حضرت مولانا سید ارشد مدنی کا بیان مثبت، مگر اس پر بحث کو طول دینا غیر مناسب : میرا مطالعہ
(مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دہلی کے رام لیلا میدان میں جمعیۃ علمائے ہند کے اجلاس میں حضرت مولانا سید ارشد مدنی حفظہ اللہ کی تقریر کو میں نے بار بار سنا، اس تقریر کا مقصد نہ تو ہندو دھرم اور اسلام کے درمیان مقابلہ کرنا تھا اور نہ کسی کو مذہب اسلام کی طرف دعوت دینے کا تھا۔
موجودہ وقت میں ملک میں کچھ فرقہ پرست عناصر کے ذریعہ نفرت کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے، اور اقلیت واکثریت کے مسئلہ کو ابھار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سےاس ملک کی اکثریت کے کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے، مسلمانوں پر حملہ کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ مسلمان باہر سے آگئے ہیں۔ جمعیۃ علمائے ہند نے اس نفرت کے ماحول کو کم کرنے کے لئے بہت سے طریقےاختیار کئے، سنگھ کے بڑے لیڈروں سے ملاقات کی، دھرم گروؤں سے ملاقات کرکے افہام وتفہیم کی کوشش کی ،سدبھاونا منچ کا انعقاد کیا اور تمام دھرم گرووں کے ذریعہ یہ پیغام دیا کہ ملک کے آئین کے مطابق اس ملک کے تمام بسنےوالے اس ملک کے شہری ہیں، یہاں مذہبی آزادی حاصل ہے، سب میل ومحبت کے ساتھ رہیں۔ حضرت مولانا سید ارشد مدنی کا بیان بھی اسی تناظر میں ہے کہ کسی کا یہ کہنا کہ مسلمان باہر کے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ بھی اسی ملک کے باشندے ہیں، ان کو باہری کہنا صحیح نہیں ہے اور نہ یہ کہنا صحیح ہے کہ اسلام باہر کا مذہب ہے، بلکہ اسلام بھی اسی ملک کا مذہب ہے۔ چونکہ حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان تھے، وہ جنت سے اسی ملک میں اتارے گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسی ملک میں ان کو نبی بنایا، اس طرح اسلام بھی اسی ملک کا مذہب ہے اور یہ ہندوستان کے لئے فخر کی بات ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جس کو متنازعہ بنادیا گیا ہے۔ اور یہ تنازع بڑھتا جارہا ہے، جو افسوسناک ہے۔ ویسے مذہبی معاملات حساس ہوتے ہیں، ان پر زیادہ بحث سے بدمزگی کا اندیشہ رہتا ہے ، اسی لئے وقتی اعتبار سے جو بات ہوگئی، وہ ہوگئی، میرے خیال سے اس پر زیادہ بحث مناسب نہیں ہے۔ موجودہ وقت میں یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ منو، آدم , اوم اور اللہ پر غیرضروری بحث کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جبکہ ہر ایک مذہب میں عقیدے الگ الگ ہیں، ایک کا دوسرے سے مقابلہ کرنے میں تلخی پیدا ہوگی، اس لئے اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔خود حضرت مولانا سید ارشد مدنی حفظہ اللہ کی تقریر کا مقصد مقابلہ کرنا نہیں، بلکہ ان کا مقصد مثالوں سے سمجھانا ہے۔ موجودہ وقت میں ان الفاظ پر بحث اس انداز پر شروع ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ واقعی منو و آدم اور اوم واللہ میں کوئی فرق نہیں ہے، جبکہ یہ مذہبی اصطلاحات ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق تعبیر کرتے ہیں۔ اس لئے میری رائے ہے کہ اس پر عام بحث مناسب نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ کچھ دھرم گرو نے حضرت مولانا کو مناظرہ کے لئے چیلنج کیا ہے،انہوں نے فراخی کا مظاہرہ کیا اور ان سے بات کرکے مطمئن کرنے کی حامی بھردی، جبکہ معاملہ کو رفع دفع کرنے کے خیال سے حکومت کے ذمہ داروں نے ان کو دیوبند آنے سے روک دیا۔یہ اقدام قابل ستائش ہے۔ میرے خیال سے حضرت مولانا حفظہ اللہ کا مرتبہ بلند ہے ، ان کے لئے بہتر ھوگا کہ براہ راست اس میں پڑنے کے بجائے مناسب ہوتو اس کام کو پہلے مرحلہ میں اپنے شاگردوں کے حوالہ کرنے کی زحمت کریں ،اور اس کو اچھی طرح دفع کیا جائے
ویسے اس کی ضرورت ہے کہ ملک میں۔ نفرت کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے کوشش جاری رہے ، اللہ تعالیٰ ملک میں امن و شانتی کو قائم رکھے اور شر و فتنہ سے حفاظت فرمائے
Comments are closed.