راہل کی دور کی سوچ

 

عبدالرحمان صدیقی

(نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

ملک کی سیاست میں راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے ایک ایسی ہلچل پیدا کردی ہے جو اس سے قبل غیر متوقع تھی ایسا لگ رہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کہیں تنہا اور کہیں حلیف جماعتوں کی مدد سے ریاستی اور بلدیاتی الیکشن ہارتے اور جیتتے ہوئے ۲۰۲۴ کے الیکشن تک پہنچ جائیں گے اور ۲۰۲۴ کا الیکشن بی جے پی ایک مرتبہ پھر نریندر مودی کی شبیہ کے سہارے آر ایس ایس اور دیگر ہندو تو وادی تنظیموں کی مدد سے جسے عرف عام میں سنگھ پریوار کہاجاتا ہے جیت جائے گی۔ ہوسکتا ہے اب بھی ایسا ہو ، آثاروقرائن بتاتے ہیں کہ مودی کےلیے ۲۰۲۴ کا الیکشن جیتنا ناممکن نہیں اور پدیاترا کے تمام تر شور شرابے اور ہنگامہ کے باوجود یہ پدیاترا کانگریس کو راہل گاندھی کی قیادت میں الیکشن نہیں جتا سکتی، ممکن ہے یہ تجزیہ درست ہو کسی حتمی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے دو باروں کو ذہن نشیں کرنا ضروری ہے۔ نریندر مودی ملک کے وزیراعظم ہیں، بی جے پی کے رہنما ہیں، بی جے پی ہر جگہ ان کا چہرہ سامنے رکھ کر الیکشن لڑتی ہے اور زیادہ تر مقامات پر جیت جاتی ہے اور اس جیت کا سہرہ نریندر مودی کے سر بندھتا ہے۔ مثال کے طو رپر گجرات کا حالیہ الیکشن اور اگر بی جے پی الیکشن ہار جاتی تو جو بی جے پی کا صدر ہوتا ہے شکست کے لیے اسی کو ذمہ دار ٹھہراکر قربانی کا بکرا بنادیاجاتا ہے، مثال کے طور پر ہریانہ میں بی جے پی کو شکست ہوئی تو اس کےلیے جے پی نڈا کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، اور پروپیگنڈہ کیاگیا کہ وہ اپنی آبائی ریاست میں بھی بی جے پی کو جیت نہیں دلا پائے۔

نریندر مودی بی جے پی کے لیڈر ضرور ہیں لیکن ان کا اپنا قد بی جے پی سے بہت اونچا ہوگیا ہے، پارٹی چھوٹی لیڈر بڑا، شخصیت نے پارٹی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا، پارٹی رسم ادائیگی بھر کی ہے، اصل چہرہ نریندر مودی کا ہے، نریندر مودی آر ایس ایس کے پرچارک ہیں، لیکن ان کا قد آر ایس ایس سے بہت اوناچ ہوگیا ہے، آج وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ آر ایس ایس کو پی ایم او کے ذریعہ کنٹرول کرسکیں۔ آج مودی انتہائی طاقتور ہیں، ماضی قریب میں ان کا موازنہ اندرا گاندھی سے کیا جاسکتا ہے، جن کی ذات میں تمام اختیارات مرتکز ہوگئے تھے، آج وہی حالت نریندر مودی کی ہے۔ سارے اختیارات کا مرکز ان کی ذات ہے، طاقت اور اقتدار کا سرچشمہ ان کی ذات ہے، بی جے پی کے اندر کسی لیڈر کے طاقتور ہونے کا پیمانہ یہ تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ آر ایس ایس کے دبائو کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں آجائے، اپنے اپنے دور میں آنجہانی اٹل بہاری واجپائی، اور لال کرشن اڈوانی کو یہ مقام حاصل ہوگیا تھا، آج نریندر مودی اس مقام پر پہنچ چکے ہیں، کہ وہ آر ایس ایس کو نظر انداز کرسکیں، مرکز او رملک کی بیشتر ریاستوں میں بی جے پی کے برسراقتدار ہونے کا فائدہ آر ایس ایس کو بھی مل رہا ہے اور اس تنظیم کے لوگ نہ صرف اقتدار سے لطف اندوز ہورہے ہیں بلکہ اس تنظیم کی مالی حالت بھی درست ہورہی ہے، اگر چہ آر ایس ایس کے قائدین کی وضع قطع اور رہن سہن کے طور طریقوں پر اقتدار کی چھاپ بہت زیادہ نہیں پڑی ہے لیکن طاقت اور اقتدار کا اپنا ایک الگ نشہ ہوتا ہے اور آر ایس ایس والے اس نشہ سے سرشار نظر آنے لگے ہیں۔

نریندر مودی کے اس بڑھتے ہوئے قد سے آر ایس ایس اور بی جے پی دونوں میں ایک طرح کی بے چینی پائی جاتی ہے، اگر چہ اس کا کھل کر اظہار نہیں ہوا ہے، لیکن راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے اس اندورنی بے چینی کو سطح پر لادیا ہے، ان کی بھارت جوڑو یاترا سے آر ایس ایس کے اندر ایک طرح کی بے چینی پیدا ہوگئی ہے ایودھیا کے سادھو سنتوں اور مہنتوں نے بھارت جوڑو یاترا کے تعلق سے جو رویہ اختیار کیا ہے اس سے ہندو تووادی خیمہ کی بے چینی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بے چینی ایک مرتبہ پھر مرکز اور ریاستوں میں اقتدار پر قابض ٹولہ کی مشکلات بڑھا سکتی ہے، اس کا اظہار جزوی طو رپر ۲۰۲۴ کے الیکشن میں او رکلی طو رپر ۲۰۲۹ کے الیکشن میں بھی ہوسکتا ہے۔

نریندر مودی کی ایک اور خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے تیور نہیں بدلے، اٹل بہاری واجپائی، اور لا ل کرشن اڈوانی سے اقتدار میں آنے کےلیے اور اقتدار میں آنے پر اپنی آئیڈیالوی کو کافی حد تک عملی سیاست کے تابع کردیا تھا، آئیڈیالوجی سے سمجھوتے کی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں۔ جارج فرنانڈیز سوشلسٹ نظریات کے تھے، اقتدار میں آنے پر وہ دائیں بازو سے ہم آہنگ ہوگئے، اسی طرح اندر جیت گپتا اور چترانن مشرا نے دیو گوڑا کی کابینہ کے رکن کی حیثیت سے اور سوم ناتھ چٹرجی نے لوک سبھا کے اسپیکر کی حیثیت سے اپنی کمیونسٹ آئیڈیالوجی کو طاق پر رکھ کر عملی سیاست کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کیا تھا، لیکن نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے بعد سے پہلے اوروزیر اعظم بننے کے بعد سے اپنے ہندو تو وادی تیور پر قائم ہیں، ان کی قیادت میں بی جے پی نے ملک کی سیاسی زندگی اور آئینی عہدوں سے مسلمانوں کا عملاً صفایا کردیا ہے، مسلمانوں کے خلاف قانون منظور کرائے ہیں، اکثر وبیشتر بالخصوص انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں پر طنز کرنے سے بھی نہیں چوکتے، رام مندر کی تعمیر، طلاق ثلاثہ مخالف قانون، کشمیر سے دفعہ ۳۷۰ کا خاتمہ ان کی کامیابیوں کی فہرست میں شامل ہے اس کے باوجود ان کو الیکشن جیتنے کےلیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے کیو ں کہ وہ غریبی وبیروزگاری ، مہنگائی اورمعاشی بدحالی کے اس دور میںہندو توا کی آئیڈیالوجی کو ایک حد سے زیادہ نہیں کھینچا جاسکتا، اسی راز کو راہل گاندھی نے سمجھ لیا ہے او روہ اپنی حکمت عملی ۲۰۲۴ سے زیادہ ۲۰۲۹ کے الیکشن کو مدنظر رکھ کر مرتب کررہے ہیں، جب ۲۰۲۴ کے الیکشن میں زور دار جھٹکے کے بعد ۲۰۲۹ میں دم توڑ دے گی اور کانگریس پارٹی بھی صاف ستھری قیادت کے ساتھ فرقہ پرستوں کو آر پار کی ٹکر دینے میں کامیاب ہوگی۔

Comments are closed.