97)
خدائی کے منصب پر:
اسی طرح اس ملعون ریاض احمد گوہر شاہی نے 11؍ اپریل 1996 میں لاہور کے لکشمی چوک کے جلسۂ عام کے اسٹیج پر بیٹھ کر اپنی آٹھ برس کی صاحبزادی سے نذرانۂ عقیدت کے نام پر اشعار کے ذریعے اپنی خدائی اور رسالت کا اعلان کروایا۔ (عقیدت کے پھول، ص: 139)
قرآن پاک کا انکار اور توہین:
قرآن پاک کے بارے اس ملعون نے لکھا ہے کہ تیس پارے ظاہری قرآن پاک اور دس پارے باطنی ملا کر چالیس پارے ہوئے اور یہ ہم پر عبادات، ریاضات اور مجاہدات کے ذریعے منکشف ہوئے۔ (حق کی آواز، ص:52، 54)۔اسی طرح موجودہ تیس پارے والے قرآن کو ناقص قرآن اور شریعت کو ناقص شریعت کہتا ہے۔
شرعی قوانین طریقت پر لاگو نہیں ہوتے:
حضرات! چونکہ یہ ملعون دین و شریعت اور قرآن و سنت کا منکر ہے، مگر چونکہ براہ راست دین و شریعت کا انکار مشکل ہے اس لیے وہ طریقت کی آڑ میں شریعت کا انکار کرتا ہے۔ اور کہتا ہیکہ جس طرح دنیاوی قاعدے اور قوانین ہیں، اسی طرح شریعت اور طریقت کے بھی اپنے اپنے قاعدے اور قانون ہیں، اور جس طرح امریکہ کے قاعدے قانون، پاکستان میں لاگو نہیں ہوتے اسی طرح پاکستانی قوانین امریکہ میں لاگو نہیں کئے جاسکتے، طریقت کے قاعدے قانون شریعت پر اور شریعت کے قاعدے قانون طریقت پر لاگو نہیں ہوسکتے۔(حق کی آواز، ص: 10)
اسلام اور اسکے ارکان واحکام کی توہین:
نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر عبادات میں روحانیت نہیں ہے، روحانیت کا تعلق دل کی ٹک ٹک سے ہے۔(حق کی آواز، ص:3)
نماز پڑھنا گناہ ہے:
قرآن مجید فرماتا ہیکہ نماز پڑھ ورنہ گنہگار ہوجائے گا لیکن یہ ملعون ریاض احمدگوہر شاہی کہتا ہیکہ اگر نماز پڑھی تو گنہگار ہوجائے گا۔انہوں نے (دس پارے) کہا کہ جب نماز کا وقت آئے تو بس اسی کو دیکھ لے جس کی نماز ہے۔(آڈیو کیسٹ خصوصی خطاب نشتر پارک کراچی)
کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا:
قرآن مجید فرماتا ہیکہ ذرا بھی پانی پئے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، لیکن یہ ملعون کہتا ہیکہ دن رات کھاتا پیتا رہ تیرا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔(حوالۂ بالا)
اسلام واحد راہ نجات نہیں ہے:
اس ضمن میں لکھا ہے کہ روحانیت سیکھو خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اور جس نے روحانیت سیکھی چاہے اس نے کلمۂ اسلام نہیں پڑھا، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ (مینارۂ نور)۔
نیز لکھتا ہیکہ عیسائی، ہندو، سکھ اور یہودی اگر روحانیت سیکھ لیں تو بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک ان کی رسائی ہو سکتی ہے۔ (گوہر، ص:4، سرفروش پبلی کیشنز)۔
نشہ آور چیزوں کے حلال ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ بھنگ، چرس حرام نہیں؛ بلکہ وہ نشہ جس سے روحانیت میں اضافہ ہو حلال ہے خواہ مخواہ ہمارے عالموں نے حرام قرار دے دیا۔ (روحانی سفر)
بے حیائی :عورتوں سے مصافحہ، معانقہ اور جسم دبوانا درست ہے، روحانی سفر میں اس نے خود ہی اپنے چلے میں مستانی سے ملاقات اور اس کے ساتھ شب باشی کی فحش رو ئیداد تحریر کی ہے۔ (روحانی سفر، ص:۲۳) اور پھر عورتوں سے معانقہ و مصافحہ کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیا ہے کہ مولویوں نے اس کو حرام کیا ہے۔
مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ:
سوال نامۂ گوہر میں لکھا ہے:’’لوگ اگر ہمیں مہدی کہتے ہیں تو اصل میں جس کو فیض ملتا ہے وہ ہمیں اتنا ہی سمجھتا ہے(ص:8)۔ اس کے لیے بے سروپا اور جھوٹے دلائل دیے گئے ہیں؛چنانچہ لکھا ہے کہ میری تصویر چاند، سورج اور حجرِ اسود پر ظاہر ہو چکی ہے، یہ مہدی ہونے کی علامات میں سے ہے اور امام حرم حماد بن عبد اللہ نے حجر اسود کی تصویر کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ امام مہدی سے ملتی جلتی ہے۔ جبکہ اس وقت کے حرمین شریفین کی انتظامیہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی اور فرمایا کہ نہ تو اس طرح کہ کوئی تصویر حجر اسود پر ظاہر ہوئی ہے اور نہ اس نام کے کوئی امام حرمین میں موجود ہیں۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات کا دعویٰ:
اس کے علاوہ اس ملعون ریاض احمد گوہر شاہی نے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے اپنی جھوٹی ملاقات اپنی کتاب ’’حق کی آواز ص:17‘‘ میں ثابت کی ہے۔ ان کا ایک مرید لکھتا ہے کہ’’ دورۂ امریکہ کے دوران مؤرخہ 29؍ مئی 1997ء نیو میکسیکو کے شہر طاؤس کے ایک مقامی ہوٹل میں حضرت سیدنا گوہر شاہی سے حضرت عیسیٰ ؑ نے ظاہری ملاقات فرمائی، مرشد نے 28؍جولائی، 1997ء تک اس کو صیغۂ راز میں رکھا ،پھر اس سے پردہ اٹھانا مناسب سمجھا اور تفصیلات ارشاد فرمائیں-۔(اشتہار شائع کردہ سرفروش پبلی کیشنز)
اس جھوٹی ملاقات کے بارے میں خود لکھتا ہیکہ’’حضرت عیسیٰ چونکہ مہدی کے زمانہ میں وارد ہوں گے، میری ان سے ملاقات ہونا دلیل ہے، اس بات کی کہ میں مہدی ہوں۔‘‘
اسلام کی مقدس ہستیوں کی توہین:
اس کے علاوہ اولیاء اللہ کی توہین، حضرت رابعہ بصریہؒ جیسی پاکباز کو طوائف کہنا، شریعت اور طریقت کو الگ کرنا، حضورﷺ کی زیارت کے بغیر امتی نہ ہونے کا قول کرنا اور حضورﷺ سے بالمشافہ ملاقات اور علم سیکھنے کا مدعی ہونا اور اپنے لیے معراج اور الہام کا دعویدار ہونا، اس کی زہر افشانیوں میں شامل ہے۔ اپنے ان گمراہانہ عقائد و نظریات اور دعاوی کے اثبات اور ترویج کے لیے اس نے مندرجہ ذیل کتابیں لکھیں:
اسکی گمراہ عقائد پر مشتمل کتابیں: روحانی سفر، روشناس، مینارۂ نور، تخفۃ المجالس، حق کی آواز اور تریاقِ قلب وغیرہ۔
ریاض احمد گوہر شاہی کے متعلق مستند اداروں کے فتوے:
حضرات !اس کے ان گمراہانہ عقائد و نظریات کو دیکھتے ہوئے اور اس کی صفت دجالیت کو بر وقت بھانپتے ہوئے عالم اسلام کے نامور علماء اور دینی مدارس نے اس پر مرتد و کافر، ملحد، زندیق اور ضال و مضل کا فتویٰ صادر کیا، ان میں سرِ فہرست دیوبندی مکتب فکر کے اداروں مثلاً دارالعلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ، جامعہ بنوری ٹاؤن، اسی طرح بریلوی و اہل حدیث مکتب فکر کے علماء و اداروں نے بھی فتویٰ صادر فرمائے۔ اس کے اس جھوٹ کی تردید اس وقت کے امامِ کعبہ شیخ محمد بن عبد اللہ نبیل نے بھی کی کہ اس کی تصویر حجر اسود میں دیکھی گئی ہے اور فرمایا کہ اس وقت پورے حرم میں حماد بن عبد اللہ نامی کوئی امام نہیں ہے جس کا فرضی نام اس شخص نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے لیا تھا اور اس پر فتویٰ ارتداد بھی صادر فرمایا۔
خلاصۂ کلام:
سامعین کرام! الغرض فتنۂ گوہر شاہی دورِ حاضر کا بہت ہی خطرناک اور ایمان پر شدید ڈالہ زنی کرنے والا بدترین فتنہ ہے۔ ریاض احمد گوہرشاہی نے اللہ رب العزت کی شان میں بھی گستاخی کی، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بھی ہرزہ سرائی کی، اسی طرح آپکی پاکیزہ ذریت کی شان میں بھی گستاخی کی، قرآن وحدیث کا مذاق اڑایا ہے ارکان اسلام: نماز، روزہ ،حج و زکوٰۃ کی بھی اہانت کی بلکہ انکار کیا اور قرآن مجید کے چالیس پارے بتائے، قرآن میں تحریف کی، نیز شریعت وطریقت کو الگ کردیا، روحانیت کے نام پر مذہب کا قلادہ گلے سے نکال دیا اور مذہب کو غیر ضروری قرار دیا اور عشق وروحانیت کا راستہ بتاکر ٹھیٹ شیطانیت کا راستہ بنادیا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس فتنے کے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے، اسکے گندے اور غلط عقائد کو لوگوں کے سامنے لایا جائے، اسکے کفر و زندیقیت کو واشگاف کیا جائے ورنہ یہ فتنہ بہت خوبصورت عنوان روحانیت اور عشق کے نام پر بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جھانسے میں پھانس رہا ہے۔
اس فتنے کے سدباب کیلئے کرنے کے کام اور تدبیریں:
حضرات !جیسا کہ آپکے علم میں ہے ابھی کچھ دنوں پہلے اس فتنے کی سرکوبی اور تعاقب کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے’’ پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ‘‘ پھر اسکے بعد ایک عمومی’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ رکھی گئی تھی۔جسکے بہت مفید اثرات سامنے آئے، اس کانفرنس میں حضرات اکابر علماء کرام نے اس فتنے سے حفاظت کیلئے جن کاموں کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے ان میں چند یہ ہیں:
1) سب سے پہلے ہم امت کے سامنے اسلام کے بنیادی اور صحیح عقائد پیش کریں، توحید ورسالت کے متعلق، قیامت و آخرت کے متعلق اسی طرح ختم نبوت، مہدویت اور نزول مسیح وخروج دجال کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئیوں کو پیش کیا جائے تاکہ صحیح عقیدے سامنے آئیں۔
2) اسی طرح مسلمانوں میں بنیادی دینی تعلیم کا انتظام کیا جائے، چھوٹے بچوں کیلئے مکاتب کے ذریعے، بڑوں کیلئے بالغان کے مکاتب کے قیام کے ذریعے، اسی طرح خواتین کیلئے بھی مکاتب اور اداروں کے ذریعے یا گھروں میں خاطر خواہ انتظام کیا جائے،خاص طور پر کالج اور اسکول میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات جو دین سے اکثر دور ہوتے ہیں ان کیلئے بنیادی دینی تعلیم کا انتظام کیا جائے اور دین کے بنیادی عقیدوں خاص توجہ دی جائے۔
3) جمعہ کے خطبوں ، جلسے اور اجتماعات کے ذریعہ انکے گمراہ عقائد کو بتلایا جائے اور اسلام کے صحیح عقائد پیش کئے جائیں، گھروں میں بھی عقائد پر خاص توجہ دی جائے۔
4) یہ دور دجالی فتنوں کا ہے اور سوشل میڈیا بھی آج کل ایک فتنہ بنا ہوا ہے اور گوہر شاہی فتنہ سوشل میڈیا ہی کے ذریعے اپنا پرچار کررہا ہے، اس لئے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ دین اپنے علاقے کے معتبر علماء سے سیکھیں سوشل میڈیا کے ذرائع خصوصاًوہاٹس ایپ، یوٹیوب، فیس بک اور انسٹگرام وغیرہ سے ہرگز نہ سیکھیں۔اس لئے کہ آج کل ہر ایک دین کا ٹھیکیدار بنا بیٹھا ہے اور گمراہیاں پھیلارہاہے۔
5) آج کل مہدی فاؤنڈیشن اور مسیحا فاؤنڈیشن کے نام سے یہ گوہر شاہیوں کی جماعت اپنی تبلیغ کررہی ہے، اور اس نام سے ان کی کئی سائیٹس بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ انکا موجودہ داعی اور محرک ملعون یونس الگوہر ہے، جو سوشل میڈیا کے ذریعے خاص طور پر الراء ٹی وی (ALRA TV) کے ذریعے سے اس فتنے کو پروان چڑھارہا ہے۔ طریقت وروحانیت کی خوبصورت باتیں کرکے لوگوں کو اپنے دامِ تزویر میں پھنسا رہا ہے اور بھولے بھالے مسلمان اس سے متاثر ہورہے ہیں۔یونس گوہر شاہی نے تو دو ہاتھ آگے بڑھ کر مزید خطرناک کفریہ نظریات کا اختراع کرکے ارتداد کا ایک نیا رخ پیش کردیا ہے ،گرچہ گمراہی اور ضلالت میں نیز کافر ومرتد ہونے میں دونوں یعنی ریاض احمد گوہر شاہی اور یونس گوہر شاہی دونوں برابر ہیں۔لہٰذا امت مسلمہ کو چاہیے کہ یونس الگوہر، الراء ٹی وی اور اسکے دیگر چینلز اور ویبسائٹ کو ہرگز ہرگز نہ دیکھیں۔
6) گوہر شاہی یا مہدی فاؤنڈیشن یا مسیحا فاؤنڈیشن یا الراء ٹی وی والے تصوف وسلوک کا لبادہ اوڑھ کر جگہ جگہ ہمارے اپنے علاقوں میں ذکر قلب کے نام پر مجالس منعقد کرتے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، یہ لوگ ان مجالس میں اپنی ناپاک زہریلی تعلیمات کے ذریعے ریاض احمد گوہر شاہی کو امام مہدی، کاکلی اوتار، نبی سے لیکر رب الارباب یعنی اللہ کا بھی رب تک ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ لہٰذا جب تک ذکر کی مجالس کے اہتمام کرنے والے اور وہاں پر شریک ہونے والوں کی مکمل معلومات حاصل نہ کرلیں تو ایسی مجالس میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔
7) گوہر شاہی کا فتنہ چونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ کام کررہا ہے اس لئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے اس فتنے کی سرکوبی اور تعاقب کیلئے’’ پندرہ روزہ رد فتنہ گوہر شاہیت مہم‘‘ بھی چلائی جارہی ہے۔ مرکز کی جانب سے مرکز کی سوشل میڈیا ڈیسک تحفظ اسلام میڈیا سروس کے ذریعہ فتنۂ گوہر شاہی کے متعلق آنے والے تمام ویڈیوز، آڈیوز اور اشتہارات وبیانات کو خوب عام کریں اور اپنے طور پر بھی جو ممکن ہو اس فتنے سے حفاظت کیلئے مکمل کوشش فرمائیں۔
یہ چند بنیادی باتیں تھیں جو آپکی خدمت میں بطور نمونے کے پیش کی گئیں۔آئندہ جمعہ ان شاء اللہ اس فتنے کے موجودہ محرک اور بدنصیب جانشین یونس الگوہر کے متعلق ضروری باتیں پیش کی جائیں گی، ان شاء اللہ
وَآخِرُ دَعْوَاہُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ
اس ایمان سوز فتنۂ گوہر شاہی سے متعلق مزید معلومات اور تحقیق کیلئے:
1) حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری صاحبؒ کی کتاب: ’’دورِ جدید کا مسیلمہ کذاب گوہر شاہی‘‘۔
2 ) حضرت مولانا محمد نواز فیصل آبادی صاحب کی کتاب:’’گوہر شاہیت اور قادیانیت اسلام کی عدالت میں‘‘۔
3) حضرت مولانا ابن لعلِ دین کی کتاب: ’’گوہر شاہی کی گوہر افشانیاں‘‘۔
4) حضرت مفتی نعیم صاحب کی کتاب: ’’ادیان باطلہ اور صراط مستقیم‘‘۔
کا مطالعہ کریں۔
خطاب جمعہ: بتاریخ 06؍جنوری 2023ء
بموقع: پندرہ روزہ رد فتنۂ گوہر شاہیت مہم
جاری کردہ: مرکز تحفظ اسلام ہند
Comments are closed.