سعودی فاؤنڈیشن ڈے : پس منظر وپیش منظر

 

فیصل عزیز عمری

ایڈیٹر ہفت روزہ الہدی

آل سعود قبیلہ بکر بن وائل کی ایک شاخ بنو حنیفہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جن کا سلسلہ نسب معد بن عدنان تک پہونچتا ہے ۔ تمام عرب دو بڑے قبائل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ایک قحطانی قبیلہ ہے اور دوسرا عدنانی قبیلہ ۔ چونکہ ان کا سلسلہ نسب عدنان تک پہونچتا ہے۔ اس لئے یہ عدنانی عرب کہلاتے ہیں ۔ ظہور اسلام کے وقت یمامہ کے علاقے میں یہ قبیلہ بنو حنیفہ آباد تھا ۔ انہیں کے سردار ثمام بن اثال حنفی تھے ۔ جن کے قبول اسلام کا واقعہ بڑا ہی مشہور ہے ۔ تیسری صدی ہجری میں یہ قبیلہ جزیرہ عرب کے الگ الگ علاقوں میں منتشر ہو گیا ۔ آل سعود کے جد امجد مانع بن ربیعہ المریدی جو شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن کے بارہویں دادا، خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کے تیرہویں اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے 14 ویں دادا تھے۔  انہوں نے پندرہویں صدی عیسوی کے وسط میں اپنے چچا زاد بھائی ابن درع کی دعوت پر جزیرہ عرب کے مشرقی حصے قطیف کے قرب و جوار میں واقع ایک چھوٹی سی بستی سے نجد کی طرف ہجرت کی ۔ اور ابن درع کی طرف نسبت سے درعیہ شہر کی بنیاد رکھی۔ یہی شہر عظیم مملکت سعودی عرب کی بنیاد ثابت ہوئی ۔

1139ھ/1727ء میں امام محمد بن سعود کے ہاتھ میں درعیہ کی امارت آئی ۔ جو 1233ھ/1818ء تک قائم رہی ۔ اس دور کو پہلی سعودی ریاست کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ پھر اس کے بعد امام ترکی بن عبد اللہ بن محمد بن سعود کے ہاتھوں دوسری سعودی ریاست (امارت نجد) کا قیام عمل میں آیا جو پہلی ریاست کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی اور 1308 ہجری/1891 تک چلی ۔ تیسری سعودی مملکت کا قیام شاہ عبدالعزیز آل سعود کے ہاتھوں 1319ھ/1902ء میں ہوا ۔ پہلی سعودی ریاست کو امارات درعیہ اور دوسری سعودی ریاست کو امارات نجد سے موسوم کیا جاتا تھا ۔ موجودہ سعودی عرب کو بھی شروع میں مملکت نجد پھر مملکت حجاز ونجد کا نام دیاگیا ۔ بعد ازاں 22 جمادی الاول 1351 ہجری/ 23 ستمبر 1932 کو مملکت کا نام المملکۃ العربیہ السعودیہ رکھا گیا ۔ اسی دن کی مناسبت سے ہر سال 23 ستمبر کو سعودی عرب میں یوم وطنی منایا جاتا آرہا ہے ۔

27 جنوری 2022ء بروز جمعرات سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین ملک سلمان ابن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ نے ایک شاہی فرمان جاری کیا کہ اب ہر سال 22 فروری کو ملک کے اندر سعودی یوم تاسیس (Saudi Foundation Day) منایا جائے ۔ دراصل 22 فروری 1727ء ہی کو پہلی سعودی ریاست کی بنیاد پڑی تھی ۔ اسی پہلی سعودی حکومت کے قیام کی سالگرہ کے طور پر سعودی فاؤنڈیشن ڈے منانے کی روایت ڈالی گئی ہے ۔ 22 فروری 2022ء کو ہی پہلی بار سعودی فاؤنڈیشن ڈے منایا گیا ۔ امسال یہ تیسری دفعہ منایا گیا ۔

اس موقع سے پورے ملک کے اندر عام تعطیل ہوتی ہے اور تمام سرکاری ، نیم سرکاری و غیر سرکاری دفاتر بند ہوتے ہیں۔ خرید و فروخت اور بیع و شراء کی چیزوں میں خصوصی آفر دیا جاتا ہے۔ مختلف جگہوں پر مختلف قسم کے کلچرل اور ہسٹوریکل پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں ۔

پہلی سعودی ریاست کے دارالحکومت الدرعیہ کا قیام جزیرہ نمائے عرب کی سیاسی تاریخ کا بڑا پڑاؤ تھا۔ یہ جدید دور میں ریاست مدینہ کے احیا کی کوشش تھی۔ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے یثرب (مدینہ) ہجرت کے بعد قائم کی تھی۔ سعودی فاؤنڈیشن ڈے منانے کے پیچھے اسی تصور کو تازہ کرنا ہے ۔ اس کا ایک مقصد سعودی ریاست کی تاریخ کے آغاز کو نئے سرے سے تسلیم کرنا بھی ہے، جو مملکت کی گہری تاریخی جڑوں کی یاد دلاتا ہے۔

کئی نسلوں سے مؤرخین اور مصنفین نے نادانستہ طور پر یہ مفروضہ پھیلاتے رہے ہیں کہ موجودہ مملکت سعودی عرب کی پیش رو پہلی سعودی ریاست کی بنیاد سال 1744 میں رکھی گئی تھی ۔ جو غلط ہے اور اس میں پہلی سعودی ریاست کے ابتدائی 17 سال شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 1744 کے واقعات بہت اہم تھے، جس سال درعیہ کے امام محمد بن سعود نے شیخ محمد بن عبدالوہاب کو جگہ کی پیشکش کی تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاست اور عقیدے کے درمیان مشترکہ مقصد کے اس تسلیم شدہ تاریخی لمحے کی اہمیت نے پہلی سعودی ریاست کی پیچیدہ اور گہری جڑوں کو دھندلا دیا۔ مملکت کے ان اہم ابتدائی برسوں کی درستگی کے لیے بھی یوم تاسیس تخلیق کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد 1727 کو یوم تاسیس کے حقیقی سال کے طور پر منانا ہے ۔ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی درعیہ ہجرت امام محمد بن سعود کی پالیسیوں کا فطری نتیجہ تھی۔ امام محمد بن سعود مذہبی شخصیت کے طور پر مشہور تھے اور ان کے دو بھائی ثنیان اور مشاری اور ان کے بیٹے عبدالعزیز ان لوگوں میں شامل تھے جن کے العینیہ میں شیخ محمد بن عبدالوہاب کے ساتھ رابطے تھے۔ شیخ محمد نے العینیہ کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک امام محمد نے انہیں درعیہ آنے کی دعوت نہیں دی اور پھر یہ ایک ایسی ریاست تھی، جو شیخ کے مذہبی مشن کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

امام محمد نے اپنے حصے کے طور پر ’اس اصلاح پسند مشن کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا کہ یہ اس ریاست کے اصولوں سے متفق ہے، جس کے قیام کے لیے وہ کام کر رہے ہیں، بالخصوص اس کے مذہبی پہلو سے۔

مختصر یہ کہ صرف شیخ اور امام کا اتحاد ہی پہلی سعودی ریاست کی بنیاد نہیں تھا بلکہ یہ اس ریاست کا سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط وجود تھا، جس کی وجہ سے اصلاح کا پیغام پھیلانا ممکن ہوا۔

اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے کردار کو کم کرنا ہے اور نہ سعودی عرب کی دینی پہچان کو کمزور کرنا ہے۔ اس کا مقصد محض ریاست کے قیام یعنی امام محمد بن سعود کے درعیہ میں اقتدار میں آنے کی ایک سیاسی تاریخ کا تعین کرنا ہے۔

پہلی سعودی ریاست کے قیام کی سالگرہ منانے کے پیچھے اور بھی کئی اہم مقاصد کار فرما ہیں ۔ سعودی یوم وطنی جو تیسری سعودی ریاست کے قیام کی سالگرہ کے طور پر منایا جاتا ہے ، اس سے سعودی عرب کی صرف ایک سو سالہ تاریخ ہی توجہ حاصل کرتی تھی ۔ جو سعودی عرب کی تین سو سال پر پھیلی تاریخ کا صرف ایک تہائی حصہ ہے ۔ سعودی فاؤنڈیشن ڈے کے ذریعے سعودی عرب کے تین سو سالہ لمبے تاریخی تسلسل کو جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کے ذریعہ یہ خاموش پیغام دیا جا رہا ہے کہ موجودہ سعودی عرب جو آج ترقی و کامیابی کی ایک عظیم اونچائی پر پہنچ چکا ہے ۔ یہ دراصل امام محمد بن سعود کے ویژن ، اخلاص اور جدو جہد کا ہی نتیجہ ہے ۔ آج مملکت سعودی عرب کا طول و عرض جس وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ، وہ بھی امام محمد بن سعود کے توسیعی عزائم کا ثمرہ ہے ۔ آج مملکت میں جو امن وامان ، اخوت و بھائی چارگی اور ہزار سال تک آپس میں لڑنے جھگڑنے والے عرب قبائل کا اتحاد پایا جاتا ہے ، یہ بھی امام محمد بن سعود کے خوابوں کی تعبیر ہے ۔ آج سعودی عرب جو مملکت توحید کے نام سے جانا جاتا ہے اور شرک وبدعت سے پاک خالص اسلام کا ترجمان ہے ، یہ بھی امام محمد بن سعود کے دینی مزاج کا پرتو ۔ اس مرد مجاہد نے شرک وبدعت کے خلاف جو جنگ چھیڑی تھی ۔ اس جنگ کی جیت کا نتیجہ ہے کہ آج سعودی عرب ہر قسم کے شرک و بدعت سے پاک اور وہاں خالص اسلام کا بول بالا ہے ۔ پہلی سعودی ریاست کے بانی نے ملک کا آئین قرآن و سنت کو قرار دیا تھا ۔ جو آج تک جاری ہے ۔

الغرض امام محمد بن سعود ایک ایسے رہنما تھے جو زمانہ حال سے بہت آگے کا وژن رکھتے تھے۔ جن کا عزم تعلیم، ثقافت ، سلامتی اور اسلام کے حقیقی عقیدے سے وفاداری پر مبنی ایک نئی ریاست کی تشکیل تھا۔ اور موجودہ سعودی حکومت بھی اسی ویژن پر آگے بڑھ رہا ہے ۔ اللہ مملکت سعودی عرب کو اسی نہج پر باقی رکھے اور نئی نسل کو بانی اول کے ویژن کو سمجھنے اور حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین !

Comments are closed.