شیموگہ کی ممتاز نامی 45 سالہ مسلم خاتون کا بہیمانہ قتل , خاتون کی برہنہ لاش تھیلے میں ڈال کر پل کے نیچے کچرے کے ڈھیر میں پھینکی گئی

 

شیموگہ (احساس نایاب)

شیموگہ کے راگی گُڈا میں رہنے والی 45 سالہ متاز پھول فروش تھیں , وہ اکثر ہلوڑ و چیلور کو پھول فروخت کرنے جایا کرتی تھیں

6 مارچ کی صبح تقریبا پانچ بچے ممتاز معموم کی طرح پھول فروخت کرنے کے لئے ہلوڑ گئی ہوئی تھیں, جس کے بعد وہ واپس گھر نہیں لوٹی ……

اہل خانہ نے ممتاز کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی پولس مین گمشدگی کی کمپلینٹ درج کرائی گئی مگر اہل خانہ کی شکایت ہے کہ پولس یا شہر کے کسی بھی مسلم ذمہ دار کی جانب سے کسی قسم کا رہسپانس نہیں ملا ……

آخر کار گزشتہ روز یعنی گمشدہ ہونے کے پانچ دن بعد تھیلے میں بندھی ممتاز کی برہنہ لاش ایک پُل کے نیچے کچرے کے ڈھیر میں پائی گئی ….. جسے دیکھ کر صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ درندوں نے مرحومہ کے ساتھ کس قسم کی درندگی کی ہوگی, ممتاز کی نیلی پڑی لاش خود چیخ چیخ کا اپنا درد بیان کررہی ہے, اور اپنی اُس قوم سے انصاف مانگ رہی جو کب کی مردہ ہوچکی ہے

سچ ہے پہلے کسی قوم کی غیرت مرجاتی ہے پھر اُس قوم کو زوال آتا ہے

افسوس آج قوم مسلم کی غیرت مرچکی ہے, دھونڈو تو ہر گلی چوراہے , نکڑ پر دس دس لیڈر مل جائیں گے, عمائدین شہر کا حال مرخیوں کے چوزوں سا ہے تعداد میں ہزارون ہیں لیکن طاقت اور دبدبے کی بات کی جائے تو کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ مسلمانون پر ہورہے مظالم کے خلاف زبان تک کھول سکے ……

افسوس آج ایک ماں , بیوی , بہن اور سب سے بڑھ کر دخترقوم کا بہیمانہ قتل ہوا ہے باوجود مسلم ذمہ داروں کو سانپ سونگھ چکا ہے ……..

اگر یہی حال رہا تو تیار ہوجائیں ہر دن ایک بہن بیٹی کی لاش اٹھانے ……..

Comments are closed.