اڈانی ۔۔۔ای ڈی اور پاکستان !!!

 

 

عمر فراہی

 

گوتم اڈانی کا شمار اس وقت دنیا کے امیر ترین سرمایہ داروں میں ہوتا ہے ۔ہنڈن برگ کی رپورٹ کے بعد لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر اتنے بڑے دھوکہ اور فراڈ کے باوجود وہ ای ڈی کی گرفت سے باہر کیوں ہیں جبکہ چند کروڑ کے معمولی اتھل پتھل کے بعد جہاں بھارت کے مشہور تاجر سہارا گروپ آپ کمپنیز کے مالک سبرت راۓ اور این سی پی کے طاقتور لیڈر چھگن بھجبل کو کئی سالوں تک جیل کی ہوا کھانی پڑی، ہیرا گولڈ کی مالک نوہیرا شیخ اور شیوسینا کے سنجے راؤت کو معمولی ہیرا پھیری کے الزام میں ضمانت پر رہائی ملی ہے۔ آخر گوتم اڈانی ای ڈی کے شکنجے سے باہر کیوں ہیں ۔گوتم اڈانی کی اس طاقت کو سمجھنے کیلئے آج ہم آپ کو اپنے روایتی مولیانہ صحافت سے ہٹ کر ایک الگ کہانی سناتے ہیں ۔

ابھی حال ہی میں میں نے اپنے ایک کسٹمر کا کام یہ کہہ کر بند کر دیا کہ بھائی پہلے کا ادھار چکتا کرو پھر کام ہوگا ۔جبکہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرا اس پر پہلے ہی سے پچاس ہزار کا بقایہ ہے اور اگر میں نے کام بند کر دیا تو یہ بھی نہیں ملے گا ۔مگر اس کا کام بند کرنا میری مجبوری تھی۔ ہوتا یہ ہے کہ تجارت میں کچھ لوگوں کی نیت پہلے سے ہی ٹھیک نہیں ہوتی ۔یہ لوگ رفتہ رفتہ بقائے کی رقم اتنی بڑھا دیتے ہیں کہ ایک دن آپ کی یہ مجبوری ہو جاتی ہے کہ آپ اپنی باقی کی رقم اصول کرنے کیلئے ان سے تجارت کرنے پر مجبور ہوں ورنہ آپ کی ایک بڑی رقم ڈوب جانے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔رہا سوال اپنے پیسوں کیلئے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا تو یہ بات کون نہیں جانتا کہ انصاف کے معاملے میں بھارت کی عدلیہ کا مزاج کیسا ہے اس لئے میں نے پچاس ہزار کے ڈوب جانے کا خطرہ لے لیا ۔

ہندوستان میں کارپوریٹ جگت کی دنیا میں گوتم اڈانی کا اور عالمی سیاست میں پاکستان کا معاملہ کچھ اسی نظر سے دیکھا جانا چاہئے ۔گوتم اڈانی نے ہندوستانی بینکوں کو اور پاکستان نے عالمی طاقتوں کو معاشی اور سیاسی فراڈ کے معاملے میں اتنا اپنے شکنجے میں کس لیا ہے کہ اب بھارت کی حکومت کو اڈانی کو اور عالمی ٹھیکیداروں کو پاکستان کو زندہ رکھنا مجبوری ہے ۔

Qura digest

پر بشوا جیت نارائن نے لکھا ہے کہ جس طرح اڈانی کے Bank rupt ہونے کا شور اٹھ رہا ہے اسی طرح پاکستان کی معاشی بدحالی کا بھی شور ہے لیکن جنھوں نے پاکستان کو نیوکلیر پاور بننے میں مدد کی اب ان کی مجبوری ہے کہ وہ پاکستان کی مالی امداد کر کے اس کے جمہوری سیاسی ڈھانچے کو برقرار رکھیں کیوں کہ دیگر صورت میں پاکستان کسی سیاسی اتھل پتھل کا شکار ہوا تو اس کے جوہری بموں کے پلانٹ کا ذخیرہ غلط ہاتھوں میں جانے کا اندیشہ ہے ۔اسی طرح وہ لکھتے ہیں کہ گوتم اڈانی نے اس وقت ملک کو ایک ایسی غیر یقینی صورتحال میں لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ ان کا وجود اور ان کا زوال دونوں ہی ملک کیلئے تباہ کن ہو چکا ہے ۔اگر وہ زندہ رہتے ہیں تو انہیں زندہ رکھنے کیلئے بینکوں کو مسلسل قرض دینا لازمی ہے تاکہ بینک کو کچھ نہ کچھ اس کے بقائے کی رقم ملتی رہے اور اگر بینک قرض دینے سے انکار کر دیتے ہیں تو ہندوستانی بازار کا collapse یعنی دھراشائی ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔اس طرح گوتم اڈانی ہندوستانی بازار کی تباہی کیلئے ایک ایٹم بم کی طرح ہیں جنھیں حکومت کو بچانا لازمی ہے جیسے کہ عالمی طاقتوں کی مجبوری ہے کہ پاکستان کا نیوکلیر بم عالمی سلامتی کیلئے خطرہ نہ بنے اس کے survival کیلئے مزید امداد فراہم کی جاتی رہے ۔

اس کے علاوہ بشو جیت نارائن کی بات اس معنی میں میں بھی درست ہے کہ اب جو پاکستان کے پڑوس میں ایک دوسری حکومت آئی ہے وہ بھی عالمی استعماروں کیلئے کسی ایٹم بم سے کم نہیں ہے جن سے نہ صرف پاکستان کے گہرے روابط ہیں ان کے وجود میں پاکستانی انٹیلیجنس کا اہم کردار رہا ہے ۔ پاکستانی فوج کے سربراہ ہمیشہ عالمی طاقتوں کے سربراہان کے کانوں میں چپکے سے یہ بات ذہن نشین کراٹے رہتے ہیں کہ دیکھئے اگر ہمیں کچھ ہوا تو انہیں قابو کرنا آپ کے بس کی بات نہیں ۔حقیت یہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے اول دن سے یہ بات سمجھ لی وہ اپنے ملک کے وجود کو بنجر زمینوں کی بنیاد پر قائم نہیں رکھ سکتے ۔خاص طور سے بھٹو اور ضیاءالحق نے اگر پاکستانی سیاست کا رخ نہ موڑا ہوتا تو ہماری فوجیں آج آزاد کشمیر میں بھی داخل ہو چکی ہوتیں ۔اس بات کا تذکرہ پرویز مشرف کی کتاب In the line of fire میں بھی ملتاہے اور کچھ باتیں ارون شوری کی کتاب self deceive کے بین السطور میں بھی پڑھی جاسکتی ہیں ۔ضیاء الحق نے بڑی چالاکی سے خراسان میں امریکہ اور روس دونوں کو الجھایا اور اب یہ دونوں مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوۓ ہیں اور آئیندہ بھی الجھے رہیں گے ۔ جیسا کہ یوکرین کے معاملے میں دونوں آمنے سامنے ہیں اور یہ دونوں عالمی طاقتیں یہ جانتے ہوۓ بھی کہ پاکستان ان کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے اس کے ساتھ اس لئے نرم لہجہ اختیار کئے ہوۓ ہیں کہ اس نے خراسان کو سنبھالا ہوا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں کہہ لیں کہ پاکستان کی سیاسی پوٹلی میں اس وقت صرف جوہری بم ہی نہیں اور بھی کئی ایٹم بم ہیں جنھیں intelligence war کہتے ہیں اور یہی چیز اس کے لئے ایک Guaranti card ہے کہ عالمی طاقتیں اسے ناکام نہ ہونے میں مدد کرتی رہیں ۔بزرگ کہتے ہیں کہ جنگ ہو کہ محبت یا تجارت یا سرحدوں پر تعینات فوج اصل فیصلہ ہتھیاروں سے نہیں ذہانت سے ہوتا ہے ۔عربوں کے درمیان اسرائیل اپنی اسی ذہانت کی وجہ سے اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوۓ ہے ۔

اس وقت بھارت میں ہندوتو اور اڈانی نے اپنی اسی چانکیہ حکمت عملی سے خود کو ملک کی ضروت بنا لیا ہے ۔یہ ذہانت کی ہی بات تھی کہ مدینے کی ایک چھوٹی سی جماعت نے نہ صرف کم وقت میں اپنی مخالف سپر پاور پر قابو پا لیا دنیا میں ایک نہیں کئی آل سلجوک ترک اور مغل جیسی سپر پاور طاقتوں کو عروج بھی بخشا ۔یہ ذہانت ہی تھی کہ ایک چھوٹے سے ملک منگول سے نکل کر منگولوں نے پوری دنیا پر حکومت کی ۔یہ ذہانت ہی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی تجارتی قافلے سے برطانیہ جیسے چھوٹے سے ملک کی ملکہ کو سپر پاور بنا دیا اور اب یہی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنی ذہانت کی بنیاد پر بینکوں اور کارپوریٹ کے ذریعے تمام عالمی طاقتوں کو قابو کئے ہوۓ ہے جسے آپ نیو ورلڈ آرڈر بھی کہہ سکتے ہیں ۔عالمی طاقتیں کبھی نہ کبھی پاکستان سے اور بھارت اڈانی اور مودی سے چھٹکارا پا سکتا ہے لیکن جس طرح عالمی سرمایہ دارانہ دجالی نظام کے تحت نیو ورلڈ آرڈر نے بینکوں کے ذریعے عالی سیاست ، معیشت میڈیا کے نیٹ ورک اور معاشرت کو اپنے خونخوار پنجوں میں دبوچ رکھا ہے دنیا کو ابھی اس کے تباہ کن نتائج سے گزرنا یقنی ہے !!

Comments are closed.