سی اے اے؛غیر ممکن ہے کہ غفلت کوئی صیاد کرے !

ڈاکٹر عابدالرحمن (چاندور بسوہ)
شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تحت قواعد وضع کرنے کے لیے مسلسل ساتویں بار مزید چھ ماہ کا وقت لیا گیا ہے ۔ سی اے اے دسمبر 2019 میں پاس کیا گیا تھاجس کا مقصد تو یہی بتایا جاتارہا ہے کہ اس سے پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان میں سرکاری ایذا رسانی کا شکار غیر مسلموں کوآسانی سے انڈین شہریت دینا ہے۔ لیکن یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ یہ بل دراصل اس لئے لایا گیا کہ آسام میں 1985کے آسام اکورڈ کے تحت سپریم کورٹ کے ذریعہ جو این آر سی کی گئی اس میں باہر ہوئے ہندوؤں کو شہریت دے کر بچایا جا سکے۔ اس کے بعد یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اس قانون کے بعد پورے ملک میں آسام کی طرز کا این آر سی ہوگا یعنی بات صاف کردی گئی کہ آسام میں جو غیر مسلم این آرسی میں شامل نہیں ہوپائے ہیں ان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں انہیں اس قانون کے ذریعہ دوبارہ بھارتی شہریت دے دی جائے گی اسی طرح پورے ملک میں اگر این آرسی کروائی گئی تو اس میں بھی باہر ہونے والے غیر مسلم اس قانون کے ذریعہ دوبارہ بھارتی شہری قرار پائیں گے۔
سرکاری ایذارسانی کے شکار لوگوں کو شہریت دینے سے کسے پرابلم ہوسکتا ہے انصاف پسند اور انسانیت نواز لوگ اس کی مخالفت نہیں کرسکتے لیکن اس کو صرف غیر مسلموں تک ہی محدود رکھنا پرابلم ہے اگر اس قانون کو قومی این آرسی سے نہیں بھی جوڑا جاتا اور صرف آسام تک ہی اسے محدود رکھاجاتا تو بھی یہ قابل قبول نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہاں تو اس کا بنیادی مقصد صاف ہے کہ یہ اس لئے بنایا گیا ہے کہ آسام کے این آرسی میں باہر ہوچکے غیر مسلموں کو توقانونی شہری بنایا جائے لیکن مسلمانوں کو باہر کا باہر ہی رکھاجائے۔ اور جب اسے ملک گیر این آرسی سے جوڑا جائے جیسا کہ کرونولوجی بتائی گئی تو بات اور واضح ہوجاتی ہے کہ اس کا نشانہ صرف یہ ہے کہ آسام کی طرح ایک سخت ترین این آرسی کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کودائرہء شہریت سے باہر کیا جائے۔ یعنی یہ قانون غیر مسلموں کو جس سرکاری ایذا رسانی سے بچانے کی بات کرتا ہے وہی ایذا رسانی اپنے مسلم شہریوں کے خلاف اسی ایذا رسانی کا اختیار سرکار کو دیتا ہے۔
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ عوام کو ہندو مسلم میں الجھا کر زمینی مسائل سے دور رکھنے کے لئے این آرسی کا شوشہ چھوڑا گیا ہے وغیرہ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بابری مسجد تنازعہ کے متعلق نہ صرف تجزیہ کاروں بلکہ خود ہندوتوا کیڈرس کی بھی یہی رائے تھی کہ اگر رام مندر بن گیا تو سیاست کس بات پر ہوگی لیکن ہم دیکھ چکے ہیں کہ بابری مسجد کس آسانی سے مسلمانوں سے چھین لی گئی اور اب کچھ دنوں میں رام مندر بھی بن کر تیار ہوجائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہندو مسلم کے نام جو بھی کھیل کھیلا جارہا ہے اس کا مقصد صرف عوام کو الجھانا ہی نہیں ہے بلکہ یہ تیر کا ایک نشانہ ہے دوسرا نشانہ اس کا یہ ہے کہ اکثریتی ووٹوں کے ذریعہ سیاسی طاقت حاصل کی جائے اور پھر اس کے بوتے پر جو کہا گیا یا جو ہندوتوا آئیڈیا لوجی کی دیرینہ خواہش ہے وہ پوری کی جائے ۔ اور اس سے مزید ہندو ووٹ کیش کئے جائیں۔
اس میں کوئی شک نہیںکہ اس قانون کے اصول ضوابط بنانے میں جو تاخیر ہورہی ہے اس کی وجہ شاہین باغ اور مسلمانوں کا ملک گیر احتجاج بھی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تاخیر شاید مناسب موقع کی تلاش کے لئے ہے۔ ہمارے احتجاج وغیرہ سے انہیں ڈر نہیں لگتا بلکہ احتجاج اور پھر اس پر سخت پولس کارروائی کے ذریعہ سیاسی طاقت کشید کی جاتی ہے لیکن اس ضمن میں ہمارے پاس احتجاج کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے قانونی طور پر ہم دیکھ چکے ہیں کہ ملک گیر احتجاج کڑاکے کی ٹھنڈی میں عورتوں بچوں اور بوڑھی ماؤں کے احتجاج کے دوران اس قانون کے خلاف زائد از دو سو عرضداشتوں کے باوجود بھی سپریم کورٹ نے اس قانون پرفوری سنوائی نہیں کی تھی اس کی عمل درآمد پر روک نہیں لگائی تھی،جبکہ اسی سپریم کورٹ نے ان زرعی قوانین پردو تین سماعتوں میں ہی روک لگادی تھی جن کے خلاف کسان احتجاج کررہے تھے یعنی سی اے اے اور این آرسی کے معاملے میں ہمیں کسی سے کوئی امید رکھے بغیراپنا راستہ آپ طے کرنا ہے۔ گو کہ ابھی خاموشی ہے لیکن یہ خاموشی طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہی ہوسکتا ہے اس اشو کو 2024 کے عام انتخابات کے لئے رکھا گیا ہو۔سو ہمیں اس طوفان سے نمٹنے کی تیاری سے کسی طور غافل نہیں رہنا چاہئے۔

Comments are closed.