یکم مئی ہم محنت کشوں کے مسائل پر بھی توجہ ہو
عارف عزیز( بھوپال)
یکم مئی ساری دنیا میں مزدوروں اور محنت کشوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے کیونکہ اسی دن ۱۸۸۶ء میں امریکہ کے مزدوروں نے کام کے اوقات میں کمی کرکے آٹھ گھنے مقرر کرنے کے لئے جدوجہد شروع کی تھی اور وہاں کے حکمراں طبقہ کی زبردست جوابی کارروائی کا نہایت ہمت سے مقابلہ کرتے ہوئے ۱۹ مزدور کام آگئے تھے جبکہ چار مزدور رہنمائوں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ مزدوروں کی ان تمام قربانیوں اور حقوق کے لئے جدوجہد کی یاد تازہ رکھنے کے مقصد سے ۱۸۹۰ء میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کی عالمی برادری محنت کشوںکے حقوق کا دن منائے گی اس طرح ’’یوم مئی‘‘ کے انعقاد کو آج ایک سو بیس سال پورے ہوگئے ہیں۔
اس عرصہ میں دنیا کی صورت حال خاص طور پر مزدوروں کے حالات میں کافی تبدیلی آئی ہے محنت کشوں کے کئی حقوق ان کو مل گئے مگر دوسری طرف ان کے استحصال کے نت نئے طریقے بھی سامنے آرہے ہیں اور یوں دنیا کے بڑے حصہ میں سرمایہ اور محنت کی کشمکش آج بھی جاری ہے مزدوروں کو اپنے حق کے لئے لڑنا پڑرہا ہے ۔ شہروں کے کل کارخانوں میں مزدوروں کو جن مسائل کا سامنا ہے ان سے کہیں زیادہ پیچیدہ مسئلہ دیہی مزدوروں کا ہے جن کی ایک بڑی تعداد ہمارے ملک میں غلامی سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ایسے ہی بندھوا مزدوروں کو بیگار سے نجات دلانے کے لئے عرصہ سے اعلان ہورہا ہے، ریاستی اور مرکزی حکومتیں ہر سال یہ خوش خبری سناتی ہیں کہ اتنے ہزار بندھوا مزدوروں کا سراغ لگاکر انہیں بیگار لینے والوں کے چنگل سے چھڑا لیا گیا ہے عام طور پر بندھوا مزدور بے زمین کسان ہوتے ہیں یا چھوٹے کھیت والے جنہیں کسی مجبوری سے معمولی قرض لینا پڑتا ہے لیکن پھر زندگی بھر اس بیڑی سے ان کا پائوں نہیں چھوٹتا اور غلاموں کی طرح انہیں ساہو کاروں کا کام کرنا پڑتا ہے اکثر تو باپ دادا کے قرض کا بھگتان اس کی اولاد کو بھی کرنا پڑتا ہے۔
مزدوروں کی دوسری قسم عورتوں او ربچوں کی ہے جن پر اور بھی زیادہ مظالم توڑے جاتے ہیں خاص کر بچہ مزدوروں کو صبح سورج طلوع ہونے سے لے کر نصف رات تک خود کے کھانے پینے یا گھر والوں کی روٹی کے لئے کام کرنا پڑتا ہے اور ان کی سب سے زیادہ تعداد برصغیر ہند- پاک اور بنگلہ دیش میں موجود ہے جو کروڑوں کی تعداد میں آدھا پیٹ کھاکر اور بدن پر صرف لنگوٹی لگاکر ہوٹلوں، بھٹیوں اور کانوں میں دن رات کام کرتے ہیں مگر ان کے لئے نہ کوئی قانون ہے اور نہ زندگی کا کوئی آرام انہیں میسر ہے۔
محنت کشوں اور مزدوروں کے مسائل کی کمی اور ان میں سے بیشتر مسائل مزدوروں کی روزی روٹی سے تعلق رکھتے ہیں، سرمایہ دارانہ سماج میں حکمراں طبقہ اپنے لئے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لئے مزدوروں اور محنت کشوں پر بوجھ ڈالتا ہے اور ان کی اصلی اجرت میں کٹوتی کرتا ہے جب سے ہمارے ملک میں کھلی معیشت کی ہوائیں چلنے لگی ہیں مزدوروں کا مستقبل پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہوگیا ہے اور ان کے استحصال کے لئے نئے طریقے ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا رہی ہیں۔
بہر حال ہر سال ’’یوم مئی‘‘ آتا ہے تو مختلف عنوانوں سے ایسے مزدوروں اور محنت کشوں کو یاد تو کرلیا جاتا ہے ان کے حق اور اجرت کے بارے میں خوش کن باتیں بھی ہوجاتی ہیں لیکن ان کا حال درست کرنے کی کوئی عملی پہل نہ تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں ہوتی ہے نہ اسلامی ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش میں جبکہ جمہوریت اور اسلام کے زریں اصولوں کی دہائی دیتے ہوئے یہاں کے حکمراں کبھی نہیں تھکتے۔ حالانکہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور مظلوم طبقے، غلام اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ پر دیا گیا ہے، حیات نبویؐ کے آخری حصے اور وصالِ نبوی کے آخری لمحات میں نبی پاکﷺ کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات میں نماز اور غلاموں کے بارے میں خدا سے ڈرنے کی تلقین کی گئی، غلام جن کو آج کی اصطلاح میں خادم اور مزدور سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
نبی پاکﷺنے تمیز غلام وآقا کو مٹا ڈالا تھا اور اس کا اثر یہ ہوا اسلام کی رواداری کا اپنوں نے نہیں دوسروں نے بھی کھلے دل سے اعتراف کیا۔
آج یوم مئی مناتے وقت کم از کم مسلمانوں کو تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ محنت کی عظمت کا اسلام نے دنیا کے تمام مذاہب اور جدید نظاموں سے زیادہ اعتراف کیا ہے اسلام کی تعلیمات پر اگر عمل ہو جائے تو دنیا کے محنت کشوں کے مسائل آج حل ہوسکتے ہیں۔
wwww.arifaziz.com
E-mail:arifazizbpl@rediffmail.com
Mob.09425673760
Comments are closed.