ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں کانٹے کی ٹکر
از: ناظم الدین فاروقی
عوامی جہوریہ ترکیہ کی تاریخ کا سب سے اہم فیصلہ کن الیکشن آج منعقد ہو رہا ہے سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد استعماری طاقتوں نے عوامی انقلاب اور نئے ترکی کا نعرہ دے کر سیاسی‘ معاشی ‘ لسانی ‘ عظیم ثقافتی ‘ تہذیبی بنیادوں کو ڈھاکر انفرادی واجتماعی معاشرتی زندگی کو مغربی طرز پر استوار کی گئی ۔ برطانیہ اور دیگر یورپی اقوام نے ترکی پر اپنے 5سالہ مختصر تسلط کے بعد حکومت کی باگ ڈور اپنی پسندیدہ جنریل کال اتاترک کو 1923 میں سونپی تھی ۔
اتاترک نے 14 سال حکومت کی ان کا 1938 میں انتقال ہوگیا اس وقت تک ترکی مکمل طور پر یورپ کی غلامی میں چلا گیا تھا۔ کال اتاترک نے عوامی جمہوریہ ترکیہ کا ایک ایسا مضبوط دستور بنایا جہاں دوبارہ سے کبھی ترکیہ اسلام اور اسلامی تہذیب کے قریب نہ آسکے ۔اس وقت کے حالات کا اندازہ صرف ایک تاریخی واقعہ سے آسانی سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام پسندوں اور دین کے علمبرداروں پر لامتناہی خوفناک اعتاب 80 سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ 1960 میں بابا عدنان مندریش انتخابات میں کامیاب ہو کر وزیرآعظم منتخب کئے گئے تھے ۔ جب انھوں نے مساجد سے دی جانے والی اذانوں پر جو پابندی کو برخواست کرتے ہوئے اسے بحال کردیا۔ اور دینی مدارس کو کھولنے کی اجازت دے دی تھی تو ملک کی الحاد پرست ملٹری اور حکومت نے باباعدنان مندریش اور ان کے 4 رفیق و وزرا کو موت کی دیتے ہوئے پھانسی پر چڑھادیا تھا۔
اتاترک کے تیار کردہ دستور کی گرفت اتنی سخت ہے کہ رجب طیب اردغان جو ترکیہ کو عالم اسلام و عرب کے قریب کرنے میں شہرت رکھتے ہیں 20 سالوں سے حاکم رہنے کے باوجود دستور میں کئی بنیادی اہم تبدیلیاں کرنے سے قاصر رہے۔ ترکی میں آج بھی عائلی قوانین غیر شرعی و غیر اسلامی ہیں ۔ چاہے وہ شادی بیاہ کا معاملہ ہو یا عورتوں کی وراثت کا معاملہ ہو یا پھر سرکاری کارپوریٹ کمپنیوں میں خاتون ملازماؤں کے اسکارف کے زیب تن کرنےکا معاملہ ہو شہریوں کے کئی بنیادی مذہبی حقوق کو بحال نہیں کیا جاسکا ۔کیا آپ تصور کرسکتے ہیں آج بھی مقامی معاشرہ اور بلدیہ اور کارپوریشن قدیم تاریخی مساجد کو بلڈوز کرنے کے لئے علاقائی سطح پر سرکاری قراردادیں منظور کرتے ہیں ۔ اذان پر پابندی لگانے کی کئی علاقوں میں کامیاب کوششیں ہوچکی ہیں ۔ قانون کے مطابق ترکی عورت اپنے شوہر سے نان و نفقہ کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔ اس کی گزر بسر کے لئے اس کو خود کمانا لازمی ہے ۔ اگر وہ خود کفیل نہیں ہے تو شوہر کو حق حاصل ہے کہ اسے گھر سے بے دخل کردے یا نکال باہر کردے۔ زندگی میں حلال و حرام ‘ اجتماعی بدکاری ‘ شراب نوشی ‘ قمار بازی ‘ لیو ان ریلیشن شپ پر کوئی پابندی حاصل نہیں ہے۔ نظام تعلیم مکمل طور پر لا دینی و الحاد پرست ہے۔
ترکی کے اسلامی مفکر حال نجم الدین اربکان کی ابتدا سیاسی جدوجہد نے 1990 کے دہے میں اسلام پسند ترکیوں کے درمیان ایک نئی اسلامی روح پھونکی اور بحیثیت مسلمان کے دولۃ عثمانیہ کی عظیم شاندار ماضی کو دوبارہ بحال کرنے اور مسلم معاشرہ کے لئے اسلام کوواحد سیاسی ‘ ثقافتی ‘ معاشی حل کے طور پر پیش کیا ۔وہ 1997-1996 میں ایک سال کے لئے وزیر آعظم ترکی رہے ‘ بعد میں ترکی ملٹری دستوری کمیٹی نے انھیں معزول کردیا تھا۔استاذ نجم الدین اربکان کو حکومت اور اسلام دشمن سیاسی جماعتوں اور حکومت کے اعتاب کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مرتبہ جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں ۔ ان ہی کے افکار و نظریات کا حامل و تربیت یافتہ اور ایک نمائندہ کارکن ان کی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی علیحدہ پارٹی A.K. Party کی بنیاد ڈالی۔ جوآئندہ چل کر ترکی کا عظیم مسلم قائد اور حکمران بن کر ابھرا۔ رجب طیب اردغان نے جمہوری نظام سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنے اسلام پسند سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے اور دنیا کے سامنے ایک پُر زور طاقتور آواز بن کر ابھرنے کی کامیاب کوشش کی۔ کئی مرتبہ سخت ترین حالات سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ جولائی 2016 میں خوفناک فوجی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ ترکی کی عوام نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرکے اس فوجی بغاوت کو ناکام بنادیا تھا ۔
رجب طیب اردغان کی عالم اسلام اور مجبور مظلوم مسلمانوں کے لئے بار بار بلند کئے جانے والی آواز نے عالمی استعماری طاقتوں کی نیند حرام کردی تھی ۔ عالم اسلام میں ان کے منفرد قائدانہ رول کو دیکھتے ہوئے عرب شیوخ اور حکمران بھی ہمیشہ ان سے ناراضگی کا شکار رہے ۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی بڑی تعداد ہمیشہ اس بات کے لئے کوشاں رہی کہ کس طرح سے طیب اردغان کو کمزور کیا جائے اور ترکی معیشت کو بدترین معاشی انحطاط کی جانب ڈھکیلا جائے ۔2002 تک طیب اردغان نے IMF اور عالمی بینکوں کے قرضوں کو مکمل طور پر ادا کرچکے تھے ۔ ترکی کی معاشی ترقی کو دھکہ پہنچانے کے لئے کئی مرتبہ ترکی لیرا کی قیمت قدر گرائی جاتی رہی ‘ لیرا کو بار بار کمزور کیا جاتا رہا ہے ۔
طیب اردغان نے 30 لاکھ شامی مہاجرین کو بسنے کے ساتھ ترکی میں کام کرنے کی اجازت دی‘ پڑوسی ممالک شام میں جاری خانہ جنگی اور سیاسی دباؤ کو بڑی سیاسی غیر معمولی دانشمندی اور حکمت عملی کے ذریعے پُر امن حل تلاش کیا۔ شام ‘ ایران ‘ روس ‘ لیبیا ‘ خلیجی ممالک کے علاوہ یورپی ممالک کے ساتھ بار بار اختلافات ابھرتے رہے لیکن بڑے ہی صبر کے ساتھ الجھنے والے معاملات کو سلجھانے کی کامیاب کوشش کی تھیں۔
ترکی کے حالیہ زلزلے میں 2 لاکھ سے زیادہ شہری ہلاک ‘ کئی شہر و گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ‘ زلزلنے کی وجہہ سے ساری قومی توجہات ان متاثرہ علاقوں کی طرف مبذول ہوگئی ۔ اور ترکی کے معاشی ترقی پر گہرے منفی اثرات پڑے ۔ کہا یہ جاتا ہے کہ آئندہ دو سال تک قومی ترقی کی رفتار ایسی سست روی سے جاری رہے گی ۔ اردغان کے دور میں عراق سرحد پر پٹرول کے علاوہ اور اندرونی علاقوں میں سونے کے قیمتی ذخائر بھی دریافت کئے گئے ۔ ترکی میں یورپ کی سب سے طویل 14 کیلو میٹر کی طویل سرنگ تعمیر کی گئی اس کا گزشتہ ماہ افتتاح عمل میں لایا گیا‘ اس کے علاوہ ٹکنالوجی کے جہت پر ترکی نے کافی ترقی کی ہے ۔یورپ کے مصنوعات مارکٹ کا 60% حصہ ترکی نے حاصل کرلیا ہے۔
طیب اردغان کے صنعتی ‘ معاشی انقلاب کا جو خواب تھا وہ کساد بازاری کا شکار ہوتا رہا ۔ اور کئ عرب ممالک نے سرمایہ کاری کرتے ہوئے گرتی ہوئی معیشت کو بچانے میں مدد کی۔ سیاسی ‘ بین الاقوامی ‘ سفارتی ‘ داخلی و بیرونی سخت چیالنجس کے باوجود ترکی نے زبردست صنعتی اور اختراعی میدان میں ترقی کی ۔ جس کا کئی ممالک کو راست فائدہ ہوا ۔ تاجکستان و ارمینیا کی جنگ میں ترکی کے ڈرونس نے ارمینیا کو شکست سے دوچار کردیا تھا ۔ اس طرح بحری ساز و سامان اور جدید ترین ٹکنالوجی میں دنیا میں اپنا منفرد مقام پیدا کیا۔ ترکی بے شمار ایسی کمپنیاں ہیں جنھوں نے امریکہ ‘ یورپ اور ایشیا افریقہ کے بازار میں اپنے وجود کا لوہا منواتے ہوئے چینی ‘ اسرائیلی ‘ روس ‘ امریکی ‘ یورپی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اشیائے خوردنی سپلائی کرنے والی کمپنی ٹریڈول Tradeol نے دنیا کی مشہور چینی کمپنی علی بابا کی 12 بلین ڈالر کی مارکٹ کو کراش کرتے ہوئے 14 بلین ڈالر کا ایک سال میں کاروبار کیا اور اب امریکی بازار میں یہ کمپنی داخل ہوچکی ہے ۔ ایسی کئی کمپنیاں ہیں جس کا ذکر یہاں ممکن نہیں ۔
یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ آج کے عام انتخابات میں طیب اردغان اپنی صدارتی کرسی بچا سکیں گے یا نہیں ؟ طیب اردغان کو خود ان کی پارٹی میں داخلی ناراضگیوں کے علاوہ اور مغربی ممالک کی طرف سے زبردست ہلاکت خیز چیالنجس کا سامنا ہے۔
طیب اردغان کو شکست دینے کے لئے 6 اپوزیشن پارٹیاں آپس میں متحد ہوگئیں ہیں ۔ وہ اتاترک کے سیاسی نظریات کے حامل الحاد پرست اشتراکی‘ اسلام دشمن پارٹیاں ہیں ‘ترقی پسند سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ’’ مذہب ایک افیون ہے مذہب پرستی سے انفرادی اور عام سوسائٹی کی اجتماعی آزادی قدیم اصولوں کے محاصرہ میں جکڑ دی جاتی ہے اگر اردغان کو ووٹ دیا جائے اور ترکی پھر ایک مرتبہ مذہب پرستوں کے ہاتھوں میں بدترین زوال کا شکار ہوجائے گا ۔ لادینی ‘ غیر مذہبی ‘ اشتراکی آزاد مغربی طرز کی قومی سیاسی زندگی کو بحال کرنا ان کی متحدہ جدوجہد ہے ‘ وغیرہ‘‘۔
طیب اردغان گزشتہ تمام عام انتخابات میں اس لئے کامیاب ہو سکے تھے کہ ان کے سیاسی مخالفین آپس میں بٹے ہوئے اور تھے ۔ گزشتہ انتخابات کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ آزاد ‘ جدید اتاترک کے نظریات کے حامل تمام پارٹیوں کا مجموعی ووٹ کا 55% حاصل کیا تھا ۔ جب کہ طیب اردغان کو اور ان کی پارٹیA.K.Justice کو 45% ووٹ مل سکے تھے۔چونکہ اس وقت سیاسی جماعتیں آپس میں شدید اختلافات کا شکار تھیں ۔بار بار شکست سے دوچار ہوتی رہیں ۔ اس مرتبہ معاملہ قدرے مختلف ہے۔ لیکن اب صورت حال بالکل مختلف ہے اور حالات بدل چکے ہیں ۔ تمام آزاد اشترکی 5 پارٹیاں آپس میں متحدہ ہوچکی ہیں ۔ اردغان کے مخالف میں ایک امیدوار تھا جس نے کل ہی عظیم اتحاد کی تائید میں انتخابات میں حصہ لینے علیحدگی اختیار کرلی ہے ۔
75 سالہ امیدوار کمال اوغلوجو علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں کی تائید میں کرتے ہیں ایک مضبوط سیاسی مبادل لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں ۔ اگر عوام کا ذہن بدلتا ہے تو پھر طیب اردغان کا موجودہ انتخابات میں شکست سے دوچارہوجانا یقینی ہے ۔
امریکہ ‘ روس ‘ خلیجی ممالک اسرائیل جیسے ممالک ‘ داخلی اسلام دشمن طاقتیں اور یورپ کا میڈیا ایک ہی آواز بلند کر رہا ہے کہ اسلامی امپریلزم کے خاتمے کے لئے اردغان کو شکست دواور تمام بڑے ترکی میڈیا ہاؤس اس بات پر ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح سے انتخابات میں طیب اردغان کو بدترین شکست ہوجائے ۔
بعض سیاسی قائدین جیسے اکرم اغلو ‘ میئر استنبول نے برملا کہا ہے کہ انتخابات میں اردغان کامیاب ہو یا ناکام پھانسی کا پھندا ان کا انتظار کر رہا ہے اگر وہ انتخابات میں کامیاب بھی ہوجائیں تو ہم چاہیں گے ترکی کو تقسیم کرکے آزاد اشتراکی ترکی کو دوبارہ سے بحال کریں ۔اس میں کوئی شک نہیں طیب اردغان کو جو عوامی شہرت حاصل ہے ترکی میں کسی لیڈر کو نہیں ‘ یہی وجہہ ہے کہ دنیا میں کسی سیاسی انتخابی جلسے میں پہلی مرتبہ 1.8 ملین سامعین کا ٹھا ٹھا مارتا ہوا سمندر استنبول میں طیب اردغان کے آخری خطے میں دیکھا گیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ نظر آنے والی زبردست عوامی تائید ووٹ میں تبدیل ہو کر طیب اردغان کو دوبارہ انتخابات میں پھر ایک مرتبہ کامیابی سے ہمکنار کرے ۔
اپوزیشن پارٹیوں اور طیب اردغان کی A.K. Party میں بمشکل 2% ووٹ کا فرق ہے ‘ ذرا سی تبدیلی سے کوئی بھی امیدوار صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوسکتاہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگر دونوں کو مساوی ووٹ ملتے ہیں تو پہلے ہی سے ترکی کے الیکشن کمیشن نے ایک اور الیکشن کی آئندہ تاریخ کا بھی اعلان کردیا ہے۔
انتخابات میں بدعنوانیوں کا خدشہ کم ہے کیوں کہ اب بھی وہاں پر ووٹ بائیلٹ پیپر کے ذریعہ ڈالا جاتا ہے۔ EVM کا استعمال الیکشن کو مشتبہ بنا سکتاہے اس لئے بائیلٹ پیپر کو ہی ترجیح دی جاتی ہے ۔ چند منٹوں کے انتظار کے بعدترکی عوام کا فیصلہ سامنے آجائے گا ۔
Comments are closed.