ہندو ٹیکس،مسلم ٹیکس
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔ 9986437327
کرناٹکامیں اسمبلی انتخابات سے قبل لوجہاد،اذان،حجاب،حلال کٹ جیسے مدعوں پر سیاسی کی گئی،ریاست میں ہندوئوں اور مسلمانوں میں نفرت پھیلانے کیلئے بھاجپاکی طرف سے ہر ممکن کوشش کی گئی،اس کوشش میں بھلے ہی بی جے پی کوناکامی ہوئی اور انہیں ریاست کی عوام نے گیارنٹیوں کے سامنے ٹھکرادیاتھا،اب پارلیمانی انتخابات قریب آتے ہی پھر ایک مرتبہ تعصب کا کھیل کھیلا جارہاہے،ہندوئوں اور مسلمانوں میں نفرت کی آگ لگانے کی کوشش ہورہی ہے۔جہاں اترپردیش میں حلال اور جھٹکاکٹ کے نام سے سیاست ہورہی ہے،وہیں کرناٹک میں ایک نیاشوشہ چھوڑگیاہے وہ یہ کہ ہندوئوں کا ٹیکس ہندوئوں کیلئے ہو نہ کہ مسلمانوں کےحق میں جائے۔دراصل بھاجپا لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش میں ہے کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت مسلمانوں کو خوب لٹارہی ہے اور ہندوئوں کی طرف اداکئے جانےوالے ٹیکس کو مسلمانوں کیلئے خرچ کیاجارہاہے۔دیکھاجائے تو اس دفعہ کرناٹک کی حکومت نے اپنے بجٹ میں ایک فیصد سے کم کا بجٹ اقلیتوں کے نام کیاہے،باوجود اس کے سنگھ پریواراس کوشش میں ہے کہ مسلمانوں کو نشانہ بناکر ٹیکس کامدعہ کھڑاکیاجائے۔سنگھ پریوارکاکہناہے کہ رام کے نام پر وصول ہوناوالاٹیکس رحیم کو دیاجارہاہے،یعنی کہ ہندوئوں اور ہندوئوں کے مندروں سے جو ٹیکس وصول ہورہاہے،اُس ٹیکس کو مسلمانوں اور اوقافی اداروں کو دیاجارہاہے۔ریاست میں سنگھ پریوار اسی مدعے کوبناکر اگلے پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں و ہندوئوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔واضح ہوکہ کرناٹک میں مجرائی محکمہ جو ہندوئوں کے مندروں کی دیکھ بھال کرتاہے اور اس کی آمدنی کا حساب رکھتاہے،اس کے مطابق مجرائی محکمہ سے کرناٹکا حکومت کو سالانہ450 کروڑ روپئے آمدنی ہے،جبکہ اس کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔وہیں اوقافی املاک ریاست کی بیش قیمتی وراثت ہے،اس کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے اگر کچھ بجٹ جاری ہوتاہے تو اس میں بُرائی کیاہے،لیکن سنگھ پریوارکی طر ف سے مسلسل اس فنڈس کو لیکر اعتراضات پیش ہورہے ہیں۔بات کرتے ہیں ٹیکس کی،کسی بھی ریاست کی ترقی وبہبودی کیلئے کوئی خاص مذہب یا ذات وجہ نہیں بنتے،بلکہ تمام مذاہب ،ذاتوں اورشعبوں کو ملا کر ریاستوں کی ترقی ممکن ہے۔کرناٹک میں اس وقت سنگھ پریواریہ دعویٰ کررہی ہے کہ ہندوئوں کا ٹیکس مسلمانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے دیاجارہاہے،جبکہ اس ریاست کی ترقی کیلئے جہاں ہندوئوں کی محنت ہے وہیں مسلمانوں کی بھی قربانیاں ہیں،اگر سنگھ پریواریہ سمجھ رہاہے کہ اگر ہندوئوں کے ٹیکس سے یہ ریاست ترقی کررہی ہے توانہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر سال عرب ممالک سےہزاروں ارب روپیوں بھارت کو مل رہے ہیں،سال2019 میں50 بلین ڈالرس کی رقم بھارت کو دستیاب ہوئی تھی،جبکہ 110 بلین ڈالر23-2022 میں ملے ہیں،یہ رقم ہندوستانیوں نے عرب ممالک سے کما کر بھارت کو بھیجے ہیں۔اس میں سے70 فیصد بھارتی مسلمان ہیں تو کیا مسلمان اس بات کا دعویٰ کرینگے کہ جو رقم ہم نے بھارت کو روانہ کی ہے،اُس رقم کا فائدہ صرف مسلمانوں کو ہی دیاجائے۔بھارت میں کئی ایسی کمپنیاں ہیں جو مسلمانوں کی ملکیت میں شمارہوتی ہیں، کرناٹک میں لولو،بیریز،پرسٹیج جیسی کمپنیاں سالانہ حکومت کو کروڑوں روپیوں کا ٹیکس اداکررہی ہیں تو کیا ان کمپنیوں کے مالکان اس بات کا دعویٰ کرینگے کہ ہماراٹیکس صرف مسلمانوں کو اداکیاجائے۔سنگھ پریوارکی طرف سے ہندوئوں کا ٹیکس،مسلمانوں کاٹیکس کا جو ٹیاگ لگایاجارہاہے وہ دراصل حماقت اور آنےوالےپارلیمانی انتخابات کیلئے صرف ایک مدعہ ہے اور اس مدعے کو سامنے رکھتے ہوئے سنگھ پریوارپارلیمانی انتخابات میں نفرت کی سیاست کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ان حالات میں مسلم دانشوروں اور تنظیموں کو ان کے اس متعصبانہ مدعوں کونظراندازکرنے کے علاوہ اس کا ردِ عمل ظاہرکرنے کی ہرگز بھی ضرورت نہیں ہے۔
کرناٹکامیں اسمبلی انتخابات سے قبل لوجہاد،اذان،حجاب،حلال کٹ جیسے مدعوں پر سیاسی کی گئی،ریاست میں ہندوئوں اور مسلمانوں میں نفرت پھیلانے کیلئے بھاجپاکی طرف سے ہر ممکن کوشش کی گئی،اس کوشش میں بھلے ہی بی جے پی کوناکامی ہوئی اور انہیں ریاست کی عوام نے گیارنٹیوں کے سامنے ٹھکرادیاتھا،اب پارلیمانی انتخابات قریب آتے ہی پھر ایک مرتبہ تعصب کا کھیل کھیلا جارہاہے،ہندوئوں اور مسلمانوں میں نفرت کی آگ لگانے کی کوشش ہورہی ہے۔جہاں اترپردیش میں حلال اور جھٹکاکٹ کے نام سے سیاست ہورہی ہے،وہیں کرناٹک میں ایک نیاشوشہ چھوڑگیاہے وہ یہ کہ ہندوئوں کا ٹیکس ہندوئوں کیلئے ہو نہ کہ مسلمانوں کےحق میں جائے۔دراصل بھاجپا لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش میں ہے کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت مسلمانوں کو خوب لٹارہی ہے اور ہندوئوں کی طرف اداکئے جانےوالے ٹیکس کو مسلمانوں کیلئے خرچ کیاجارہاہے۔دیکھاجائے تو اس دفعہ کرناٹک کی حکومت نے اپنے بجٹ میں ایک فیصد سے کم کا بجٹ اقلیتوں کے نام کیاہے،باوجود اس کے سنگھ پریواراس کوشش میں ہے کہ مسلمانوں کو نشانہ بناکر ٹیکس کامدعہ کھڑاکیاجائے۔سنگھ پریوارکاکہناہے کہ رام کے نام پر وصول ہوناوالاٹیکس رحیم کو دیاجارہاہے،یعنی کہ ہندوئوں اور ہندوئوں کے مندروں سے جو ٹیکس وصول ہورہاہے،اُس ٹیکس کو مسلمانوں اور اوقافی اداروں کو دیاجارہاہے۔ریاست میں سنگھ پریوار اسی مدعے کوبناکر اگلے پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں و ہندوئوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔واضح ہوکہ کرناٹک میں مجرائی محکمہ جو ہندوئوں کے مندروں کی دیکھ بھال کرتاہے اور اس کی آمدنی کا حساب رکھتاہے،اس کے مطابق مجرائی محکمہ سے کرناٹکا حکومت کو سالانہ450 کروڑ روپئے آمدنی ہے،جبکہ اس کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔وہیں اوقافی املاک ریاست کی بیش قیمتی وراثت ہے،اس کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے اگر کچھ بجٹ جاری ہوتاہے تو اس میں بُرائی کیاہے،لیکن سنگھ پریوارکی طر ف سے مسلسل اس فنڈس کو لیکر اعتراضات پیش ہورہے ہیں۔بات کرتے ہیں ٹیکس کی،کسی بھی ریاست کی ترقی وبہبودی کیلئے کوئی خاص مذہب یا ذات وجہ نہیں بنتے،بلکہ تمام مذاہب ،ذاتوں اورشعبوں کو ملا کر ریاستوں کی ترقی ممکن ہے۔کرناٹک میں اس وقت سنگھ پریواریہ دعویٰ کررہی ہے کہ ہندوئوں کا ٹیکس مسلمانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے دیاجارہاہے،جبکہ اس ریاست کی ترقی کیلئے جہاں ہندوئوں کی محنت ہے وہیں مسلمانوں کی بھی قربانیاں ہیں،اگر سنگھ پریواریہ سمجھ رہاہے کہ اگر ہندوئوں کے ٹیکس سے یہ ریاست ترقی کررہی ہے توانہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر سال عرب ممالک سےہزاروں ارب روپیوں بھارت کو مل رہے ہیں،سال2019 میں50 بلین ڈالرس کی رقم بھارت کو دستیاب ہوئی تھی،جبکہ 110 بلین ڈالر23-2022 میں ملے ہیں،یہ رقم ہندوستانیوں نے عرب ممالک سے کما کر بھارت کو بھیجے ہیں۔اس میں سے70 فیصد بھارتی مسلمان ہیں تو کیا مسلمان اس بات کا دعویٰ کرینگے کہ جو رقم ہم نے بھارت کو روانہ کی ہے،اُس رقم کا فائدہ صرف مسلمانوں کو ہی دیاجائے۔بھارت میں کئی ایسی کمپنیاں ہیں جو مسلمانوں کی ملکیت میں شمارہوتی ہیں، کرناٹک میں لولو،بیریز،پرسٹیج جیسی کمپنیاں سالانہ حکومت کو کروڑوں روپیوں کا ٹیکس اداکررہی ہیں تو کیا ان کمپنیوں کے مالکان اس بات کا دعویٰ کرینگے کہ ہماراٹیکس صرف مسلمانوں کو اداکیاجائے۔سنگھ پریوارکی طرف سے ہندوئوں کا ٹیکس،مسلمانوں کاٹیکس کا جو ٹیاگ لگایاجارہاہے وہ دراصل حماقت اور آنےوالےپارلیمانی انتخابات کیلئے صرف ایک مدعہ ہے اور اس مدعے کو سامنے رکھتے ہوئے سنگھ پریوارپارلیمانی انتخابات میں نفرت کی سیاست کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ان حالات میں مسلم دانشوروں اور تنظیموں کو ان کے اس متعصبانہ مدعوں کونظراندازکرنے کے علاوہ اس کا ردِ عمل ظاہرکرنے کی ہرگز بھی ضرورت نہیں ہے۔
Comments are closed.