حفظ اور مدرسہ پلس

 

مولانا محمد برہان الدین قاسمی

ڈائریکٹر مرکزالمعارف ممبئی

میری رائے میں کچھ حضرات جس طرح حفظ اور مدرسہ پلس کورس کے ذریعہ اسکولی تعلیم، مدارس کے بچوں کو دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے ان کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ صرف ایک اچھی کار ہی کسی خوشگوار سفر کو یقینی بنانے کے لئے کافی نہیں ہوتی، بلکہ کسی سفر کا نتیجہ خیز ہونے کے لیے ایک تجربہ کار اور اچھے ڈرائیور کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ شاہین گروپ کے بیدر کیمپس کے اندر سے حفظ پلس کے کچھ اچھے نتائج سامنے آئے ہیں، لیکن ہندوستان بھر میں حفظ پلس کے دیگر جگہوں سے کوئی ہمت افزا نتائج اب تک سامنے نہیں ہے بلکہ ان اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ جدوجہد کر رہے ہیں۔

 

مزید برآں، چونکہ ہم پوسٹ مدرسہ ایجوکیشن یعنی فارغین مدارس کو لے کر تعلیمی میدان میں ایک لمبا عرصہ سے کام کر رہے ہیں اور ہمارے طلباء، جن کو مزید پڑھنے کا شوق ہوتا ہے، اپنی ذاتی محنت اور مختصر راہنمائی سے سینٹرل یونیورسٹیوں میں داخلہ لے رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل بھی کر رہے ہیں. مدرسہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، صرف دسویں کے امتحان میں بیٹھنے کے لئے، مزید دو سال (شاہین کے پروجیکٹ میں 18 مہینے) کا وقت میرے خیال میں بہت زیادہ ہے۔ طلبائے مدارس کے لئے ہائی اسکول (دسویں) کی امتحان میں شرکت کو مدرسہ کی تعلیم کے ساتھ ہی ایک منصوبہ بند نظام تعلیم اور موجودہ نصاب میں معمولی تبدیلی کے ذریعے یقینی بنا یا جا سکتا ہے۔

 

دوسری بات یہ ہے کہ ہم مدرسوں سے فارغ التحصیل بچوں کو ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی (سائنس) کی طرف دھکیل کر انہیں صرف ڈاکٹر اور انجینئر ہی بنا نے کی خواب کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اس خواب کا عملی طور پر وجود میں آنا، جتنا کہ یہ کاغذ میں خوبصورت اور اچھی لگتی ہے، اس سے کہیں زیادہ مشکل عمل ہے۔ اس کے بجائے آرٹس اسٹریم میں اچھی تعلیم کے ذریعہ UPSC، قانون، سوشل سائنس اور ہیومینٹیز کے دیگر اسٹریمز میں تعلیم، مدرسہ کے بعد، بچوں کے لیے آسان اور زیادہ نتیجہ خیز ہوں گے۔

 

میری تشویش یہ ہے کہ کسی منصوبے پر صرف میڈیا اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے بڑی تعداد میں افرادی قوت اور عوامی وسائل کو، اس کے مستقبل کے نتائج اور تمام فوائد و نقصانات کا گہرا مطالعہ کیے بغیرلگانا، امت مسلمہ کے لئے مستقبل میں ایک اور غیر دانشمندانہ قدم ثابت نہ ہو جائے. میں عام طور پر کسی بھی قسم کی تعلیمی کاوشوں پر منفی رائے نہیں رکھتا، کچھ وقت تک انتظار کرنے اور دیکھنے کو ترجیح دیتا ہوں، لیکن اس پروجیکٹ کے بارے میں خدشہ ہے کہ کہی بہت دیر نہ ہو جائے. بہر حال دعا ہے کہ یہ پروجیکٹ نتیجہ خیز ہو اور ہماری نیک تمنائیں پروجیکٹ کے ساتھ ہیں!

 

والسلام

محمد برہان الدین قاسمی، ممبئی

Comments are closed.