ڈائیلوگ از ویلکم مگر …
ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل
ڈائیلوگ اچھی چیز ہے۔ کسی بھی مسئلہ میں اتحاد و اختلاف کے حدود معلوم کرنے کے لیے تو ڈائیلوگ بہترین ذریعہ ہے۔ بھارت جیسے تکثیری ملک میں جہاں مختلف مذاہب اور افکار و خیالات کے لوگ رہتے ہیں ان کے درمیان پل بنانے کے لیے ڈائیلوگ وقت کی ضرورت ہے۔ یہ ڈائیلوگ ہر کسی سے ہونی چاہیے اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ میں اصولی حیثیت سے ہر کسی سے گفت و شنید کا قائل اور وکیل ہوں اور مجھے کسی سے ملنا اور بات چیت کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے بشرطیکہ اس کے پیچھے کوئی ذاتی غرض اور مخفی ایجنڈا نہ ہو۔
2014کے بعد سے ملک کے سیاسی حالات جس طرح بدلے ہیں اس نے بہت سے لوگوں کو حواس باختہ کردیا ہے۔ جو لوگ نام نہاد سیکولر جماعتوں کے حاشیہ بردار تھے اور ان کی امید اور ان کے عزائم ان سے وابستہ تھے، یکایک ان کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی اور انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ انھوں نے تھوڑے دن ویٹ اینڈ واچ کی پالیسی اختیار کی، مگر 2019کے بعد ان کے اوسان خطا ہوگئے اور انہیں یہ سمجھ میں آنے لگا کہ ملک کے سیاسی افق پر جو تبدیلی آئی ہے وہ دیرپا ہے۔ لہٰذا اپنے تحفظات کو چھوڑ کر اب ان کی طرف وفاداری کا ہاتھ بڑھانا چاہیے، چنانچہ پس پردہ کئی جانب سے کوششیں شروع ہوگئیں۔
اب تک یہ گمان کیا جاتا تھا کہ مسلمان اقتدار کی جنگ میں ایک بیلنسنگ فیکٹر ہیں۔ لہٰذا ان کا ووٹ جس جانب جائے گا اس کا اقتدار میں آنا ممکن ہوگا۔ مگر2019 کے لوک سبھا اور پھر یوپی اسمبلی کے حالیہ الیکشن نے اس بھرم کو توڑ دیا۔ اس نے سنگھ پریوار کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ مسلمانوں کو پوری طرح نظر انداز کرکے بلکہ ان کو پامال کرکے اقتدار میں تادیر قائم رہ سکتے ہیں۔ اس احساس نے جہاں ان کو اور بولڈ اور جارج بنادیا وہیں مسلمانوں کے ایک حلقہ میں گہری مایوسی پیدا کی۔ لوگ یہ مانتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جو اس وقت برسراقتدار ہے اس کی باگ ڈور سنگھ کے ہاتھ میں ہے اور یہ بات کسی حد تک صحیح ہے۔ لہٰذا بہت سے لوگ سنگھ کے مکھیا شری موہن بھاگوت جی سے ملنے اور بات چیت کرنے کے خواہش مند ہیں۔ بلکہ جیسی اخباری اطلاعات ہیں کئی دانشور ان سے مل چکے ہیں پھر ان کے ساتھ مسلمان دینی اور ملّی جماعتوں کے نمائندوں کی بھی میٹنگ ہوچکی ہے۔ اور ایسے کئی لوگ ہیں جو درپردہ کئی سطحوں پر سنگھ کے لیڈران اور ذمہ داران سے رابطہ میں ہیں۔ کچھ لوگ وزیر اعظم اور پارٹی صدر سے بھی ملنے کے خواہش مند ہیں۔ مگر شاید ان کی امید براری نہیں ہوئی ہے۔
میں یہ بات کہہ چکا ہوں کہ مجھے ڈائیلوگ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ شاید سنگھ کے لوگ اسلام اور مسلمانوں کو نہیں جانتے ہیں یا ان کی تاریخ اور تعلیم سے نا آشنا ہیں تو ان کو اپنی یہ غلط فہمی دور کرلینی چاہیے۔ سنگھ میں باضابطہ ایک ادارہ ہے جو ان امور پر گہری معلومات رکھتا ہے اور ان کا تھنک ٹینک ہے جو ان سے نمٹنے کے لیے نت نئی حکمت عملی پر کام کررہا ہے اور کم و بیش انھوںنے ایک سو سال سے ان امور پر پورا ہوم ورک کر رکھا ہے۔ اب ان کے خیال کے مطابق ان کے خوابوں کے ہندوستان کی تعمیر میں مسلمان شاید سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ لہٰذا ان کو پوری طرح پسپا کیے بغیر وہ شاید اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اس لیے تاریخ کے سارے گڑے مردے اکھاڑ کر موجودہ نسل سے حساب لینے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ ورنہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل کسی طرح ان امور کی ذمہ دار نہیں ہے اور ان کے لیے کوئی چیلنج بھی کھڑی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ مگر اپنی نفرت کی گاڑی میں جوش کا ایندھن بھرنے کے لیے وہ ان کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ ہندوسماج کا جو اندرونی تنازعہ اور بکھراؤ ہے اس حکمت عملی سے اس کا رخ موڑا جاسکے اور اس کو پرولائز کیا جاسکے جس میں وہ کامیاب ہیں۔
جو لوگ اپنی ذاتی غرض سے ملنا چاہتے ہیں ان کو تو کوئی روک نہیں سکتا۔ اقتدار ایک ایسی چیز ہے جو بہت سے لوگوں کے پاؤں میں تزلزل پیدا کردیتا ہے۔ لیکن اگر کچھ لوگ سنجیدگی سے سنگھ اور حکومت سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں جس کا مقصد دین اور مسلمانوں کی خیرخواہی ہے تو انہیں دو تین باتیں ضرور کرنی چاہئیں۔ پہلی یہ کہ کوئی فرد یا جماعت تنہا نہ ملے اور خفیہ طریقے سے نہ ملے۔ اس سے غلط فہمی پیدا ہوگی اور بدنامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اگر وقت اور حالات کے تحت ملاقات کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے تو تمام دینی ملی جماعتیں آپس میں سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایک مشترکہ امور کا خاکہ بنالیں، اپنی ایک آفیشیل لائین طے کرلیں۔ جن سے ملنا ہے ان کو اپنے ایجنڈے سے واقف کرادیں اور اس کے بعد ایک نمائندہ وفد ملے۔ جو باتیں ہوں اس کو ض
Website: abuzarkamaluddin.com
کالم نگار اردو کی بیسٹ سیلر بک’اکیسویں صدی کا چیلنج اور ہندوستانی مسلمان- بند گلی سے آگے کی راہ‘ کے مصنف ہیں۔
Comments are closed.