کچھ کرنے کاوقت

سمیع اللہ ملک
اگرکوئی یہ جانناچاہتاہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں کس عامل نے اہم ترین کرداراداکیاہے یامستقبل میں کون سی اقوام زیادہ کامیاب رہیں گی تواسے اس سلسلے میں آبادی سے بڑھ کرکسی بھی چیزمیں مبادیات نہیں مل سکتے۔گزشتہ50برس کے دوران یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ آبادی کاتنوع ہی کسی بھی قوم کی ترقی میں کلیدی کرداراداکرتاہے،چین اس کی واضح ترین مثال ہے۔اس نے اپنی غیر معمولی آبادی کے نوجوانوں کوتعلیم وتربیت سے آراستہ کیااورایک ایسی ورک فورس تیارکی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیاکوحیران کردیا۔ پورے چین نے باقی دنیاکیلئے فیکٹری کی حیثیت اختیارکرلی۔
آج ماہرین یہ پیش گوئی کررہے ہیں کہ آنے والے عشروں میں چین کی معاشی نمومیں کمی آتی جائے گی۔اس کاسبب یہ نہیں ہے کہ چینی معیشت اب پختہ ہوچکی ہے اوراس میں مزید نموکی گنجائش نہیں رہی بلکہ چینی آبادی میں بڑی عمروالوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور یہ بڑھتی تعداد بہت سے معاملات پراپنے اثرات مرتب کرکے رہتی ہے۔چین کے ٹیک آف کے دورمیں جوسرمایہ کاری کی گئی تھی اس پرشرحِ منافع برقراررکھنے کیلئیدرکارتربیت یافتہ مستعد ورک فورس اورسستا سرمایہ بھی دستیاب نہیں۔
جس دورمیں چین نے غیرمعمولی رفتارسے ترقی کی اسی دورمیں اس کے بالکل برعکس معاملات جاپان،امریکااوریورپ میں دیکھے جا سکتے ہیں جہاں آبادی میں کام کرنے والوں کی تعدادگھٹ گئی اوربچوں،بوڑھوں کی تعدادبڑھی۔جاپان کی ورک فورس میں کمی آئی اور معمرافرادکی تعدادبڑھتی گئی۔امریکامیں بھی کچھ ایساہی ہوا۔یورپی ممالک کامسئلہ اِس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔وہاں آبادی میں اضافے کی رفتارخطرناک حدتک کم ہے۔معمرافرادمزیدریٹائرمنٹ کی طرف جارہے ہیں جبکہ بچوں کی تعدادکم ہونے کے باعث ورک فورس میں نوجوانوں کوشامل کرنے کامعاملہ راستے میں اٹک کررہ گیاہے۔ ایسے ممالک میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والوں کی تعدادگھٹ گئی ہے اوربچوں،بوڑھوں کی نگہداشت کے مراکز بھی تیزی سیکم ہورہے ہیں۔
آبادی کے حوالے سے تاریخی اعتبارسے اہمیت کی حامل ایک اورکہانی کاجنم ہونے والاہے مگردنیاکواس کاکچھ زیادہ اندازہ نہیں۔یہ عظیم ترین تبدیلی افریقامیں رونماہوگی اوریہ محض قیاس آرائی کامعاملہ نہیں کیونکہ جوکچھ ہوناہے اس کے آثارنمایاں ہوچکے ہیں۔کسی بھی ملک کی آبادی کوڈھنگ سے بروئے کارلانے کیلئیاسے کوئی واضح سمت دیناپڑتی ہے،اس کے سامنے کوئی بڑامقصدرکھنا پڑتاہے۔چین نے بھی یہی کیااورجاپان نے بھی یہی کیاتھا۔آبادی کوبروئے کارلانے اوراسے قومی تعمیرمیں کلیدی کرداراداکرنے کے قابل بنانے کیلئے جامع اوربے داغ پالیسی اورحکمتِ عملی تیارکرناپڑتی ہے۔
افریقامیں آبادی میں اضافے اورفی عورت زچگی کی شرح بہت زیادہ ہے۔اس وقت پورے برِاعظم کی آبادی ایک ارب40کروڑہے۔اقوام متحدہ کے شعبے پاپولیشن ڈویژن نے ماہرین کی آراکی روشنی میں پیشگوئی کی ہے کہ اگرمعاملات یونہی رہے تورواں صدی کے آخر تک افریقا کی آبادی ساڑھے چارارب ہوچکی ہوگی۔افریقاکی آبادی میں ایک طرف اضافہ ہورہاہے،یعنی بچوں اورلڑکپن کی حدودمیں قدم رکھنے والوں کی تعدادبڑھ رہی ہے اوردوسری طرف ریٹائرمنٹ کی عمرکوپہنچنے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔
افریقاکے حوالے سے سوچناانتہائی تکلیف دہ ہے۔اس برِاعظم کی ترقی کے امکانات انتہائی محدودہیں۔ایسے ممالک بھی ہیں جن کی آبادی میں اضافہ ہورہاہے جبکہ وہ سیاسی عدم استحکام سے دوچارہیں،خشکی سے گھرے ہوئے ہیں،صحرائی علاقے وسعت اختیارکررہے ہیں اورزرخیززمین کارقبہ گھٹتاجارہاہے۔نائیجیریا،مالی اورچاڈنمایاں میں غربت انتہاکو پہنچ چکی ہے۔آبادی کے تنوع کے اعتبارسے جس ملک پرسب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہیے وہ نائیجیریاہے۔نائیجیریاکی آبادی20کروڑسے زائدہے۔یہ آبادی کے لحاظ سے افریقاکاسب سے بڑا ملک ہے اوراس کا مجموعی رقبہ امریکی ریاست ٹیکساس کے رقبے سے محض ایک تہائی زیادہ ہے۔ آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کے شعبے نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں صدی کے آخرتک نائیجیریاکی آبادی کم وبیش70کروڑ ہوچکی ہوگی۔تب اس محدودرقبے والے ملک کاکیابنے گا؟
چین نے تواپنی آبادی کی نئی نسل کوڈھنگ سے بروئے کارلانے میں کامیاب ہوگیاہیمگرنائیجیریامیں ایسا کچھ بھی نہیں۔کسی بھی ملک کیلئے حقیقی سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں۔ نائیجیریا میں ایک طرف توشدیدسیاسی عدم استحکام اوردوسری طرف اشرافیہ بھی نااہل ہے یعنی ملک کے وسائل کوڈھنگ سے بروئے کارلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔اس کانتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ لاکھوں نوجوان کالج کی سطح کی تعلیم مکمل کرلینے کے باوجودبہترروزگارسے محروم ہیں اوربہترمستقبل کیلئیملک سے باہرجاناان کی مجبوری بن چکاہے۔آبادی کے حوالے سے نائیجیریا کوجس صورتِ حال کاسامناہے وہ ایک بڑے اورخطرناک بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔سیاسی عدم استحکام کے باعث ملک کے کئی حصے اس قدربگڑے اوربپھرے ہوئے
ہیں کہ ان پرحکمرانی محض خواب ہوکررہ گئی ہے۔نائیجیریا میں36صوبے ہیں۔ ’’دی نیو ہیومینیٹیرینز‘‘The New Humantariansکے مطابق ان میں سے ایک کے سواتمام ریاستوں میں معاملات کوکنٹرول کرنے کیلئے فوج تعینات کی جاچکی ہے۔
نائیجیریاایک ایساملک ہے جوپرعزم،محنتی اورمستعد ورک فورس تیارکرنے کے حوالے سے معروف رہاہے مگرآزادی کے بعدسے اس ملک میں تیل کی دولت کوزیادہ سے زیادہ ہتھیانے کیلئے گروہوں میں چپقلش ہوتی رہی ہے۔باقی تمام امورکو یکسرنظرانداز کردیاگیاہے۔ نائیجیریامیں آبادی کوبروئے کارلانے پرکبھی توجہ نہیں دی گئی۔ملک کی آبادی کابڑا حصہ زراعت پرمنحصرہے مگرزراعت کوبھی جدید دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پرتوجہ نہیں دی گئی۔نئی نسل کواعلی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنے کامعاملہ بھی سردخانے میں ڈالا جاتارہاہے اورملک میں صنعتی عمل بھی کبھی اس طرح شروع نہیں کیاگیاجس طرح شروع کیاجاناچاہیے تھا۔عشروں کی غفلت اورنااہلی کا نتیجہ بھگتنے کاوقت آگیاہے۔کوروناوباکے باعث پوری دنیامیں معیشتیں خرابی سے دوچارہیں۔عالمی معیشت کی خرابی نائیجیریاپربھی اثر اندازہوئے بغیرنہیں رہے گی۔حالات اس موڑکی طرف رواں ہیں جہاں تیل پیدا کرنے والے غریب وپسماندہ ممالک کیلئے معاملات انتہائی ناموافق ہوں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ حتمی تجزیے میں ہوگاکیا؟نائجیریاکے حالات کے سامنے رکھتے ہوئے ذراپاکستان کابھی تجزیہ کرلیں کہ اس وقت اقتدارکی جنگ ہم کسی تباہی کی طرف لیجارہی ہے؟

Comments are closed.