چنڈی گڑھ: زور کا جوتا ہاں زوروں سے لگا
ڈاکٹر سلیم خان
سپریم کورٹ نے پچھلے تین ہفتوں میں بی جے پی کو تین جھٹکے دے کر اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کرلی ۔ پہلا اور تیسرا جھٹکا چنڈی گڑھ میئر کے معاملے میں تھا۔ دوسری پھٹکارالیکشن بانڈر کو لے کر تھی جس میں جیمس بانڈ کی مانند چیف جسٹس نے زعفرانی کمل کے چیتھڑے اڑا دیئے۔ چندی گڑھ میں پہلی بار انڈیا محاذ کا مشترکہ امیدوار این ڈی اے کے سامنے تھا اور قیاس آرائیاں ہورہی تھی کہ عآپ کا جھاڑو کانگریس کے ہاتھ میں کیسا لگے گا ؟ توقع تو یہی تھی کہ کمل کا سُپڑا صاف ہوجائے گا مگر 30 جنوری میئر انتخاب میں کھیلا ہوگیا ۔ اس الیکشن میں کانگریس اورآپ اتحاد کے پاس کل 20 ؍اور بی جے پی کے پاس صرف 16 ووٹ تھے۔ اس طرح انڈیا کی کامیابی یقینی تھی لیکن بی جے پی غنڈائی پر اتر آئی ۔ اس نے الیکشن افسر انیلِ مسیحا سے انڈیا کے 8؍ ووٹ کالعدم قرار دے دئیے اور 12 کے مقابلے 16سے بی جے پی امیدوار منوج سونکر کی کامیابی کا اعلان کروادیا ۔ اس کے بعد پھر مٹھائیوں کا دور چل پڑا ۔ گودی میڈیا اس کھلی عام بدمعاشی کو کو انڈیا محاذ کی پہلی شکست کا نام دے کر بے حیائی کے ساتھ بغلیں بجانے لگا۔ سپریم کورٹ کا یہ جوتا بی جے پی کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے ان نامہ نگاروں کے بھی سر پر بھی پڑا جو اچھل اچھل اس کا میابی کا جشن منارہے تھے۔
عآپ کے لیے اس ناانصافی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ اس نے انتظامیہ یعنی الیکشن کمیشن پر چنڈی گڑھ میئر الیکشن آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے نہ کرائے جانے کا الزام عائد کیا ۔ عآپ کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے بی جے پی امیدوار کو میئر کے انتخاب میں کامیاب کروایا گیا۔ اس وقت عآپ نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کے ایک سبکدوش جج کی نگرانی میں نئے سرے سے انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن جیسا کہ آج کل نچلی عدالتوں میں ہوتا ہے ہائی کورٹ فوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔ اس معاملے کو طول دے کر ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی خاطر ہائی کورٹ نے چنڈی گڑھ انتظامیہ یعنی میونسپل کارپوریشن، پریزائڈنگ افسر اور نومنتخب میئر منوج سونکر سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر تین ہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کو کہہ دیا۔ انصاف میں تاخیر کرکے عدل سے محروم کرنے کا یہ معمول عام ہے۔ یہاں تاریخ پر تاریخ پڑتی رہتی ہے یہاں تک کہ مجرم کےاپنی مدتِ کار کی تکمیل پرسبکدوش ہوجانے سے فیصلہ ازخود بے معنیٰ ہوکر رہ جاتاہے۔
عآپ کےکونسلر کلدیپ کمار جو اب میئر بن گئے ہیں، نے ہائی کورٹ میں ناکامی کے بعد سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا جہاں دو ہفتہ قبل ان کی عرضی پر سماعت کی گئی۔ عدالتِ عظمیٰ میں دورانِ سماعت چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نےاس انتخاب پر اپنی حیرانی کا اظہار کیا۔ انھوں نے عرضی گزار کی طرف سے پیش کردہ ثبوتوں پر غور کرنے کے بعد کہا تھا کہ ریٹرنگ افسر کے ذریعہ بیلٹ پیپر کو نقصان پہنچانا صاف ظاہر ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ سوال بھی پوچھا تھاکہ کیا اسی طرح سے انتخاب کا انعقاد ہوتا ہے؟ وہ بھول گئے کہ یہ بی جے پی کا رام راج ہے اور اس میں مودی ہے تو کچھ بھی ممکن ہے؟عآپ کونسلر کلدیپ کمار کی عرضی پر چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے نہایت جارحانہ رویہ اختیار کرلیا تھا۔ انہوں نے چنڈی گڑھ میئر الیکشن تنازعہ پر خلافِ توقع نہایت تلخ تبصرے کرتے ہوے پہلے توکہا تھا کہ ’’ یہ جمہوریت کا مذاق ہے ‘‘مگر اس پر انہیں اطمینان نہیں ہوا تو وہ بولے ’’ ایسا برتاؤ جمہوریت کا قتل ہے اور پورے معاملے سے ہم حیران ہیں‘‘۔ چیف جسٹس نے سوال کیا تھا کہ’’ کیا یہ پریزائڈنگ افسر کا رویہ ہے؟ اس افسر پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔‘‘
سپریم کورٹ کے اندر پہلے مرحلے میں پندو نصیحت تو خوب ہوئی مگر کوئی حکم نہیں دیا گیا ۔اس طرح یہ سنگین معاملہ لوٹ کر پھر سے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں آگیا اور اس نے حسبِ سابق یہ کہہ دیا کہ اسے کوئی جلدی نہیں ہے حالانکہ عدالت عظمیٰ نےاس کے رجسٹرار جنرل کو بیلٹ پیپر، ویڈیوگرافی اور دیگر مواد سمیت انتخابی عمل کے پورے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اسی کے ساتھ آئندہ سماعت تک چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن کی اگلی میٹنگ کو ملتوی کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ بی جے پی کو جب عدالت کے رویہ سے احساس ہوگیا کہ اب دال نہیں گلے گی تواس نے دوسرا پلان بی تیار کیا اور اس کے پتےّ کھولنے کی حماقت بھی کردی ۔ اس نے اعلان کردیا کہ عام آدمی پارٹی کے تین ارکان پالا بدل کر بی جے پی میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں ۔ اس طرح گویا انڈیا محاذ کی تعداد گھٹ کر 17؍ اور این ڈی اے کے کونسلرس بڑھ کر 15؍ہوجاتے اور اس کے لیے مزید ایک کونسلر کو توڑ کر اپنا میئر مسلط کردینا نہایت آسان ہوسکتا تھا ۔
بی جے پی نے نئی حکمتِ عملی کو بروئے کار لانے کے لیے اپنے میئر منوج سونکر کا سپریم کورٹ کی سماعت سے ایک دن قبل استعفیٰ دلوا دیا ۔ اس کے بعد اپنے سینئر وکیل منیندر سنگھ سے بنچ کے سامنے کہلوایا کہ دفعہ 38(3) کے مطابق نئے انتخابات کروائے جا ئیں۔ آئین کی دھجیاں اڑا کر انصاف کی چتا جلانے والے منوج سونکر کے وکیل نے بڑی بے حیائی کے ساتھ عدالت میں کہا کہ دستوراور عدل کا تقاضہ ہے کہ دوبارہ الیکشن ہو۔ اس کے جواب میں عآپ کے امیدوار کلدیپ سنگھ کے وکیل کی دلیل تھی کہ یہ لوگ پھر سے الیکشن چاہتے ہیں تاکہ اس کا فائدہ اٹھا کر کونسلرس کی خریدو گروخت کرسکیں۔ نئے انتخاب کے دوران ملنے والی مدت میں یہ لوگوں کو توڑ سکتے ہیں۔ سی جے آئی نے اس دلیل کی تائید میں کہا کہ ’’ہارس ٹریڈنگ ایک سنگین معاملہ ہے۔ ہم اس بابت فکر مند ہیں‘‘۔ ان کے خیال میں چندی گڑھ کے میئر کا انتخاب میں کامیاب امیدوار کا اعلان نئے کے بجائے پچھلے ووٹ کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ مدعی کے وکیل نے گہار لگائی کہ نیا انتخاب بیلٹ پیپر پر لگائے جانے والے نشان کو نظر انداز کرکے کیا جانا چاہیے۔ سالیسیٹر جنرل نے درمیان میں قینچی مارتے ہوئے پھٹے ہوئے بیلٹ پیپر کی ہائی کورٹ میں جانچ کامطالبہ کیا مگر مدعی نے بتایا کوئی پیپر پھٹا ہی نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے بالآخر بی جے پی کی ساری چالبازیوں کو ناکام کرکے عآپ کے امیدوار کلدیپ کمار کو چندی گڑھ میئر کے انتخاب کا فاتح قرار دے دیا۔ اس فیصلے نے بی جے پی کے آلۂ کار ریٹرننگ آفیسر انیل مسیح کو مشکل میں ڈال دیا۔ عدالت عظمیٰ کے مطابق اس نے جو کچھ کیا ہے وہ جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ کے جسٹس منوج مشرا اور جسٹس جے بی پارڈی والا نے خود بیلٹ پیپرز کی جانچ کی اوران تمام آٹھ بیلٹ پیپرز کو درست قرار دیا جنہیں ریٹرننگ آفیسر نے غلط قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اس پورے معاملے میں ریٹرننگ افسر واضح طور پر قصوروار ہے اور بیلٹ پیپرز خراب نہیں ہوئے۔ انہیں صحیح طریقے سے فولڈ کیا گیا تھا اور ان پر ربڑ سٹیمپ بھی تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسیح نے دو غلطیاں کی ہیں ۔ پہلے تو اس نے الیکشن خراب کیا اور دوسرا عدالت کے سامنے جھوٹ بولا۔ ایسے میں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالت نے انتخابی عمل میں مداخلت کرنے والے انیل مسیح کے خلاف مقدمہ درج کرنےکا حکم بھی دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صاف کہا کہ انیل مسیح نے جو فیصلہ دیا ہے وہ قانون اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ اس لیے آرٹیکل 142 کے تحت مکمل انصاف فراہم کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔ اگر باطل قرار دیئے گئے 8 ووٹوں کو جوڑ دیا جائے تو عام آدمی پارٹی کے امیدوار کے پاس کل 20 ووٹ ہیں۔ ایسے میں انصاف یہی ہے کہ موجودہ الیکشن کو برقرار رکھا جائےجس میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار کلدیپ کمار واضح طور پر جیت رہے ہیں۔ چنڈی گڑھ کے معاملے میں ریٹرننگ افسر انیل مسیح تو یہ معمولی کٹھ پتلی ہے جو بلی کا بکرا بن گیا۔ اس قتل کی سزا ان لوگوں کو ملنی چاہیے جنھوں نے اس کو اپنا آلۂ کار بنایا۔ یہ پتہ لگانے کی خاطر کہ وہ کون لوگ ہیں کسی تفتیش کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اس دغابازی کا جن لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور جشن منایا وہی ماسٹر مائنڈ ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ اگر واقعی یہ چاہتی ہے کہ اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہوتو صرف انیل پر کارروائی کرنے بجائے بی جے پی کے دیگر عہدیداریا کم ازکم منوج سونکر کو بھی سزا ملنی چاہیے ورنہ دیگر مقامات پر یہ گھناونا کھیل جاری رہے گا ۔ ویسے انڈیا اتحاد کی یہ کامیابی بی جے پی کے لیے لمحۂ فکریہ ضرور ہے ایسے میں بی جے پی کی حالت پر نکاح فلم کا یہ نغمہ معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتاہے؎
دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے ہم دغا کرکے بھی رسوا ہوگئے
Comments are closed.