معاون اردومترجم کے ساتھ انصاف کویقینی بنایاجائے،ملی اداروں کی خاموشی حیرت انگیزاورپراسرار

کونسلنگ کے سات ماہ بعد بھی فائنل میرٹ لسٹ نہیں،اردومترجم کی باقی53سیٹوں کی فہرست جاری کی جائے
پٹنہ(پریس ریلیز) معاون اردومترجم کے امیدواروں کے ساتھ ناانصافی کب تک ہوتی رہے گی۔مہاگٹھ بندھن کی سیکولرسرکارمیں بھی اگراقلیتوں اوراردوکے ساتھ ایسی ہی ناانصافی ہوتی ہے توپھرفرق کیارہا؟معاون اردومترجم کے نتائج جاری ہونے اورپھرکونسلنگ کوسات ماہ ہوچکے ہیں۔پھربھی فائنل میرٹ لسٹ نہیں آسکی ہے۔جب کہ فائنل میرٹ لسٹ آنے کے بعدبھی اتنالمباپراسیس ہے کہ مزیدچھ ماہ لگیں گے۔یہ امیدوارپی ٹی اورمینس دونوںامتحان کوالیفائی کرنے کے باوجوداب تک انتظارمیں ہیں۔ لہٰذا جلد ان کی فائنل فہرست جاری کرکے آگے کی کارروائی شروع کی جائے ۔جدیو،راجد،کانگریس اتحادالیکشن کاانتظارنہ کرے کیوں کہ اس وقت جواب دینامشکل ہوگاکہ نوجوانوں کا اتناوقت بربادکیوںکیا؟اس سوال کاجواب نہ حکومت کے پاس ہوگااورنہ مہاگٹھ بندھن کے ووٹ مانگنے والے مسلم لیڈروں کے پاس ہوگا۔مطالبہ کرنے والوں میں محمد راشد، سرفرازاختر،صباپروین ،صفی الرحمن،عطیہ ناہید،صدف آفریں،شنہوازعالم سمیت درجنوں امیدواراورسماجی کارکنان ہیں۔سماجی کارکن صباپروین نے دوٹوک لہجے میں آئینہ دکھاتے ہوئے کہاکہ ملی تنظیموں کامصرف صرف جلسے کرنااورچندے اکھٹے کرنارہ گیاہے،بہارمیں امارت شرعیہ،ادارہ شرعیہ،ملی کونسل، جمیعة علمائ،جماعت اسلامی کاکیامصرف ہے،رمضان آتے ہی یہ لوگ ملت کے ٹھیکداربن جائیںگے لیکن مسلمانوں کے مسائل پربالکل چپ ہوجاتے ہیں۔یہ ہزاروں خاندان کامسئلہ ہے ۔اگران اداروں کواپنی ساکھ بچانی ہے توحکومت کی جی حضوری اوردرپردہ حمایت اورملی بھگت اورمسائل پرآنکھ بندکرنے کی عادت چھوڑنی ہوگی۔ ورنہ اب مسلمان بیدارہوچکے ہیں، آخرمسلمانوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی پریہ لوگ کب تک چپ رہیں گے ،ان کی چپی پراسراربھی ہیں اورحیرت انگیزبھی ہے ۔
محمدراشدنے کہاکہ مہاگٹھ بندھن سرکارنے وعدہ کیاتھاکہ وہ دس لاکھ نوکریاں دے گی۔اس کی مدت کے ڈھائی سال ہوگئے ۔اب تک کتنی نوکری دی؟بی ایس ایس سی کاوہی حال ہے۔بی پی ایس سی کاوہی حال ہے،ہرجگہ پیپرلیک ہورہاہے۔دسمبرمیں ہوئے بی ایس ایس سی گریجویشن لیول کاایکزام ہونے کے بعد پیپرلیک ہو کر کینسل ہوا،جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کے کتنے پیسے بربادہوئے،وعدہ کیاگیاتھاکہ پینتالیس دن میں یہ امتحان کرالیاجائے گاوہ بھی دوماہ ہوگئے۔اگرایک نوکری کایہ حال ہے تودس لاکھ تومحض جملہ ہوگا۔لہذااگرحکومت اقلیتوں اورنوجوانوں کی ناراضگی سے بچناچاہتی ہے تووہ ایمانداری سے کام کرے اورنوجوانوں کاوقت بربادنہ کرے۔حکومت سے مطالبہ ہے کہ جلدازجلدمعاون اردومترجم کے کم ازکم ان امیدواروں کی فائنل فہرست جاری کی جائے جنہوں نے کونسلنگ میں دستاویزی شرائط پوری کرلی ہیں،کیوں کہ ان کامعاملہ کورٹ میں نہیں ہے،کورٹ میں نئے نان کریمی لیئراورنئے ای ڈبلیوایس کامعاملہ ہے،پھران کی وجہ سے ان کی فہرست میں تاخیرکاکیاجوازہے جن کی دستاویزات بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق ہیں۔نیزکورٹ میں جن کامعاملہ ہے اس پربھی جلدتصفیہ کیاجائے۔اسی طرح حکومت اردومترجم کی باقی رہ گئی53 سیٹوں کے لیے بھی فہرست جاری کرے،کیوں کہ 202سیٹوں میں صرف 149سیٹوں پرہی بحالی ہوئی ہے ۔ بقیہ سیٹوں کے لیے جلدتیسری اورضرورت پڑنے پرچوتھی لسٹ جاری کی جائے۔
صفی الرحمن نے ان بیانات کی تائیدکرتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں کامعاملہ کورٹ میں ہے جلدازجلداس پرتصفیہ کیاجائے،اورجن کاکیس کورٹ میں نہیں ہے ان کی فہرست جاری کی جائے ،ایسالگتاہے کہ بی ایس ایس سی کے افسران حکومت کی بات نہیں سنتے،اگرسرکاراپنے افسران سے کام نہیں کراسکتی تویہ کس کی نااہلی ہے؟صدف آفریں نے کہاکہ جولوگ کورٹ گئے ہیں ان کوبھی اچھی طرح معلوم ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں نہیں ہوناہے،کیوں کہ بی ایس ایس نے اپنے نوٹیفکیشن میں وضاحت کردی تھی کہ کس کس دستاویزکی ضرورت ہوگی،اگرانہوں نے پڑھ کرفارم نہیں بھراتواس میں امیدواروں کاہی قصورہے اوراگربالفرض ان کے حق میں فیصلہ ہوگیااورنئے این سی ایل کومان لیاگیاتوجن 149امیدواروں کی بحالی مترجم کی سیٹ پرہوچکی ہے اس کوردکرناہوگاجوتکنیکی طورپرآسان نہیں ہے۔وہ لوگ صرف کورٹ کااورہزاروں امیدواروں کاٹائم بربادکررہے ہیں،ان سے بھی اپیل ہے کہ قوم کے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کودیکھتے ہوئے وہ پٹیشن واپس لیں تاکہ آگے کی کارروائی شروع ہوسکے۔سرفرازاخترنے سوال اٹھایاکہ امارت شرعیہ،ادارہ شرعیہ،جماعت اسلامی،جمیعة علماءبہار،ملی کونسل سمیت ان تنظیموں کی ملاقات حکومت اورحکومت کے نمائندوں سے ہوتی رہتی ہے،یہ ملاقات کس لئے ہوتی ہے،کیاانہیں صرف اپنے تعلقات مضبوط کرنے ہیں یاملی مسائل کوبھی اٹھاناہے؟بہارکے اسکولوں میں اردولازمیت کامسئلہ ہو،یااردوٹی ای ٹی امیدواروں کامسئلہ ہویااردومترجم اورمعاون اردومترجم کے ساتھ ہورہی ناانصافی ہو۔یہ لوگ کب اپنی زبان کھولیں گے اوراپنے تعلقات کااستعمال مسلمانوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے کریں گے۔ اگروہ اس میں ناکام ہیں توپھرانہیں قوم کے پاس آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اورنہ اب قوم کوان کی لچھے دارتقریروں اورجلسوں کی ضرورت ہے بلکہ یہ تنظیمیں زمین پرکام کریں گی تب ہی ان کاوقاربحال رہ سکے گا۔

Comments are closed.