ایک شریف ، اور سنجیدہ مزاج سیاسی قائد کی موت افسوسناک ہے

 

مظاہر حسین عماد قاسمی

کل 12 جنوری 2023 کو مشہور سماج وادی لیڈر شرد یادو کا دلی سے تیس کلو میٹر دور گروگرام میں، 75 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا ،

وہ سات بار لوک سبھا کے لیے اور چار بار راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے ، 1986 میں اتر پردیش اسمبلی سے لوک دل کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور جے ڈی (یو) کی طرف سے بہار اسمبلی سے تین بار 2004 ، 2014 اور 2016 میں راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے ۔
2014 کا انتخاب ضمنی تھا اور بقیہ دونوں انتخاب مکمل میعاد چھ سال کے لیے تھا ،
اگست دو ہزار سترہ میں نتیش اور شرد یادو کی راہیں الگ الگ ہوگئیں اور شرد یادو کی رکنیت معطل ہوگئی ،
وہ 2003 میں جنتادل متحدہ کے قیام کے بعد سے سال 2016 تک کے پہلے قومی صدر تھے,

*شرد یادو کی ذاتی زندگی*
شرد یادو 1 جولائی 1947 کو مدھیہ پردیش کے ہوشنگ آباد ضلع کے بابائی گاؤں میں نند کشور یادو اور سمترا یادو کے ہاں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنی بیچلر آف سائنس کی ڈگری رابرٹسن کالج جبل پور سے حاصل کی ، اور جبل پور انجینئرنگ کالج سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلر آف انجینئرنگ کی تکمیل کی ۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ماہر زراعت، ماہر تعلیم اور انجینئر تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی کیریئر ریاست بہار سے ہے۔ انہوں نے 15 فروری 1989 کو ریکھا یادو سے شادی کی، جن سے ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔
ان کی بیٹی سبھاشنی راجا راؤ نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے ۔
2020 کے بہار قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں مدھے پورہ ضلع کے بہاری گنج سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر لڑیں اور ہار گئیں۔ شرد یادو کا بیٹا شانتنو بنڈیلا یونیورسٹی آف لندن سے پوسٹ گریجویٹ ہے ۔

*شرد یادو کا سیاسی کیریئر*
پارلیمانی حلقے
شرد یادو 1974 میں ضمنی انتخاب میں مدھیہ پردیش کے جبل پور سے پہلی بار لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے ۔ یہ وہ وقت تھا جب جے پی تحریک اپنے عروج پر تھی اور وہ پہلے امیدوار تھے جنہیں شری جئے پرکاش نارائن نے ہلدار کسان کے انتخابی نشان پر سیاسی میدان کے لیے چنا تھا۔
1977 میں وہ اسی حلقے سے دوبارہ منتخب ہوئے۔ 1979 میں جب جنتا پارٹی الگ ہوئی تو شرد یادو نے چودھری چرن سنگھ کے دھڑے کا ساتھ دیا۔
انیس سو اسی میں شاید انہوں نے انتخاب نہیں لڑا ،
انیس سو چوراسی میں چرن سنگھ کی قیادت والی لوک دل کے ٹکٹ پر یوپی کے بدایوں سے انتخاب لڑا مگر ہار گئے۔
چھیا سی میں اتر پردیش اسمبلی سے لوک دل کے ٹکٹ پر راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور نواسی تک راجیہ سبھا کے ممبر رہے 1989 میں بدایوں (لوک سبھا حلقہ) سے ہی جنتا دل کے رکن کے طور پر منتخب ہوئے اور تھے۔

اس کے بعد، انہوں نے انیس سو اکیانوے سے دو ہزار انیس تک بہار کے مدھے پورہ لوک سبھا حلقہ سے انتخاب لڑا،
انیس سو اکیانوے ، چھیانوے ، ننانوے ،اور دو ہزار نو میں مدھے پورہ حلقے سے کامیاب ہوئے اور انٹھانوے ،دو ہزار چار ، دو ہزار چودہ اور دو ہزار انیس میں ہارگئے ،
انٹھانوے اور دو ہزار چار میں لالو پرساد یادو سے ہارے تھے ، شرد یادو جنتا دل متحدہ کے امیدوار تھے اور لالو راشٹریہ جنتا دل کے ،

شرد یادو دو ہزار چودہ میں راشٹریہ جنتا دل کے پپو یادو سے ہارے تھے ، وہ اس وقت بھی جنتا دل متحدہ کے امیدوار تھے
اور 2019 میں جنتا دل متحدہ کے دنیش یادو سے ہارے تھے جب شرد یادو نے راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا۔

*لوک تانترک جنتا دل*
انیس سو چورانوے سے دو ہزار چودہ تک شرد یادو نتیش کمار کے بڑے بھائی اور گرو کی طرح تھے ، اس زمانے کے وزیر اعلی بہار لالو پرشاد کی عظمت اور سیاسی انداز سے پریشان ہوکر ، جارج فرنانڈیز ، اور نتیش کمار وغیرہ نے مل کر سمتا پارٹی بنائی اور انیس سو پچانوے کے انتخابات میں بہار اسمبلی کی کل تین چوبیس سیٹوں میں سے تین سو دس اسمبلی نشستوں پر انتخاب لڑا مگر صرف سات سیٹیں حاصل ہوئیں ،
اب لالو کی طاقت کو ختم کرنے کے سمتا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ،
انیس سو چھیانوے کے لوک سبھا انتخابات میں سمتا پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کیا ،
انیس سو ننانوے کے پارلیمانی انتخابات میں نتیش کمار اور جارج فرنانڈیز نے جنتادل کے شرد یادو کو بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کا حلیف بن جانے پر راضی کرلیا ، انیس سو ستانوے میں لالو پرساد جنتادل سے الگ ہوگئے تھے ،
اور راشٹریہ جنتا دل کی تشکیل کی تھی ،
حالات کو دیکھتے ہوئے اور اپنی ایک سیاسی شناخت بچائے رکھنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کرنا اور نتیش کمار سے قریب ہونا شرد یادو کی مجبوری تھی ،
شرد یادو کی سب سے بڑی مجبوری یہ تھی کہ ان کی آبائی ریاست مدھیہ پردیش میں جنتادل کا کوئی اثر نہیں تھا ، اور وہ وہاں سے جنتا پریوار میں رہتے ہوئے ممبر پارلیمنٹ نہیں بن سکتے تھے ، اور بہار میں انہیں نتیش جیسے ساتھی اور بیساکھی کی ضرورت تھی ،
وہ جن نایک جے پرکاش ناراین کے پڑھے لکھے ، سنجیدہ اور ہوشمند یادو لیڈر تھے ، اور لالو پرساد کے مقابلے میں نتیش کمار کو شرد یادو کی سخت ضرورت تھی ،
مدھے پورہ میں لالو پرساد یادو اور شرد یادو کا مقابلہ کل تین بار ہوا، پہلے ( 1998) اور تیسرے مقابلے (2004)میں شرد یادو ہار گئے تھے ، مگر دوسرے مقابلے(1999) میں تیس ہزار سے زیادہ ووٹوں سے لالو پرساد کو ہرایا تھا ، اور واجپئی کی تیسری وزارت میں مرکزی شہری ہوا بازی کے وزیر بننے میں کامیاب ہوئے تھے ،
وہ ہمیشہ اپنی سیاسی مجبوری اور اپنے ضمیر کی آواز
کے درمیان ایک حد تک توازن رکھنے میں کامیاب رہے ،
دو ہزار تین میں سمتا پارٹی کو جنتادل میں شامل کرلیا گیا اور جنتادل کو جنتادل یونائیٹڈ ( متحدہ نام دیا گیا )
جنتادل یونائیٹڈ میں سب سے بزرگ لیڈر جارج فرنانڈیز تھے ، جو در اصل منگلور کرناٹک کے تھے مگر انیس سو ستہتر سے ان کی وفات 29/ جنوری دو ہزار انیس تک ان کی سیاست بہار سے پی چمکتی رہی ، وہ 1977، اور 1980 میں جنتاپارٹی کے ٹکٹ پر ، 1989, اور 1991 میں جنتادل کے ٹکٹ پر اور دو ہزار چار میں جنتادل متحدہ کے ٹکٹ پر بہار کے مظفر پور پارلیمانی حلقے سے کامیاب ہوئے تھے ، انیس سو چوراسی میں وہ مظفرپور سے ہارگئے تھے ، یہ الیکشن وزیر اعظم اندرا گاندھی کی دردناک موت کے بعد ہوا تھا ،
اور 1996, 1998 اور 1999 میں بہار کے ہی نالندہ پارلیمانی حلقے سے کامیاب ہوئے تھے ، دو ہزار نو کے انتخابات میں نتیش کمار نے جارج فرنانڈیز کو ٹکٹ نہیں دیا تھا ، دو ہزار پانچ میں نتیش کمار وزیر اعلی بن چکے تھے ، اور مرکز میں کانگریس اتحاد کی حکومت تھی ، اور نتیش کمار کو چھہتر سالہ جارج فرنانڈیز کی ضرورت نہیں تھی ، مگر بعد میں اگست دو ہزار نو میں انہیں راجیہ سبھا کے ایک ضمنی انتخاب میں ممبر راجیہ سبھا بنادیا تھا ، جس کی مدت صرف گیارہ ماہ تھی ، دو ہزار چودہ میں جارج فرنانڈیز نے بطور آزاد مظفرپور سے لوک سبھا کا انتخاب لڑا ، مگر بری طرح ہار گئے ، ان کی زندگی کے آخری دس سال بڑی پریشانی میں گذرے ان کے سیاسی شاگردوں نے ان سے دوری اختیار کرلی تھی ،
بھارتیہ جنتا پارٹی کو اچھوت سے محبوب بنانے کا کارنامہ جارج فرنانڈیز نے ہی دیا تھا ، اگر وہ نہ ہوتے تو شاید انیس سو چھیانوے میں اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں تیرہ دن کی سرکار ، انیس سو انٹھانوے میں تیرہ مہینے کی سرکار اور انیس سو ننانوے میں مکمل میعاد پانچ سال کی سرکار نہ بنتی ،

دو ہزار چودہ میں نتیش کمار اور شرد یادو نے جنتادل یونائیٹڈ کو بھارتیہ پارٹی کے الائنس نیشنل ڈیموکریٹک کریٹک الائنس سے الگ کر لیا ،
دو ہزار پندرہ کے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل جنتادل یونائیٹڈ کا اتحاد لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتا دل سے ہوگیا ،
راشٹریہ جنتا دل اور جنتادل متحدہ اور کانگریس نے مل کر انتخاب لڑا ، کانگریس کو انتخاب لڑنے کے لیے اکتالیس سیٹیں دی گئیں اور وہ ستائیس پر کامیاب ہوئی ، راشٹریہ جنتا دل اور جنتادل متحدہ نے ایک سو ایک ، ایک سو ایک نشستوں پر انتخاب لڑا تھا ، راشٹریہ جنتا دل کو اسی اور جنتادل متحدہ کو اکہتر نشستیں حاصل ہوئیں ، بھارتیہ جنتا پارٹی کو زبردست نقصان ہوا اس کو صرف ترپن سیٹیں حاصل ہوئیں ، اسے اڑتیس سیٹوں کا نقصان ہوا ،
جنتادل یونائیٹڈ کو کم سیٹیں ہونے کے باوجود نتیش کمار وزیر اعلی اور راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو کے چھوٹے بیٹے تیجیسوی نائب وزیر اعلی مقرر ہوئے تھے ،

مگر بیس ماہ کے بعد دو ہزار سترہ میں ہی نتیش کمار نے دو بارہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کا فیصلہ کیا ، شرد یادو دو بارہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کے خلاف تھے ،
مگر پارٹی کی اکثریت نتیش کمار کے ساتھ تھی ، اس لیے شرد یادو نے لوک تانترک جنتا دل کی تشکیل دو ہزار اٹھارہ میں کی ،
انیس سو ننانوے سے دو ہزار چار تک واجپئی وزارت میں وہ شہری ہوا بازی کے وزیر تھے ،

وہ بڑے شریف ، اور سنجیدہ مزاج سیاسی قائد تھے ، ان کی پارلیمانی تقریریں سننے کے لائق ہوتی تھیں ، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو آئینہ دکھانے میں کبھی پیچھے نہیں رہے ،

Comments are closed.