یوگی ادیتیہ ناتھ کی مقبولیت کے ڈھول کا پول

 

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں عام لوگ سیاستدانوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے کیونکہ ان کی باتوں کا کوئی سرپیر نہیں ہوتا اوروہ جو من میں آئے بک دیتے ہیں ۔  اس معاملے میں سب سے آگے تو خیر وزیر اعظم کی ذاتِ والا صفات ہے لیکن  ان کی جگہ لینے کے لیے پریشان یوگی ادیتیہ ناتھ بھی بہت زیادہ پیچھے نہیں ہیں۔گزشتہ ماہ انہوں  نے راجستھان کے ایک قدیم مندر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ،’’ہمارا سناتن دھرم بھارت کا قومی مذہب ہے‘‘۔ اس احمقانہ بیان کا جواب دینے کے لیےحزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے ایک دلت رہنما ڈاکٹر ادت راج کو میدان میں اتارا جو بدھ مت کے پیروکار ہیں۔ انہوں  نے اپنے ٹویٹ میں لکھا،’’یوگی کہہ رہے ہیں کہ ہمارا سناتن دھرم بھارت کا قومی مذہب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سکھ مذہب، جین مذہب ، بدھ مت ، عیسائیت اور اسلام جیسے دیگر مذاہب اب ختم ہو گئے ہیں۔‘‘ یوگی ادیتیہ ناتھ میں اگر ہمت ہوتی تو کہہ دیتے کہ  جی ہاں ایسا ہی ہے یا کہتے کہ یہ سارے مذاہب سناتن ہیں لیکن چونکہ یہ دونوں باتیں نہیں کہہ سکتے اس لیے ان کی سٹیّ پٹیّ گم ہوگئی۔

یوگی ادیتیہ ناتھ نے اپنے مذکورہ بیان میں یہ بھی کہا کہ ’’ جب ہم خود غرضی سے اوپر اٹھتے ہیں، تب ہم اس قومی مذہب سے جڑ پاتے ہیں۔ اور جب ہم قومی مذہب سے جڑتے ہیں تب ہی ہمارا ملک محفوظ ہو پاتا ہے۔‘‘ حقیقت اس کے بالکل  برعکس ہے۔ دراصل سیاسی خودغرضی  یوگی جیسے لوگوں سے ایسے گمراہ کن  بیانات دلواتی ہے اور لوگ اس کے جھانسے میں آکر ملک میں بدامنی پھیلاتے ہیں جس سے ملک  غیر محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ہریانہ کے اندر سامنے آئی جس میں  دو مسلم نوجوانوں ناصر اور جنید کو زندہ جلا دیا گیا۔ ہریانہ پولس کے لیے مخبری  کرنے والے لوکیش سنگلا اور رنکو سینی اس سفاکی کا مظاہرہ کیا۔ یہ دونوں بدمعاش  مونو مانیسر کے گئو رکھشک نیٹ ورک سے منسلک  ہیں۔راجستھان پولیس کی ایف آئی آر میں بدنام زمانہ گئو رکھشک مونو مانیسر کا نام بھی شامل  ہے۔ ناصراور جنید  قتل میںراجستھان پولیس رنکو کے سوا کسی اور کو گرفتار نہیں کرسکی اس لیے نام نہاد قومی مذہب سے جڑنے والے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ مدن لال کھٹر ان قاتلوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔ اس خود غرضی نے ملک کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔

یوگی ادیتیہ ناتھ ملک بھر میں گھوم پھرکراوٹ پٹانگ  اپدیش دیتے پھرتے ہیں لیکن ان کی اپنی ریاست میں رام چرت مانس کے خلاف کھلے عام ایک  تحریک چل رہی ہے۔ اس کے نسخے جلائے جارہے ہیں لیکن ان کے اندر ہمت نہیں کہ اس پر لب کشائی کریں  اور سوامی پرساد موریہ کے خلاف کوئی اقدام کریں ۔ وہ چونکہ  ایسا کر نہیں سکتے اس لیے چوری چھپے سپاری دے کر سادھو سنتوں سے ان پر حملہ کرواتے ہیں ۔  کوئی ان کی زبان کاٹنے پر انعام ظاہر کرتا ہے تو کوئی گردن کاٹنے پر اکساتا ہے لیکن ان میں بھی میدان میں اترنے کی ہمت نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی کے قائد سوامی پرساد موریہ نے لکھنو کے پولیس کمشنر کو ایک مکتوب روانہ کرکے مہنت راجوداس اور اس کے حامیوں پر  قاتلانہ حملہ کا الزام عائد کیا ہے۔موریہ کے مطابق تپسوی چھاؤنی کے مہنت راجوداس‘ مہنت پرم ہنس داس اور ان کے حامیوں نے  لکھنو میں ان پر تلواروں اور کلہاڑیوں سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ قبل ازیں راجو د اس نے موریہ کا سر قلم کرنے پر انعام کا اعلان کیا تھا۔

 سنت مہنت کے چولے میں چھپے جرائم پیشہ  لوگوں کا  ایسے محفوظ مقام پر جہاں موبائلس‘ سامان اور کپڑوں کی تلاشی لی جاتی ہو تیز دھار ہتھیاروں کے ساتھ سوامی کا  انتظار کرنا  ایک بڑی سازش کا حصہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ سوامی پرشاد موریہ پر حملے کا منصوبہ بنانے والے کیا سناتن دھرم سے جڑے نہیں تھے؟ اور اگر تھے تو ان کے سبب ملک  محفوظ ہوا یا غیر محفوظ؟ جو وزیر اعلیٰ اپنی ریاست کے دارالخلافہ کو محفوظ و مامون نہیں کرسکا اسے دوسروں کو نصیحت کرتے ہوئے شرم آنی  چاہیے۔ بی جے پی کے  سابق ریاستی وزیر اور فی الحال  سماجوادی پارٹی کے رہنما سوامی پرساد  موریہنے رام چرت مانس کے خلاف دھرم یدھ چھیڑ رکھا ہے۔ ان کے مطابق اس کتاب  میں دلتوں اور خواتین کی توہین کی گئی ہے۔  رام مندر کی تعمیر پر بغلیں بجانے والے یوگی کے صوبے میں موریہ نے  اس کتاب کو بکواس اور کوڑا کرکٹ قرار دے دیا ہے ۔انہوں نے رام چرت مانس کی کچھ چوپائیوں پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم  نریندر مودی اور صدر مرمو کو خط لکھ  کر ان میں ترمیم کرنے یاپابندی لگا نے کا مطالبہ کردیا اور  وزیر اعلیٰ کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ ان کے خلاف اقدام کرنا تو دور لب کشائی بھی نہیں کرسکے  بس صبر کا گھونٹ پی کر بیٹھ گئے۔ 

سنگھ پریوار نے جب دیکھا کہ سادھو سنتوں کے ڈرانے دھمکانے کا سوامی پرساد  موریہ پر کوئی اثر نہیں  ہوا تو بی جے پی سیاست دان نند کشور گرجر کو میدان میں اتار دیا۔  انھوں نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر سوامی پرساد موریہ کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ یہ احمق اتنا بھی نہیں جانتے کہ کسی موت کی سزا دلانے کے لیے سپریم کورٹ میں صرف ایک خط لکھ دینا کافی نہیں ہے۔ ایسے خطوط عدالتِ عظمیٰ میں کوڑے دان کی نذر کردیئے جاتے ہیں۔  ایودھیا کے ایک ممتاز ہندو پیروکار نے بہار کے وزیر ڈاکتر چندر شیکھر سے معافی مانگنے اور انھیں برطرف کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ان کو بھی دھتکار دیا گیا۔ اتر پردیش میں، مظاہرین نے سوامی  پرساد موریہ کے پتلے جلائے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی لیکن یہ کوشش بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ۔سوامی پرساد موریہ کی مخالفت کا الٹا اثر یہ ہوا کہ  ان  کی حمایت میں یوگی کی ناک نیچے  لکھنؤ شہر میں  اکھل بھارتیہ او بی سی مہاسبھا کےارکان نے احتجاج کرکے  رام چریت مانس کے اقتباسات پر مشتمل کچھ صفحات کو کھلے عام جلایا ۔ کوئی نہیں  سوچ سکتا تھا کہ ملک مودی اور یوگی کی موجودگی میں یہ ہوگا  لیکن یہ ہوگیا جو دونوں کے لیے باعثِ عار ہے۔

 سیاست اور سڑک سے ہٹ کر علمی حلقوں میں بھی یہ تنازع پیر پسارنے لگا ہے۔ دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں  پروفیسر ہیملتا مہیشور نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ رام چرت مانس میں یہ صرف ایک یا دو نہیں ہیں بلکہ کئی جملےجو خواتین اور دلتوں کے لیے توہین آمیز ہیں۔حقوق نسواں کے ماہرین نے برسوں سے اس کی مذمت کی ہے، خاص طور پر وہ دوہا  جو کہتا ہےکہ ’ایک ڈھول، ایک ان پڑھ آدمی، ایک دلت اور ایک عورت، سب کو پیٹنے یا سرزنش کرنے کی ضرورت  ہوتی ہے۔‘ان کے بقول ’ایک شعر ایسا بھی  ہے جو کہتا ہے کہ برہمن کی پوجا کی جائے چاہے وہ برائیوں سے بھرا ہو۔ جب کہ ایک دلت خواہ وہ ویدک عالم کیوں نہ ہو، اس کی عزت نہیں کی جا سکتی۔ہیم  لتا مہیشور سوال کرتی ہیں آخر کوئی  اس قدر متعصب کتاب کو کیسے قبول کر سکتاہے؟یوگی ادیتیہ ناتھ  کے  نام نہاد رام راجیہ میں ہندووں  کی ایک معروف کتاب رام چرت مانس  کا باعثِ تنازع بن جانا  اس حقیقت کا بین  ثبوت  ہے  کہ  ’چمکتا جو نظر آتا ہے سب سونا نہیں ہوتا‘۔ یہ محاورہ یوگی ادیتیہ ناتھ پر صد فیصد صادق آتا ہے۔  میڈیا نے   ان کی مقبولیت  کا جو  دبدبہ قائم کررکھا ہے یہ  اس  دعویٰ کے  کھوکھلے پن کا کھلا   ثبوت   ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے سناتن والے بیان کے بعد اس سے بھی بڑا  شوشہ چھوڑ ردیا۔ انہوں نےدعویٰ کردیا کہ ہندوستان’ ہندو راشٹر ہے کیونکہ ملک کے تمام شہری ہندو ہیں‘۔اس احمقانہ بیان کی دلیل یہ پیش کی  گئی کہ جب ہندوستان سے کوئی حج کرنے کے لئے جاتا ہے تو اسے وہاں ہندو پکارا جاتا ہے۔ اسے کوئی بھی حاجی کے طورپر نہیں دیکھتااور نہ  مسلمان کی حیثیت سے قبول کرتا ہے بلکہ  ہندو کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ اس بہتان کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ ابھی ابھی حج کرکے لوٹے ہیں یا عارف محمد خاں جیسے کسی  شخص نےان کے کان بھرے ہیں جن کو  شکایت ہے کہ لوگ انہیں ہندو کیوں نہیں کہتے ورنہ کوئی بیوقوف سے بیوقوف انسان  بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا۔ یوگی ادیتیہ ناتھ نے یہ بھی کہا کہ ’ ہر ہندوستانی کو دستور کا بہت زیادہ احترام کرنا چاہئے جو ہمارارہنما ہے ‘۔یوگی ادیتیہ ناتھ نے شاید کبھی دستور کھول کر پڑھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کیونکہ آئین ہند نہ تو سناتن دھرم کو قومی مذہب قرار دیتا ہے اور نہ  ملک کے سارے لوگوں  ہندو کہہ کر پکارتا ہے بلکہ  اس ملک کی اقلیتوں مثلاً مسلمانوں، عیسائیوں ، سکھوں ، پارسیوں اور بودھوں کے منفرد وجود کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ ان کے حقوق کے پامالی سے روکتا ہے۔ ایسے میں بیک وقت آئین  کا احترام اور سارے مذاہب پر بلڈوزر چلانا  بدترین تضاد بیانی   ہے۔  اس لیے ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر کہہ کرہر ہندوستانی  شہری  کو  ہندو کہنا حماقت  خیزمنافقت  ہے۔

Comments are closed.