حضرت مفتی نذیر احمد صاحب ،حیات و خدمات :ایک مختصر سوانحی خاکہ
مرتب: محمد انیس کشمیری
متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو
پیدائش و گھریلو حالات :
آپ (مفتی نذیر احمد بن حاجی ولی محمد) نے 6 ذی الحجہ 1384ھ مطابق 20 جون 1964ء کو علاقہ "بونجواہ” ، ضلع کشتواڑ کے ایک مفلوک الحال گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔ آپ کے والد بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے ، لیکن اس کے باوجود وہ تعلیم حاصل کرنے کے بے حد شوقین تھے۔ چناں چہ انہوں نے از خود اسکول میں داخلہ لیا اور پانچویں کلاس تک تعلیم حاصل کی۔ ان کا خاندان بہت غربت اور مفلوک الحالی کا شکار تھا ، اس لیے گھر کی خراب معاشی حالت کی بدولت ان کو بچپن میں ہی مزدوری کرنی پڑی ۔ وہ بچپن سے ہی بہت محنتی تھے ، اس لیے جلد ہی مزدور سے ایک معمار کے طور پر متعارف ہوئے اور رفتہ رفتہ علاقے کے بہترین معماروں میں ان کا شمار ہونے لگا ۔ چناں چہ ان کو علاقے کی اکثر مساجد کے محراب منفرد ڈیزائن کے ساتھ بنانے کا شرف حاصل ہے۔
اسکولی تعلیم پانچویں تک حاصل کے باوجود وہ کتابوں کے مطالعے کے بے حد شوقین تھے ، اس لیے وہ مطالعۂ کتب کے پابند تھے ۔ مطالعے کے لیے وہ کبھی کبھار خود کتابیں خرید لیتے اور کبھی دوسروں کے عاریۃ لے کر مطالعہ کرتے ۔
ایک دفعہ انہوں نے کسی سے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شہرۂ آفاق کتاب "حجۃ اللہ البالغہ” کا نام اور ساتھ میں اس کی جامعیت پر تعریفی کلمات سنے ، جوں ہی انہوں نے اس کی تعریفیں سنی تو فورا اس کو خریدنے کا مصمم ارادہ کر لیا ۔ اسی طرح ان کے سامنے کسی نے "امام غزالی” کی تصنیف "اِحیاء العلوم” کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اس کا اردو ترجمہ "مذاق العارفین” کے نام سے لکھنؤ سے شائع ہوا ہے ۔ تو ان سے رہا نہ گیا اور کسی طرح اس کتاب کو لکھنؤ سے منگوا ہی لیا اور پھر اس کا مکمل مطالعہ بھی کر لیا ، حالاں کہ یہ دونوں کتابیں (خاص کر اول الذکر کتاب) ان کی قوتِ فہم سے بہت بلند تھیں۔
آپ (مفتی صاحب) کے والد کے مزاج میں بچپن سے دین داری کا گہرا اثر موجود تھا ، اس لیے وہ نماز پنج گانہ (تکبیر اولی کے ساتھ ادا کرنے) کے پابند تھے ۔ تہجد و دیگر نوافل اور صلاۃ التسبیح ان کے روزانہ کے معمولات کا حصہ تھیں ۔ روزانہ کئی پاروں کی تلاوت کا معمول تھا ۔ اسی طرح وہ اذکار و اوراد کے پابند اور دعوت و تبلیغ کی تحریک کے سرگرم فرد بھی تھے۔
اسی دینی مزاج کی بنا پر انہوں نے اپنے بیٹے کی دینی تربیت کی طرف خاص توجہ دی اور آپ کو گھر کی پہلی اولاد ہونے کی وجہ سے سب کی طرف سے بے انتہاء محبت ، شفقت اور پیار ملا ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر ہی سے کیا ۔ آپ کے والد ماجد نے گھر ہی پر "یَسَّرْنَا الْقُرْآن” کے قاعدے سے آپ کی بِسْمِ اللہ کرائی ۔ پھر ناظرۂ قرآن کے لیے علاقے کے معروف استاد "مولوی احمد اللہ شیخ” کے مکتب گئے اور قرآن کریم کا ناظرہ مکمل کر لیا ۔ اس کے ساتھ آپ نے قرآن کریم کا ترجمہ بھی پڑھنا شروع کیا ۔ آپ نے اپنے بے مثال قوتِ حافظہ اور ذاتی شوق سے محض چھ سال کی عمر ہی میں "حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی” کا ترجمۂ قرآن (تحت اللفظ ترجمہ) مکمل زبانی یاد کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے مقامی اسکول میں بھی داخلہ لیا تھا ۔ وہ اسکول گاؤں کا پہلا اسکول تھا۔ اور اتفاق سے پہلا طالب علم جو اس اسکول میں داخل ہوا وہ آپ ہی تھے ۔ اس اسکول سے پانچوں کلاس تک تعلیم پائی۔ پانچویں جماعت میں پہلی پوزیشن آپ ہی کی تھی ۔ اس کے بعد علاقہ کے ہائی اسکول میں ایڈمیشن لیا جہاں سے آپ نے چھٹی (6th) کلاس پاس کر لی ۔ اس دوران آپ کے والد ماجد میں انہیں دینی تعلیم پڑھانے کا داعیہ پیدا ہوا ۔ اس لیے انہوں نے آپ کو دیوبند لے جانے کا عزم کر لیا ۔ چناں چہ آپ کے والد نے اس تنگ دستی کے زمانے میں آپ کو کندھے پر بٹھا کر تقریبا 15 میل کا سفر پیدل طے کیا اور کسی طرح ریل گاڑی میں بیٹھ کر دیوبند پہنچ گئے ۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا آٹھ برس کی تھی ۔
1972ء میں آپ مدرسہ اصغریہ دیوبند میں درجۂ حفظِ قرآن میں داخل ہوئے اور تقریبا ڈھائی سالہ عرصے میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی ۔ تکمیلِ حفظ کے بعد آپ "مدرسہ اسلامیہ خادم العلوم” باغوں والی مظفر نگر میں عربی درجات میں داخل ہوئے ۔ چار سال تک آپ نے عربی کے ابتدائی درجات اسی ادارے سے پڑھے اور پھر اعلی تعلیم کے لیے ام المدارس دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا ۔ آپ ابتداء ہی سے ذہین ، سنجیدہ مزاج اور محنتی تھے ، اس لیے ۱٤٠٤ھ مطابق 1984ء میں آپ نے دارالعلوم کے فضیلت (دورۂ حدیث) کا امتحان میں دیا اور دوسری پوزیشن سے فضیلت میں کامیاب ہوئے ۔ دورۂ حدیث میں آپ نے صحیح بخاری جلد اول حضرت مولانا نصیر احمد خان برنیؒ سے اور صحیح بخاری جلد ثانی حضرت مولانا عبد الحق اعظمیؒ سے پڑھی۔
فضیلت کے بعد آپ دارالعلوم کے قائم کردہ شعبہ "تکمیل علوم” میں داخل ہوئے ۔ اس میں آپ نے حضرت مولانا سعید احمد اکبر آبادی (تلمیذ رشید علامہ انور شاہ کشمیری) سے "حجۃ اللہ البالغہ” پڑھی اور ان سے آپ نے بھر پور استفادہ بھی کیا ۔
اس سے فارغ ہوکر آپ نے فتاوی نویسی کی تربیت کے لیے دار الافتاء میں داخلہ لیا ۔ اس میں آپ کو حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ (ان سے الإشباہ و النظائر پڑھی) ، حضرت مفتی نظام الدین اعظمی ، حضرت مفتی ظفیر الدین مفتاحی ، حضرت مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی، حضرت مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی کے دروس میسر آئے اور ان سے بھر پور استفادے کا موقع بھی ملا ۔ اس طرح آپ نے فتاوی نویسی (مفتی) کی سند حاصل کی۔
افتاء کی تکمیل کے بعد آپ نے قضاء کی تربیت کے لیے "امارات شرعیہ” پھلواری شریف پٹنہ کا رخ کیا ، جہاں آپ نے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کی خاص تربیت پائی ۔ اس طرح آپ نے قضاء کی سند بھی حاصل کی ۔
اس کے علاوہ آپ نے "جامعہ دینیات اردو دیوبند” (زیر سرپرستی حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی ؒ) سے "اردو و دینی نصاب” کے تحت امتحانِ "فاضل دینیات اردو” منعقدہ ذی الحجہ ١٤٠٠ھ مطابق اکتوبر 1980ء میں شرکت کی ۔ اور اس میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے کامیاب ہوئے ۔ اس میں آپ کے مضامین یہ تھے :-
(1) علوم قرآن کریم
(2) علوم حدیث
(3) فقہ
(4) دعوت و تبلیغ
(5) تاریخ اسلام
(6) ادب اردو
اس کے ساتھ "عربی ادب” بھی اختیاری مضمون کے طور پر شامل تھا ۔
آپ کی سند "فاضل دینیات” پر حضرت مولانا سالم قاسمی ، حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری ، حضرت مولانا نصیر احمد خان برنی ، مولانا اسلم صاحب (صاحبزادہ قاری محمد طیب قاسمی) ، مولانا نعیم صاحب (سابق شیخ الحدیث و التفسیر دارالعلوم وقف دیوبند) اور مولانا قاری عبد اللہ سلیم کی تصدیقات موجود ہیں ۔
"جامعہ دینیات اردو” سے فاضل کی سند حاصل کرنے کے بعد آپ نے نومبر 1984ء میں "جامعہ اردو علی گڑھ” میں "ادیب کامل” کا امتحان دیا ۔ اس میں آپ کے مضامین مندرجہ ذیل ہیں:-
(1) نثر اردو
(2) نظم اردو
(3) تاریخ زبان و ادب اردو
(4) تنقید
(5) انشاء و قواعد ، بلاغت و عروض
(6) عربی
(7) ثقافت اسلامی
(8) خصوصی مطالعہ (کلام اقبال)
آپ نے ان مضامین میں امتحان دیا اور دوسری پوزیشن کے ساتھ "ادیب کامل” کی سند پائی ۔ سند میں آپ کو "انشاء و قواعد اور بلاغت و عروض” کے مضامین میں ممتاز بھی قرار دیا گیا ۔
اردو شاعری میں آپ کو ڈاکٹر اقبال ؒ کے کلام اور ان کی فکر کے ساتھ کافی انسیت و لگاؤ رہا ہے ۔ دار العلوم دیوبند میں دینی تعلیم کی تحصیل کے دوران ہی آپ نے کلام اقبال کا تفصیلی مطالعہ کیا اور کلیات اقبال کا بہت سارا حصہ زبانی یاد بھی کیا ۔
اقبالیات کے سلسلے میں آپ نے مولانا عبد السلام ندوی ، ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم ، فقیر وحید الدین ، عبد الحکیم ، عبد المجید سالک ، شورش کاشمیری ، پروفیسر یوسف سلیم چشتی وغیرہ کا بھی مطالعہ کیا ، جس سے اقبالیات پر مزید بصیرت پیدا ہوئی ۔
جامعہ اردو علی گڑھ سے "ادیب کامل” کے بعد آپ نے جی-آر-پی-جی (GRPG) کالج رامپور سے 1987ء میں اردو ایم-اے (M.A) کی ڈگری مکمل کی ۔ اور اس کے امتحان میں پہلی پوزیشن کے ساتھ کامیاب ہوئے ۔
ایم-اے میں آپ کے مضامین درج ذیل رہے :-
(1) قصیدہ ، مرثیہ ، مثنوی
(2) افسانوی ادب
(3) نظم
(4) غزل
(5) ناول
(6) خصوصی مطالعہ (کلام اقبال)
اساتذۂ کرام :
آپ نے زمانۂ طالب علمی میں مخلتف اساطینِ علم و اصحابِ فضل اساتذہ سے استفادہ کیا ۔ آپ کے زمانۂ طالب علمی میں ہی جوہر کھلنے لگے ، چناں چہ چند سالوں میں ہی آپ اساتذہ کے محبوب شاگرد بن گئے اور اصحاب علم و فن کی توجہ کا مرکز بنے۔ آپ نے طالب علمی کے دوران جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ ان میں چند قابل ذکر نام یہ ہیں:
(1) حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ (بانی اسلامک فقہ اکیڈمی و سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)
(2) حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ (مفتی اعظم پاک و ہند)
(3) حضرت مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ (تلمیذ رشید علامہ انور شاہ کشمیریؒ و سابق صدر شعبۂ اسلامیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
(4) حضرت مفتی نظام الدین اعظمیؒ (سابق صدر مفتی دار الافتاء دارالعلوم دیوبند)
(5) حضرت مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانیؒ ( )
(6) حضرت مولانا نصیر احمد خان برنیؒ (سابق شیخ الحدیث اول و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند)
(7) حضرت مولانا عبد الحق اعظمیؒ (سابق نائب شیخ الحدیث ثانی دار العلوم دیوبند)
(8) حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ (شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند)
(9) حضرت مولانا ریاست علی بجنوریؒ (سابق استاد حدیث دار العلوم دیوبند)
(10) حضرت مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی (صدر مفتی دار الافتاء دار العلوم دیوبند)
(11) حضرت مولانا معراج الحق ۔۔۔۔۔۔ (سابق استاد فقہ دار العلوم دیوبند)
(12) حضرت مولانا حسین احمد بہاریؒ (سابق استاد منطق و فلسفہ دار العلوم دیوبند)
(13) حضرت مولانا جمیل احمد سکروڑیؒ (سابق استاد فقہ و حدیث دار العلوم دیوبند و شارح ہدایہ)
(14) حضرت مولانا سید ارشد مدنی ( استاد حدیث دار العلوم دیوبند و صدر جمعیت علماء ہند) ۔
آپ اپنے اساتذہ اور دیگر اکابرین سے استفادے کی خاطر بار بار ان کی خصوصی مجالس میں حاضر ہو جایا کرتے تھے ۔ آپ نے جن اکابر اساتذہ سے خاص استفادہ کیا ان میں حضرت مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ ، حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ، حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ وغیرھم سر فہرست ہیں ۔
تدریسی خدمات:
تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے پہلے پہل سرینگر شہر میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دئے ۔ اسی دوران دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے مہتمم صاحب نے آپ کو اپنے قائم کردہ ادارے میں بہ حیثیتِ مدرس مدعو کیا ۔ آپ نے اس سعادت کو صدقِ دل سے قبول کیا اور یوں آپ کا دارالعلوم رحیمیہ میں تقرر ہوا ۔ اس وقت یہ ادارہ ابتدائی مراحل میں تھا ، اس لیے ادارے میں آپ کی تشریف آوری کے معاً بعد عربی درجات میں بہ تدریج اضافہ ہوتا گیا ۔ چوں کہ آپ کی موجودگی میں ادارے میں عربی درجات ترقی کرتے گئے ، اس وجہ سے درس نظامی کی تقریبا تمام کتابیں (جیسے : علم صرف و نحو ، منطق و فلسفہ ، فقہ و اصول فقہ ، تفسیر و اصول تفسیر، حدیث و اصول حدیث) آپ کے زیر تدریس آئیں ۔
ادارے میں عالمیت کی اعلی تعلیم کے شروع ہوتے ہی تفسیر ، حدیث و فقہ کی تدریس آپ کے لیے مختص کی گئیں ۔ جب ادارے میں دورۂ حدیث کے درجے کا اضافہ ہوا تو "صحیح بخاری” و "جامع ترمذی” کی تدریس کے لیے آپ ہی کو منتخب کیا گیا۔
اسی طرح جب سے ادارے میں فتاوی نویسی کی تربیت کے لیے دار الافتاء کا قیام عمل میں آیا جب سے آپ طلبہ کو فتاوی نویسی کے اصول اور طریقہ سکھانے کے ساتھ مشق کرا رہے ہیں ۔ آپ کی تدریسی خدمات سے دارالعلوم رحیمیہ کو بڑی شہرت ملی ۔ کشمیر کے طول و عرض سے طلبہ اس کی طرف رجوع کرنے لگے۔
آپ درس کے بہت پابند ہیں ۔ آپ کا درس انتہائی سہل آسان اور جامع رہتا ہے ۔ طلبہ کو مشکل ابحاث سمجھانے اور حل کرنے میں آپ کافی تجربہ رکھتے ہیں ۔ آپ ایک بحث اور مسئلے کو کئی کئی مثالوں اور زاویوں سے سمجھانے کا بے مثال ہنر رکھتے ہیں ۔ آپ کا درس بخاری وادی کشمیر میں نہایت معروف ہے ۔ آپ کا درس مجادلانہ و مناظرانہ نہیں بل کہ محققانہ ہوا کرتا ہے ، اس میں تحقیقی نکات ، تجزیاتی معلومات اور استدلالی لطائف کا وافر ذخیرہ ہوتا ہے ۔ انہیں ممتاز خصوصیات کی وجہ سے وادئ کشمیر کے طول و عرض کے مدارس میں ختم بخاری کے جلسوں میں آپ کو آخری حدیث کے درس کے لیے مدعو کیا جاتا ہے ۔آپ کو کئی شیوخ حدیث سے حدیث کی اجازت بھی حاصل ہے (اس کی فہرست اگلی قسطوں میں آئے گی)۔
آپ کو درس نظامی کی اکثر کتابیں پڑھانے کا شرف حاصل ہے ۔ ابھی یہ کتابیں آپ کی زیر تدریس رہی ہیں:-
(1) نور الایضاح ، (2) مختصر القدروی ، (3) شرح الوقایہ (اول و دوم) ، (4) ہدایہ اولین ، (5) ہدایہ ثالث ، (6) کنز الدقائق ، (7) القواعد الفقہیہ المحمودہ ، (8) تفسیر جلالین ، (9) مقدمہ شیخ عبد الحق ، (10) نخبۃ الفکر مع الشرح ، (11) جامع ترمذی ، (12) صحیح بخاری
چند ممتاز تلامذہ :
(1) حضرت مفتی محمد ایوب قاسمی نقشبندی (خلیفہ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ و خلیفہ مجاز حضرت حافظ پیر ذوالفقار نقشبندی)
(2) مفتی محمد سلطان قاسمی (صدر المدرسین و صدر مفتی دار الافتاء مدرسہ سراج العلوم ، سرینگر)
(3) قاضی محمد عمران قاسمی (شیخ الحدیث دار العلوم بلالیہ ، سرینگر)
(4)مفتی عتیق الرحمن رحیمی (ناظم تعلیمات جامعہ امام الکبیر ، اننت ناگ)
(5)مفتی سجاد حسین رحیمی مظاہری (استاد حدیث دار العلوم رحیمیہ ، بانڈی پورہ)
(6) مفتی شفیق الرحمن قاسمی (دار العلوم اسلامیہ پنجورہ شوپیان)
(7) مفتی عظمت اللہ رحیمی (مفتی دار الافتاء دار العلوم رحیمیہ ، بانڈی پورہ)
(8) مفتی ذو الفقار قاسمی (مہتمم دار العلوم نعمانیہ بانہال)
(9) مفتی غلام محی الدین رحیمی (استاد حدیث و فقہ جامعہ امام الکبیر ، اننت ناگ)
(10) مفتی عبد الرؤف قاسمی (استاد ادب دار العلوم رحیمیہ ، بانڈی پورہ)
(11) مفتی ذاکر حسین رحیمی
(12) مفتی ممتاز رحیمی
(13) مفتی اعجاز احمد ندوی رحیمی
(14) مفتی نواز احمد رحیمی (استاد دار العلوم اسلامیہ پنجورہ شوپیان)
(15) مفتی محمد امین رحیمی لولابی
(16) مفتی طارق محمود رحیمی
(17) مفتی گوہر احمد رحیمی ترال
(18) وغیرہ (اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا)
متعلقہ ادارہ/ جامعہ / مناصب :
شیخ الحدیث و صدر مفتی دار الافتاء دار العلوم رحیمیہ بانڈی پورہ
رکن اسلامک فقہ اکیڈمی
رکن ادارۃ المباحث الفقھیّہ (جمعیت علماء ہند)
رکن ال انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (1999ء سے)
رکن المجلس الفقہی کشمیر
▪ ️سابق رکن ریاستی حج کمیٹی 2002ء
▪ ️سابق رکن مرکزی حج کمیٹی 2010ء
۔۔۔۔۔ جاری۔۔۔۔۔
aneeskashmiri313@gmail.com
Comments are closed.