سوڈان بدترین خانہ جنگی کی لپیٹ میں !!
از:ناظم الدین فاروقی
عالم اسلام میں سعودی عربیہ و ایران کے آپسی تعلقات کی بحالی اور یمن کی جنگ کا خاتمہ شام ‘ سعودی عربیہ حماس میں برادارانہ تعلقات جیسے خوش آئند تبدیلیوں سے مسرت کی لہر دوڑ گئی تھی ۔ ابھی چند دن نہیں گزرے تھے کے رمضان المبارک میں سوڈان کی خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔سوڈان میں خانہ جنگی خطرناک موڑ اختیارکرتے ہوئے خرطوم سے نکل کر اب ملک کے 11 ریاستوں تک پھیل چکی ہے ۔فوج اور پیرا ملٹری فورسیس کے درمیان ملک پر تسلط حاصل کرنے کے لئے جنگی طیاروں اور ہلاکت خیز اسلحہ کے استعمال سے کم از کم ایک ہزار شہری ہلاک 4 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں ۔ اس کےعلاوہ ایک ملین سے زیادہ لوگ نقل مکانی کے لئے مجبور ہوچکے ہیں ۔ سوڈان کی تقسیم کے بعد موجودہ آبادی 3 کروڑ 25 لاکھ ہے۔94% عرب مسلمان ہیں خواندگی کا فیصد 67% ہے جو ہندوستان کی خواندگی سے 20% کم ہے ۔سوڈان میں سونے ‘ پلاٹینیم ‘ کاپر‘ زنک ‘ کوبال ٹیٹانیم لا قیمت کے عظیم ذخائر ہیں ‘ دریائے نیل کی وجہہ سے بڑا حصہ زرخیز‘ سربز و شاداب اور جنگلات سے ڈھکہ ہوا ہے ۔جنوبی سوڈان کو استصواب عامہ کے تحت جولائی 2011 میں امریکہ ‘ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک علیحدہ ملک قرار دیا گیا ہے۔ جنوبی سوڈان میں 60.5% عیسائی ‘ 30.9%قدامت پسند عقائد کے حامل اور صرف 6.2% مسلمان آباد ہیں یہ نومولود ملک تیل اور گیاس کے ذخائر سے مالامال ہے ۔ جنوبی سوڈان میں90% جنگلاتی و دیہاتی زندگی ہے صرف 27% آبادی خواندہ آبادی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ طویل مسلحہ جدوجہد و خون خرابے جنگ و جدال کے بعد آزادی حاصل کی تھی۔سوڈان کی یہ بد قسمتی رہی ہے کہ 30 سال سے زیادہ عرصے تک خانہ جنگی جاری رہیجس میں تقریباً 20 لاکھ بے گناہ شہری ہلاک اور 40 لاکھ لوگ بے گھر اور ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔چونکہ اکثریت معمولی گھانس پھوس کے گھروں میں بستی ہیں تو بآسانی آبادیوں کو آگ لگا کر خاکستر کردیا جاتا ہے لاکھوں لوگ ہر سال بے گھر ہوتے ہی رہتے ہیں ۔6؍مئی 1986 تا 30؍ جون 1989 عبدالرحمان سوارالذہب احمد ال مرغانیصدر رہے ۔1989 عمر بشرچیف آف دی آرمی اسٹاف نے بغاوت کرتے ہوئے حکومت سنبھالی ‘30 سال طویل عرصے تک سوڈان کے صدر رہے ۔عوامی احتجاجات اور ہڑتالوں کی وجہہ سے فوج نے مداخلت کرتے ہوئے عمر بشر کا2019 میں تختہ الٹتے ہوئے کمانڈر اینڈ چیف عبدالفتح برہان نے حکومت پر قبضہ کرلیا اور پیرا ملٹری فورس کے سکنڈ ان کمانڈ حمیدتی کو سوڈان نائب صدر بناتے ہوئے عبوری حکومت کا اعلان کیا۔ عوام کے اضطراب کو دیکھتے ہوئے بعد میں فوجی سیاسی اور عوامی نمائندوں کو شامل ایک اعلیٰ باختیار کمیٹی ’’مجلس السیادۃ الانتقالی‘‘Transitionel Sovereignty Council (TSC) تشکیل دیا۔ یہ دکھاوے کے لئے کمزور کمیٹی بنائی گئی‘ جس کی مدت 3 سال رکھی گئی تھی جیسے ہی 3 سال تکمیل ہوئے اس TSCکمیٹیکو تحلیل کرتے ہوئے دونوں فوجی کمانڈروں نے ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔خانہ جنگی سے پہلے عمر بشیر کے تائیدی لوگوں کو جنرل حمیدتی نےاپنے ساتھ شامل کرلیا۔ جنرل برہان اور جنرل حمیدتی کے درمیان اختلاف بڑھنے لگے ۔خانہ جنگی کے آغاز کے ساتھ ہی حمیدتی نے جیل سے تمام قیدیوں کو رہا کردیا گیا اور عمر بشیر بھی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے وہ اب حمیدتی کے زیر تسلط محفوظ علاقے منتقل ہوگئے۔
جنرل حمیدتی کا تعلق ڈارفور کے غریب قبائل سے ہے ۔ یہ علاقے 40 سال سے زیادہ عرصے تک سورش زدہ رہا‘ جنھوں نے کئی لڑاکا گروپس کا قلعہ قمع کرنے میں سب سے بڑا رول ادا کیا تھا حمیدتی کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ فورس ہے ۔ یمن کی خانہ جنگی میں حمیدتی نے حوثیوں کے تعاون کے لئے اپنی فورس روانہ کی تھی ۔
عوامی احتجاجات کے باوجود میجر جنرل برہان نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرلئے تھے یہ امریکہ کے شدید دباؤ میں کیا گیا تھا۔ اسی وقت مبصرین کو اس بات کا اندازہ ہوچکا تھا کہ اسرائیل سوڈان کے لئے ایک بہت بڑا درد سر بننے والا ہے ۔اسرائیل کے لئے عسکری و سیاسی سازشوں اور ریشہ دوائیوں کے لئے نیا محاذ ہاتھ لگ گیا۔
سوڈان کی اندرونی صورت حال بڑی پیچیدہ اور گمبھیر ہے اس کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے قیمتی معدنیات اور غربت کی وجہہ سے دنیا کی ہر بڑی طاقت کی میلشیا یہاں سرگرم ہے ۔ سب سے بڑا بین الاقوامی روسی جنگجوئی سابق روسی لفٹننٹ کرنلDmitry Utkin( جس نے شام ‘ یمن ‘ لیبیا میں بڑی تباہی مچائی تھی) میلشیا Wagner جنرل حمیدتی کا با اعتماد شریک خاص ہے۔ ویگنارWagner اور جنرل حمیدتی سوڈان کے سونے کے ذخائر پر قابض ہیں ‘یہاں سے سونا روس اور عالمی منڈی کو اسمگل کیا جاتا ہے ابھی تک ہزاروں ٹن سونا اسمگل ہو کر ملک کے باہر عالمی منڈی میں فروخت کیا جاچکا ہے ‘ سوڈانی عوام کا ان قومی سونے کے ذخائر سے کبھی ایک ڈالر کا فائدہ نہیں ہوا‘ وہ غریب کے غریب ہی رہ گئے ‘ اسی طرح دوسری قیمتی دھاتیں جیسے ٹیٹا نیم ‘ پلاٹینیم کو بالا پر بھی اس طرح مسلح بڑے خطرناک مافیا کا قبضہ ہے ۔جنرل حمیدتی ‘ Wagner اور لیبیا کی میلشیا کی آپس میں گہری دوستیاں ہیں۔ خانہ جنگی کے آغاز سے دو دن قبل لیبیا کے جنگجو حفتر کے بیٹے نے سوڈان آکر حمیدتی کے ساتھ طویل ملاقات کی تھی۔
یہ خانہ جنگی حکومت پر تسلط سے کہیں زیادہ قیمتی معدنیات پر کنٹرول کے لئے جاری ہے ‘ امریکہ ‘ یورپی یونین ‘ روس‘ چین ‘ اسرائیل ہر کوئی یہاں اپنے دہشت گرد لڑاکو گروہوں کے ساتھ تسلط جمائے ہوتے ہیں ۔
پڑوسی ممالک خاص کر لیبیا ‘ مصر ‘ ایتھوپیا یا پھر خلیجی بڑے ممالک سعودیہ عربیہ ‘ اِمارات ‘ کویت اور قطر نے سوڈان کی جاری خانہ جنگی سے اپنے آپ دور اور محتاط رکھا ۔
دنیا میں آپسی تضادات ‘ اختلافات اور لڑائیوں کی وجہہ سے مسلمان بڑے پیمانے پر دانستہ و نادانستہ طور پر تخریب الامۃ الاسلامیہ ‘ کا شکار ہیں ۔ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اور معصوم شہریوں کے حقوق کو پامال کرتے ہوئے بیش بہا قیمتی قومی ذخائر کی لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کے ذریعہ بہترین پُر امن ممالک کو تباہ و تاراج کررہے ہیں ۔ جنرل برہان یا حمیدتی کو آج نہیں تو کل حکومت کو چھوڑنا پڑے گا لیکن مصائب کے نا ختم ہونے والے سلسلے نسل در نسل اسی طرح منتقل ہوتے نظر آرہے ہیں جو نقصانات من حبث القوم معصوم عوام اٹھا رہی ہےاس کی تلافی کے لئے صدیوں لگ جائیں گے ۔ سوڈان کی تکلیف دہ تقسیم ہوئے ابھی 12 سال بھی پورے نہیں ہوئے پھر ایک خانہ جنگی نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور سوڈانی قوم و قبائلتباہی کے داہنے پر پہنچ چکے ہیں ۔بغض‘ انتقام ‘ قتل ‘ غارت گیری ‘ دم و دمار سے غربت ‘ فاقہ کشی سے موت کے سایہ انسانی ‘ بے بس آبادیوں پر سایہ فگن ہیں۔دونوں گروہ مسلمان ہیں ۔ ایمان کا مطلب امن ہوتا ہے جہاں شہریوں کو امن میسر نہیں وہاں سے ایمان نکل کر صرف مادیت کا حصول طاقتور جنگجوؤں اور رؤس الشیطان کی آماجگاہ بن چکی ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ جنگ وجدال آئندہ طویل عرصے تک چلتے رہے گی ۔
تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حمیدتی فورس سے تعاون کے نام پر بحر احمر کے ساحل پر روس اپنا بحری اڈہ قائم کرنا چاہتا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سعودیہ عربیہ و مصر کی بھی رضا مندی حاصل ہوچکی ہے ‘ مغرب کی عجیب ستم ظریفی ہے دنیا میں جاری دہشت گردی پر تو کوئی ایک لفظ کہنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اسلاموفوبیا کا پروپگنڈہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ دنیا اور بالخصوص عرب قطعے میں جاری خانہ جنگی اور آپسی لڑائیوں کو اسلامی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے ۔ روس ‘ یوکرین کی جنگ سے پہلے روس ‘ امریکہ اور دیگر ممالک ‘ عراق و شام میں لڑاکو گروپس ‘ میلشیا اور کرائے کے سیکیوریٹی فورسیس کو لے کر آبادیوں کے آبادیاں تباہ و برباد کردی گئیں ۔ لاکھوں لوگ مارے گئے اور تقریباً 2 کروڑ معصوم عوام کو ہجرت کرنا پڑا۔ شام سے ایران کی میلشیا قدس ‘ کو روس کی جنگ میں یوکرین کے خلاف منتقل کردیا گیا یمن میں حوثی جنگ بندی ہوگئی ۔ حمیدتی کی فورسیس ویگنار کی میلشیا جیسے ہی یمن سے فارغ ہوئی اپنے آقاؤں کے تعاون سے سوڈان میں بغاوت کرتے ہوئے حکومت پر تسلط کے لئے جنگ چھیڑدی۔
مسلم ممالک میں روس کا اثر و رسوخ دن بدن وسعت اختیار کررہا ہے امریکی نواز عرب حکومتیں روسی کیمپ کی طرف اپنا جھکاؤ دکھا رہی ہیں ۔ جس کا لازمی اثر روس کے اندرونی سیاست پر بھی پڑا۔26؍ اپریل 23 کو مسلمانانِ عالم بالخصوص مسلمانانِ روس کے لئے خوش آئند خبر ملی۔
پہلی مرتبہ پوٹین نے26؍ اپریل 23 کو مسلمانوں پر عائد تمام پابندیوں اور تحدیدات کو ختم کرتے ہوئے ‘ اسلام کو دوسرا سرکاری مذہب قرار دیتے ہوئے ‘ تمام مساجد کو دوبارہ کھولنے اور پارلیمنٹ و بلدیات میں مسلمانوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لئے احکامات جاری کئے ۔روس نے اپنے مسلمان شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے خصوصی فنڈ میں جاری کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔روس کو بہت بڑا مسلم بلاک مل چکا ہے مسلمانوں کی طرف پوٹین کا جھکاؤ ذو فطری اور حالات کےتقاضے کے مطابق ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ روسی مسلمان اس سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
افریقہ کے بیشتر ممالک جہاں معدنیات کے لا قیمت ذخائر موجود ہیں وہاں صدیوں سے استعماری طاقتیں کسی بھی صورت سے اپنا کنٹرول اور تسلط برقرار رکھنے کے لئے بدترین سیاست ‘ جنگ ‘ آپسی قتال کے لئے مقامی آبادیوں کو بے دریغ جدید ترین اسلحہ فراہم کرتی رہیں ۔ رونڈا کی نسل کشی 7؍ اپریل اور 15؍ جولائی 1994 کے دوران 100 دن تک جاری رہی جس میں تقریباً 8 لاکھ افراد ہلاک کردیئے گئے تھے ۔ اس نسل کشی کے پیچھے فرانس و اسرائیل کا ہاتھ تھا اسی طرح کانگو‘ سومالیہ ‘ ایتھوپیا وغیرہ افریقی ممالک پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ کئی فوجی اور نجی مسلحہ گروپس اور پڑوسی ملک کی فورس میلشیا دہشت گرد گروپس میں مسلسل ایک دوسرے کا قتل عام اور پہ در پہ حملے کرتے رہتے ہیں ۔
آدھے سے زیادہ افریقی ممالک میں مقامی قبائلی ‘ لسانی گروپس میں خون ریز لڑائیاں سالہا سال سے جاری رہتی ہیں۔ امن معاہدے ہوتے ہیں جو دیر پا نہیں ہوتے ‘ یہ معاہدے وقفہ وقفہ سے ٹوٹتے رہتے ہیں۔ ان تمام ممالک کے پاس حقیقت میں قدرتی ذخائر اور معدنیات کی اتنی دولت ہے کہ پورے یورپ اور ایشیا کو خرید سکتے ہیں ۔
عالمی طاقتیں کسی بھی صورت میں ان افریقی ممالک میں دیر پا امن‘ قانون کی بالا دستی ‘ عدل و انصاف کے لئے عدالتی نظام کو کامیابی سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے نہیں دیتے جن کے پاس عصری اسلحہ کے ڈپو اور کم عمر جنگجوؤں کی کثیر تعداد ہو وہ کبھی بھی امن و سلامتی کو ترجیح نہیں دیں گے ۔ بیشتر افریقی ممالک میں قتل و غارت گیری ‘ بستیوں کے بستیوں کو سپرد آتش کرتے ہوئے عوام کے ساتھ بدترین غیر انسانی ‘ حیوانی سلوک روزانہ کا صدیوں سے مامول بنا ہوا ہے ۔
سوڈان میں جاری سداسہHexagonal اور ہمہ جہتی داخلی جنگ کا خاتمہ اتنا آسان نہیں ہے ۔سوڈانی عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہوئے کئی طاقتور گروپس سوڈان کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے المیہ و کارثہ کا شکار بنا چکے ہیں ۔ افریقہ یونین ‘ عرب لیگ یا قطعے کے بڑے سوپر پاور حالات پر نظر لگائے بیٹھے ہیں لیکن زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے سوڈان کی عسکری ‘ سیاسی صورت حال کے سدھار میں ان کی کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔Wagner کو حمیدتی فورس کے ساتھ کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔اس خانہ جنگی میں Wagner کی سوپر مس ہے۔جب تک روس Wagner کو واپس طلب کرنے کا فیصلہ نہیں کرتا اس وقت تک جنگ کی آگ میں سوڈان جلتا اور تباہ ہوتا رہے گا ۔
Comments are closed.