تو بھی کافر وہ بھی کافر ، اب مسجدوں کو بچائے کون ؟؟؟
احساس نایاب شیموگہ کرناٹک
نام اپنے نئی مسجدیں تعمیر تو کرلی مگر
شہید مسجدوں کا حساب دے گا کون ؟
مانا کہ یہاں تو بھی ہے کافر وہ بھی ہے کافر
اب ان کفر کے ہاتھوں مسجدوں کو بچائے کون ۔۔۔۔۔۔ ؟
افسوس صد صد افسوس
فرقوں اور گروہ بندیوں میں بٹ کر اپنے ناموں کے آگے مختلف جماعتوں کے ٹھپے لگاکر گھوم رہے چند مسلمانوں کے درمیان آج اپنے اپنے فرقہ اور گروہ کے لئے مسجدوں پر مسجدیں بنانے کی جیسے ریس لگی ہے
وہیں دوسری جانب مسجدین ڈھانے کے لئے فرقہ پرست کمر بسطہ ہوچکے ہیں
حالات کی سنجیدگی کو دیکھتے سمجھتے ہوئے بھی مسلم ذمہ داروں میں مسجدوں کو بچانے کو لے کر کسی قسم کی فکر نظر نہیں آرہی ہے ۔۔۔۔
کیا ثواب صرف گروہ بندی اور مسجدین بنانے پر ہی ملتا ہے،
یہاں مسجدوں کو ڈھائے جانے سے روکنے کی ذمہ داری آخر کس کی ہے ؟
ایک ایک اینٹ مین جنت تلاش کرنے والوں کو آخر
مسجدوں کی گری درو دیوار کو دیکھ سے کیوں خوف نہیں آتا ؟
افسوس دشمنان اسلام کی نظروں کی میں مسجدیں خالص اللہ کے گھر ہیں، نبی کی امت کی عبادتگاہ ہیں
لیکن وہیں مسلمانوں کی نظر میں آج اللہ کا گھر بھی سنی تبلیغی، اہل حدیث و فلاں فلاں میں تقسیم ہوچکا ہے
مسجدوں کو ڈھانے والوں نے تو کبھی اس بات کی پرواہ نہیں کی ہے کہ اُن مسجدون میں جھکنے والے سر سُنیوں کے ہیں یا تبلیغیوں کے ۔۔۔۔
لیکن سر جھکانے والے ایک جسم کہلانے والوں میں ضرور اعتراض ختلاف ہے ۔۔۔۔
بیشک دشمنوں نے مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کردی ہے
لیکن اس سے زیادہ شرم کا مقام تو یہ ہے کہ آج مسلمان خود ظالم بنا اپنی ہی جانون پر ظلم کررہا ہے ۔۔۔۔۔۔
بابری مسجد ڈھائی گئی جس کے زخموں سے ابھی تک خوں رسنا بند نہیں ہوا ہے کہ ہبلی میں بھی درگاہ کی آڑ میں مسجد پر وار کئے گئے
اور مسلمانؤں کا مائنڈ ڈائورٹ کرنے کے خاطر مزار کا سہارا لیا کیا یوں مسلمانوں کے دل مسجد کی شہادت کے غم سے بھی محروم رہے ۔۔۔۔۔۔
مسلمانوں کی اس غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب ایک اور مسجد پہ فرقہ پرستوں کی گندی نظریں ہیں ۔۔۔۔۔
حال ہی میں سنگھیوں نے کرناٹک کے ضلع بیلگاوی میں ایک رہائشی مکان کو مسجد میں تبدیل کرنے پر اعتراض کیا ہے۔
بی جے پی اور ہندو کارکنوں کا الزام ہے کہ بیلگاوی کے سارتھی نگر میں ایک مکان کو مسجد میں تبدیل کرکے وقف بورڈ کے حوالہ کردیا گیا ۔۔۔۔
فی الحال اس مسجد کو غیرقانوی بتاکر ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے چلتے گزشتہ روز رات گئے چند شرپسندوں کی ٹولی بی جے پی خاتون ذمہ دار کی سرپرستی میں مسجد کے پاس اکٹھا ہوگئی تھی ، موقعہ کی اطلاع ملتے ہی مسجد کے اطراف پولس تائنات کردی گئی ۔۔۔۔۔۔
اس دوران شرپسند تنظیم سری رام سینا کے بانی پرمود متالک نے مسجد ہٹانے کے لئے ایک ہفتہ کی ڈیڈلائن دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سلسلے میں مقامی ذمہ داروں کی جانب سے پریس کانفرنس کیا گیا ، ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ اصل مالک نے جائیداد مولانا عبدالکلام ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کو عطیہ کی تھی جسے بعدازاں مسجد بنادیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
یہاں مسئلہ مسجد کے کب کہاں کیوں اور کیسے بنائے جانے کا نہیں ہے
بلکہ مسئلہ مسجد کے دستاویزات کا ہے جو ہمارے پاس یا تو گُم ہیں یا صحیح نہیں ہوتے
نہ ہی وقف ریکارڈ میں درج ہیں
ایسے میں آئے دن سنگھی شرپسندوں کی جانب سے تو کبھی حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے کبھی درگاہ کبھی مسجد کبھی قبرستان تو کبھی دیگر مدرسوں کو غیرقانونی بتاکر ڈھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔۔۔۔۔ اور یہ حالات صرف کرناٹک یا یوپی کے ہی نہیں ہیں بلکہ ملک بھر میں جہان جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے وہاں مسلمانوں کی عبادفاہیں اور دینی درسگاہین محفوظ نہیں ہیں
باوجود مسلمان خواب خرگوش میں چور فرقہ فرقہ کھیل رہے ہیں اور سال میں ایک بار بابری مسجد کی شہادت پر واٹس اپ اور فیس بک پر بابری مسجد کی تصویریں لگاکر خود کو مجاہد اعظم تصور کرتے ہوئے اپنی اصل ذمہ داریوں سے دست بردار ہورہے ہیں جبکہ ہر دن ملک کے کسی نہ کسی علاقے میں اللہ کا گھر ہماری مسجدیں ہمیں پکار رہی ہیں اور ہم مسلم برہمن بن کر اللہ کے گھر سے اللہ کے بندوں کو دور رکھنے کے خاطر مسجدوں کی درو دیوار پر اس عبارت کے ساتھ بورڈ لگائے جاتے ہیں کہ” فلان جماعت کے علاوہ کوئی جماعت مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی ” خلاف ورزی کرنے پر قانونی کارووئی کرنے تک کی دھمکی لکھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
ایسے میں مسلمانوں پر عذاب کیوں نہ آئے ؟
مسلمانوں پر ظالم حکمران کیوں نہ مسلط کیا جائے ؟
دشمن کے ہاتھوں ہمیں ذلیل و خوار کیوں نہ کیا جائے ؟
ہماری عبادت گاہوں پر غیروں کی حکمرانی کیوں نہ ہو ؟
ہماری مسجدوں کو بچانے کے لئے ابابیل کیوں کر بھیجے جائیں ؟؟؟
سوچیں ضرور مسلمانوں کے اندر ایسی کونسی اچھائی بچی ہے جس کے بدلے ہم اللہ کے غضب ، اُس رب کائنات کے جلال سے پناہ مانگیں۔۔۔۔۔۔ جبکہ ایک مسلمان کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کا خون مسجدوں کی درودیوار ، وہان کی فرش کو سُرخ کئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس جہالت اس درندگی کے بعد بھی ہم اللہ سے اپنے لئے رحم وکرم کی بھیک مانگ سکتے ہیں ؟؟؟
Comments are closed.