ہجومی تشدد کے مفرور ملزمان کے گھروں کی قرقی کی جائے گی

 

گیا بابری ہجومی تشدد معاملے میں ایس ایس پی آشیش کمار بھارتی کا بیان

گیا۔ ۱۰؍ مارچ: گیا کے بیلاگنج ہجومی تشدد معاملے میں ملزمان کے گھروں کو قُرق کیا جائے گا۔ پولیس کی جانب سے اس کے لیے عدالتی کاروائی مکمل کرائی جارہی ہے اس معاملے میں اب تک پانچ افراد عدالت میں خود سپردگی کرچکے ہیں۔بہار کے ضلع گیا میں گزشتہ 22 فروری کی رات کو ہجومی تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس میں ایک نوجوان محمد بابر کی موت واقع ہوگئی تھی جبکہ دو نوجوان شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔ اس معاملے میں پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں نامزد ملزمان میں پانچ نے عدالت میں گزشتہ ہفتہ خود سپردگی کردی ہے جبکہ بقیہ ملزمان فرار ہیں۔پولیس کی جانب سے مزید کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ ایس ایس پی آشیش کمار بھارتی نے کہا کہ ہجومی تشدد معاملے میں کسی بھی ملزم کو چھوڑا نہیں جائے گا، ایڈیشنل ایس پی بھارتی کی قیادت میں مفرور ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپہ مارنے کی کاروائی کو انجام دیا جارہا ہے اور ساتھ ہی ان مفرور ملزمان کے گھروں کو ضبط کیا جارہا ہے۔ منگل تک قرقی کی کاروائی مکمل ہونے کی امید ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں چوکیدار کے بیان پر درج ایف آئی آر کے علاوہ محمد ساجد کے والد صابرعلی اور مہلوک محمد بابر کی والدہ کی جانب سے تحریری شکایت درج کرائی گئی تھی۔ ان لوگوں نے جن کا نام درج کروایا تھا ان لوگوں کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ایڈیشنل ایس پی بھارتی نے کہا کہ اس معاملے میں جن افراد کو پرانی رنجشوں کی وجہ سے شامل کیا گیا ہے اور ان کا اس معاملے میں کوئی لینا دینا نہیں ہے انکی جانچ کرائی جارہی ہے۔ لیکن بے قصوروں پر کاروائی نہیں ہوگی اور قصور واروں کو بخشا بھی نہیں جائے گا۔واضح رہے کہ بائیس فروری کی رات کو بیلاگنج تھانہ حلقہ کے ڈیہاگاوں میں تین مسلم نوجوانوں کو چوری کا الزام عائد کر کے بے رحمی سے پیٹا گیا تھا جس میں ایک کی موت واقع ہوگئی تھی۔پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق اس میں ایک بھی نام مسلم طبقے سے نہیں تھا۔تاہم زخمی محمد ساجد کے والد نے اپنے گاوں کوری سرائے کے دس مسلمانوں کا نام درج کرایا، جن سے انکی پرانی رنجش تھی جس جگہ پر واقعہ پیش آیا تھا وہ مسلم محلہ نہیں تھا ایڈیشنل ایس پی نے کہاکہ زخمیوں کی حالت اب مستحکم ہے ایک زخمی کا فرد بیان ہوچکا ہے، جبکہ ایک کا ابھی ہونا باقی ہے ایس ایس پی کی ہدایت پر قرقی کی کاروائی جاری ہے۔

Comments are closed.