بھارت جوڑو یاترا اور اپوزیشن اتحاد

 

عبدالرحمان صدیقی

(نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

راہل گاندھی کی پدیاترا کا دوسرا دور شروع ہوگیا ہے اور اترپردیش میں بالخصوص جاٹوں کی سرزمین مغربی اترپردیش میں جس والہانہ انداز میں استقبال ہوا ہے اور جس طرح ایودھیا کے سادھو سنتوں نے بھی اس یاترا کا خیر مقدم کیا ہے اور اس کی تعریف کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ یاترا بھلے ہی اترپردیش میں بی جے پی کے قلعہ کو مسمار کرنے میں کامیاب نہ ہو لیکن فضا میں ہلچل ضرور پیدا کردی ہے ۔ راہل گاندھی نے اترپردیش کی اہم سیاسی جماعتوں سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور مغربی اترپردیش کی سیاسی پارٹی راشٹریہ لوک دل کو پدیاترا میں شمولیت کی دعوت دی تھی لیکن کسی نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا، سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے پہلے یہ کہا کہ انہیں دعوت نامہ نہیں ملا پھر یہ کہہ دیا کہ کانگریس اور بی جے پی میںکوئی فرق نہیں ہے لیکن یاترا شروع ہونے کے بعد انہو ںنے کہاکہ میں جذباتی طور پر اس سے منسلک ہوں، مایاوتی نے خود کو یاترا کے لیے نیک خواہشات تک محدود رکھا اور جینت چودھری نے اپنے پیغام میں کہاتپسویوں کو سلام، اس سے آگے وہ بھی نہیں بڑھے، لیکن اس کے باوجود بی جے پی کے مقابلہ کےلیے اپوزیشن اتحاد کی سمت اسے مثبت پیش رفت کہاجاسکتا ہے۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں اترپردیش کی اپوزیشن پارٹیاں شامل نہیں ہوسکتی تھیں، کیوں کہ ان کو بھی اپنا وجود بنائے رکھنا ہے اور بی جے پی کی مخالفت میں پڑنے والے ووٹوں میں اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کرنا ہے۔

دوسرے مرحلے کی پدیاترا سے قبل سنیچر کے روز دہلی میں اپنی پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے جو کچھ کہا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صورت حال کی نزاکت سے بخوبی واقف ہیں، وہ نہ تو خود کسی بھرم میں مبتلا ہیں نہ عوام میں کسی طرح کا بھرم پھیلاناچاہتے ہیں، انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے تمام لیڈران نظریاتی طور پر کانگریس کے ساتھ ہیں، یہ اپنے اپنے علاقوں میں بی جے پی کےلیے چیلنج کھڑے کرسکتے ہیں لیکن قومی سطح پر بی جے پی کا مقابلہ صرف کانگریس کرسکتی ہے لیکن انہوں نے یہ اشارہ ضرور دیا ہے کہ جو اپوزیشن پارٹیاں جن علاقوں میں مضبوط ہیں وہاں ان کی موجودگی کا احترام کیاجائے گا اور قومی سطح پر ان کی اہمیت کو بھی تسلیم کیاجائے گا لیکن اپوزیشن کو کانگریس کے پرچم تلے جمع کرنے کی صلاحیت کانگریس پارٹی میں اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب پدیاترا کامیاب ہو اور کانگریس ایک ایسی پارٹی کی حیثیت سے ابھرکر آئے جو قومی سطح پر بی جے پی کو چیلنج کرسکے۔

اترپردیش نہیں ملک میں جتنی بھی علاقائی جماعتیں ہیں ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر سب بی جے پی سے ہاتھ ملا چکی ہیں، انہوں نے بی جے پی کی مدد سے ریاستوں میں حکومتیں بھی بنائی ہیں، اور مرکز میں وزارت بھی حاصل کی ہے، اس لیے کانگریس کےلیے ان پارٹیوں میں کشش اسی وقت پیدا ہوگی جب کانگریس اتنی مضبوط ہوجائے کہ وہ بی جے پی کو چیلنج کرسکے، مرکز میں اس وقت کہنے کو تو بی جے پی کی قیادت میں ایک مخلوط حکومت قائم ہے جسے این ڈی اے کا نام دیاگیا ہے لیکن عملاً بی جے پی کی ہی حکومت ہے اور این ڈی اے میں شامل علاقائی پارٹیوں کا عمل دخل بہت کم ہے، مودی اور امیت شاہ کے دور میں اتحادیوں کو وہ مقام واہمیت او رمرتبہ حاصل نہیں ہے جو آنجہانی اٹل بہاری واجپائی ، لال کرشن اڈوانی کے دور اقتدار میں حاصل تھی۔ آج مودی اور امیت شاہ کی قیادت والی بی جے پی علاقائی جماعتوں کو ایک حد سے زیادہ اہمت دینے کےلیے تیار نہیں ہے، کئی علاقائی پارٹیاں جو کسی وقت بہت جوش وخروش کے ساتھ بی جے پی کی اتحادی بنی ہوئی تھیں، آج الگ ہوچکی ہیں، ان میں اکالی دل اور شیوسینا کے نام قابل ذکر ہیں۔ اکالی دل شیوسینا اور دیگر علاقائی پارٹیوں میں یہ احساس بھی شدت سے جڑ پکڑرہا ہے کہ بی جے پی نہ صرف ان کو استعمال کرتی ہے بلکہ ان کو توڑنے کی بھی کوشش کرتی ہے، اس طرح کے عدم تحفظ کا شکار علاقائی پ ارٹیاں کانگریس کے پرچم تلے جمع ہوسکتی ہیں، شیوسینا کی مثال سامنے ہے، مہاراشٹر میں شیوسینا کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بناچکی ہے، اور حکومت کے خاتمے کے بعد بھی شیوسینا کے ساتھ کانگریس کا گٹھ بندھن برقرار ہے۔ سال ۲۰۲۳ سیاسی ہل چلوں کا سال ہے اور کئی اہم ریاستوں میں الیکشن بھی ہونے والے ہیں، دیکھنا ہے کہ راہل گاندھی ایک قومی رہنما کی حیثیت سے اپنی شناخت بناپاتے ہیں یا نہیں۔۔۔!

Comments are closed.