طلبہ میں اچھی عادات ڈلوانے اور ناپسندیدہ عاد تیں ترک کرانے کی تدابیر

ڈاکٹر سراج الدین ندوی
مدیر ماہنامہ اچھا ساتھی۔سرکڑہ ،بجنور،یوپی
9897334419
بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں ۔ان کی اچھی اور بری عادات نہ صرف ہمارے ذاتی مستقبل بلکہ قوم و ملک کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اکثر والدین،سرپرست اور اساتذہ بچوں کی بری عادات کی شکایت کرتے ہیں اور ان کو ترک کرانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ذیل میں اچھی عادات ڈلوانے اور بری عادات ترک کرانے کی چند تدابیر کو مختصرا ً بیان کیا جارہا ہے۔ پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عادت کیا ہے۔ جب ہم کسی فطری خواہش کی تکمیل کے لیے کوئی کام خاص طریقہ سے کرتے ہیں اور اس میں ہمیں کامیابی حاصل ہوتی ہے یا خوشی و مسرت ملتی ہے تو ہم پہلے کے مقابلہ میں وہ کام دوبارہ کر تے ہیںاور پھر ہم اس کام کو بار بار کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح ہمارے اندر اس کام کو کرنے کاایک زبر دست میلان اور داعیہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی میلان اور داعیہ کا نام عادت ہے گویا کہ عادت تین عناصر سے مرکب ہے۔
(۱) تحریک: یعنی کسی کام کو کرنے کے لیے آمادگی۔(۲) حسنِ تاثیر: اس کام کی انجام دہی پر مسرت یا کامیابی سے ہمکناری۔(۳)تکرار:اس کام کو باربار کرنااگر ان میں سے کسی ایک کی کمی ہوگی تو عادت نہیں کہلائے گی۔
عادت بذات خود کوئی فطری چیز نہیں ہے البتہ اس کی اساس کسی نہ کسی فطری خواہش پر ہوتی ہے اس لیے عادت مستحکم ہو جانے کے بعد بہت مشکل سے چھوٹتی ہے۔فطری خواہش کی طرح اس میں بھی بڑی کشش ہوتی ہے اس لیے عادت کو بھی عام طور سے فطرت ثانیہ کہا گیا ہے۔
عادت چونکہ فطری نہیں بلکہ کسبی ہوتی ہے۔ اس لیے ہر قسم کی عادت (یعنی اچھی یابری)ڈالی جاسکتی ہے یا ڈلوائی جاسکتی ہے اوراسی طرح چھوڑی جاسکتی ہے یا چھڑوائی بھی جاسکتی ہے۔
عادت ڈالنے یا ڈلوانے کا زمانہ بچپن کا زمانہ ہوتا ہے خاص طور پرپندرہ سال کی عمر تک۔بڑے ہونے پر عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں اس لیے ان کو چھوڑنے میں دقت آتی ہے ۔بہتر یہی ہے کہ عہد طفولیت میں بچہ کی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھی جائے اور خراب عادتیں پڑنے ہی نہ دی جائیں۔
پسندیدہ عادات ڈلوانے کی تدابیر:
بچہ ایک سادہ کاغذ کی مانند ہوتا ہے۔ جس پر والدین یا اساتذہ اور گرد و پیش کا ماحول جو کچھ نقش کرتا ہے وہ نقش ہو جاتا ہے۔بچہ بہت کچھ دیکھ کر سیکھتا ہے ۔اس کے سامنے اس کے والدین اور گھر کے دوسرے افراد ایک نمونہ کے طور پر ہوتے ہیں۔اس لیے:
٭بچہ کو آسان اور عام فہم زبان میں اچھی عادتوں کی افادیت محسو س کرائی جائے۔ بچے قصوں میں خاص دلچسپی لیتے ہیں اس لیے انبیاء کرام ، صحابۂ کرام اور بزرگانِ دین کے واقعات سنا کر بچوں میں یہ داعیہ پیدا کیا جائے کہ وہ بھی اچھی عادتیں اپنائیں۔
٭ دلنشیں انداز میں بچے کے ذہن میں اچھی عادتوں کے اختیار کرنے کی آمادگی بڑھا کر ان سے یہ عہد لیا جائے کہ وہ ان عادتوں کو اپنائیں گے یہ عہد اگر اجتماعی ہو تو زیادہ بہتر ہے۔
٭ پوری توجہ سے مسلسل مشق کرائی جائے البتہ آمادگی، مسرت و شادمانی کا لحاظ رہے۔ ایسے مسرت انگیز مواقع فراہم کئے جائیں جن میں بار بار عمل کرنے اور مشق و اعادہ کی آسانیاں مہیا ہوں۔
٭ عادت ڈلوانے کے درمیان خلاف ورزی کا بالکل موقع نہ دیا جائے۔
٭ ماحول کو خلاف ورزی سے پاک صاف رکھا جائے۔
٭مختلف انداز سے یہ بات واضح کی جائے کہ اچھی عادتوں کے لیے نہ کوئی چھٹی کادن ہوتا ہے اور نہ کوئی خالی گھنٹہ۔
(۸) عادت ڈلوانے کا ایسا منصوبہ تیار کیا جائے کہ ایک عادت کو دوسری عادت سے تقویت ملے مثلاً نماز فجر کے وضو سے تلاوت کرنا۔ وضو کرتے وقت دانت اور ناک صاف کرنا۔
٭ کبھی شعوری طور پر اور کبھی بغیر احساس دلائے طلبہ پر نظر رکھی جائے کہ وہ اچھی عادتوں کا پابندی سے اہتمام کر رہے ہیں یا نہیں۔
٭ طلبہ کے سامنے اچھی عادتوں کا بر سر عام مظاہرہ کیا جائے اور اس کے لیے اجتماعی پروگرام بھی بنائے جائیں۔ اساتذہ اورمربی حضرات خود ہی اپنی عادتوں کا مظاہرہ کریں۔
٭اچھی عادتوں کے لیے محض خشک وعظ و نصیحت سے کام نہ لیا جائے بلکہ دلچسپ مشاغل اور کھیل کود کو بھی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔
٭ اچھی عادتوں کے اختیار پر بچوں کی تحسین اور حوصلہ افزائی کی جائے خصوصاً تقسیم انعامات کی تقریب کے موقع پر طلبہ کو انعام دیے جائیں مثلاً سب سے زیادہ صفائی کا اہتمام کرنے والا ، سب سے زیادہ درجہ میں پابندی کرنے والا اور سب سے زیادہ اساتذہ کی عزت کرنے والا۔ سب سے زیادہ خوش اخلاقی سے پیش آنے والا،سب سے زیادہ نماز کی پابندی کرنے والا وغیرہ وغیرہ۔
٭ بچوں کے اخلاق و عادات کی رپورٹ بچوں کے سر پرستوں کو بھیجی جائے اور سر پرستوں سے بھی رپورٹ منگوائیں یہ رپورٹ ہفتہ وار بھی ہو سکتی ہے اور ماہنامہ بھی۔
یہ بات ذہن میں رکھئے کہ اگر بچوں کو اچھی عادتوں کا خوگر نہ بنایا گیا تویہ بات یقینی ہے کہ بچے اپنے تجربے یا ماحول کے اثر سے یا دوسروں کی تقلید کر کے کچھ نہ کچھ عادتیں ڈال ہی لیں گے۔ وہ عادتیں ناپسندیدہ اور منفی بھی ہو سکتی ہیں۔جیسے کسی برتن میں اگر پانی نہیں ہوگا تو اس میں ہوا داخل ہو جائے گی۔وہ ہوا چاہے صاف ہو یا آلودہ۔
بچوں کو ہمیںدرج ذیل اچھی عادتوں کا شروع سے خوگر بنانا چاہئے۔
(۱) سلام کرنا،سلام میں پہل کرنا۔(۲) ملاقات اور گفتگو کا طریقہ۔(۳) کھانے پینے کا سلیقہ۔(۴) سونے جاگنے کے آداب۔(۵) نشست و برخاست کا طریقہ۔(۶) صفائی ستھرائی کا اہتمام (بدن، کپڑا، رہائش وغیرہ کی صفائی، ناخن تراشنا، بال سنوارنا، تعلیمی سامان اورکلاس کی صفائی، بستر لباس اور سامان کی ترتیب )(۷) وقت کی پابندی، خاص طور سے، درجہ میںحاضری، جماعت سے نمازپڑھنا، کھاناوقت پر کھانا، ہوم ورک کا وقت متعین کرنا ، سونے جاگنے کے اوقات، اجتماعات وغیرہ میں وقت پر پہنچنا وغیرہ
کوشش کیجیے کہ بچوں میں سچ بولنے، امانت و دیانت سے کام لینے، وعدہ پورا کرنے ، خدمتِ خلق کرنے، باہمی تعاون کے ساتھ کاموں کو انجام دینے ،کسی احسان کے بدلے شکر یہ ادا کرنے،ہر کام بسم اللہ کہہ کر شروع کرنے،اجازت لے کر آنے جانے، تحریر و گفتگو میںآداب و القاب کا لحاظ رکھنے اوراپنی مفوضہ فرائض کو بحسن و خوبی انجام دینے کی عادات پیدا ہوں۔
ناپسندیدہ عادتیں ترک کرانے کی تدابیر:
اگر خدا نخواستہ کسی بچے میں کوئی ناپسندیدہ عادت یا برُی لت پڑ جائے تویہ ایک بڑا المیہ ہے اس کی طرف فوری توجہ دینی چاہئے ادنیٰ ساتساہل برُے نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
۱۔ بچہ کی کسی بری عادت کو چھڑانے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ نہایت باریک بینی سے ان عوامل ، محرکات اوراسباب کا جائزہ لیا جائے جو بری عادت کا موجب بنے ہیں اور حکمت عملی سے انہیں دور کرنے کی فکر اور کوشش کی جائے ۔ اگر صحیح عوامل و محرکات کا تجزیہ کئے بغیر اصلاح کی کوشش کی جائے گی تو یہ کوشش نہ صرف رائیگاں ثابت ہو سکتی ہے بلکہ بچہ پر اس کے مضر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
۲۔اگر بچہ میں ایک کے بجائے کئی بری عادتیں نمایاں ہونے لگیں تو ان تمام خرابیوں کو نوٹ کر لیجئے۔
۳۔ تمام خرابیوں کو یکلخت ختم کرانے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ ترتیب و تدریج کا پاس ولحاظ رکھئے۔
۴۔ بچوں کو آسان اور دلنشیں انداز میں بری عادتوں کے عواقب و نتائج سے آگاہ کیجئے اور واضح کیجئے کہ یہ عادتیں اس کے مستقبل کو تباہ کر سکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں قصے کہانیوں، افسانوں اور ڈراموں کا سہارا ضرور لیجئے۔
۵۔جب بچہ بری عادتوں کے ترک کرنے پر ذہنی طور پر آمادہ ہو جائے تو اسے ترک کرنے کا قابل عمل طریقہ اور آسان ترکیب سمجھا ئیے اگر وہ اپنی خوشی سے خلاف ورزی پر جرمانہ یا سزا مقررکرلے تو زیادہ بہتر ہے۔
۶۔بری عادت کو چھڑانے کے لیے سختی اور تشدد کا سہارا ہر گز نہ لیجئے بلکہ جذب دروں اور سوزِ دل سے کام لیجئے کیونکہ جبر وتشدد سے دوسری بری عادتیںبھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثلاً چوری کے ساتھ جھوٹ اور فریب دہی۔
۷۔ بری عادتیں ترک کرانے میں اجتماعی تدابیر کے بجائے انفرادی توجہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
۸۔بچوں کے جذبات و احساسات اور نفسیات کا ضرور پاس و لحاظ رکھئے۔
۹۔اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ بچے میں بری عادتیں والدین کی باہمی رنجش اور ازدواجی تعلقات کی نا استواری کی بنیاد پر پیدا ہوئی ہیں تو گھر کے ماحول کی اصلاح کر کے باہمی رنجش دور کرائیے اور ازدواجی تعلقات کو خوشگوار بنائیے ۔
۱۰۔ بعض بچوں میں بری عادتیں بری صحبت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔بعض حساس شریف الطبع والدین کے بچے بھی بری صحبت میں بگڑ جاتے ہیں۔ایسے حالات میں حکمت عملی سے بچوں کے ہم جولیوں کو بدلنے کی کوشش کیجئے ۔انہیں اچھے اور نیک ساتھیوں کے ساتھ رہنے سہنے، کھیلنے کودنے ، لکھنے پڑھنے اور کھانے پینے کے مواقع فراہم کیجئے۔ بری صحبت سے بچانے کے لیے بچوں کو تنہائی کی زندگی گزارنے پر ہر گز آمادہ نہ کیجئے۔ تنہائی اور گوشہ نشینی کی زندگی بھی بچوں کے اندر بہت سے اخلاقی و ذہنی امراض کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے انہیں صالح ماحول اور پاکیزہ فضا میں پروان چڑھنے کا موقع دیجئے۔ اگر مناسب سمجھیں تو مکان یا سکونت تبدیل کر کے ایسے ماحول میں بچہ کو منتقل کریں جہاں بری عادت اپنائے رہنے میں دقت اور پریشانی محسوس ہو اور اسے چھوڑ دینے میں مسرت اور سکون کا احساس ہو۔
۱۱۔بچہ عموماً اپنے بڑوں کے اقوال وافعال کی نقل بھی کرتا ہے اور تقلید بھی۔ اگر بچے میں کوئی بری عادت آپ کے کردار کی وجہ سے پڑ رہی ہے تو اپنی اصلاح کی طرف فوراً توجہ کیجئے۔
۱۲۔ بچہ میں کوئی بری عادت اس وقت بھی پڑ سکتی ہے جب بچے کے جبلی تقاضوں کی تکمیل نہ کی جائے اور اس کی فطری خواہشوں کو جائز طور پر پورا نہ کیا جائے اگر ایسا ہو تو اپنے رویہ کو فوراً تبدیل کر دیجئے اور بچے کے فطری تقاضوں کا بھر پور اہتمام شروع کر دیجئے۔
۱۳۔ بے جالا ڈ پیار سے بھی بچوں میں بہت سی خرابیاں جنم لینے لگتی ہیں۔ کوشش کیجئے کہ آپ کا لاڈ پیار حد اعتدال سے متجاوز نہ ہو سکے کیونکہ سچے لاڈ پیارکا تقاضا یہ ہے کہ بچے کو بگڑ نے نہ دیا جائے۔
۱۴۔ بعض بچوں میں بہت سی خرابیاں اس لیے جڑ پکڑ جاتی ہیں کہ وہ ماں باپ اور اساتذہ کی جائز شفقت و محبت سے محروم رہ جاتے ہیں یہ احساس محرومیت ان کے اندر بہت سی ذہنی و اخلاقی بیماریوں کا موجب بن جاتا ہے۔ ایسی شکل میں آپ محرومی کی تلافی کیجئے اسے بھر پور اور غیر مشروط محبت دیجئے۔ وہ آپ کی محبت کا بھوکا ہے ۔یہ پیار اور محبت بہت سی خرابیوں کا کامیاب علاج ہے۔
۱۵۔ بیکاری بھی بچوں میں بہت سی بری عادتوں کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے چھٹیوں اور خالی اوقات کے لیے صحت پرور اور دلچسپ مشاغل اور اجتماعی سرگرمیوں کا اہتمام کیجئے (کھیل کو د، پکنک ، بیت بازی ،پسندیدہ مشغلہ ، ہفتہ واری اجتماعات اور کلچرل پروگرام وغیرہ)
۱۶۔ بچے میں خود تجربہ کرنے کا فطری داعیہ موجود ہوتا ہے۔ اس تجرباتی دور میں بچوں کو آزادانہ طور پر تجربات کرنے دیجئے۔ ان کی اس تجرباتی و تجزیاتی کوشش کواپنے معیار سے نہ جانچئے۔ یہ نہ بھولئے کہ آج آپ جس مقام پر پہنچے ہیں اس کے لیے آپ کو ایک طویل تجرباتی دور سے گزرنا پڑا ہے۔ اگر دورانِ تجربہ بچہ سے کوئی نقصان ہو جائے تو اسے خندہ پیشانی سے برداشت کیجئے اور اس پر برافروختہ نہ ہوئیے اس سے بچے کی تجرباتی صلاحیت کا خون ہو جاتا ہے اور وہ کوئی نیا تجربہ کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے اور اس کے اندر نکما پن پیدا ہو جاتا ہے۔
۱۷۔ البتہ اگر آپ یہ محسوس کریں کہ بچہ کا کوئی تجربہ نادانی کی وجہ سے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے تو اسے محبت و دلسوزی سے سمجھائیے۔
۱۸۔ اگر بچہ کے اندر کسی وجہ سے احسا س کمتری پیدا ہو جائے تو یہ احساس کمتری بہت سے نقائص کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اس لیے اس بات پر نظر رکھئے کہ آپ کے کسی رو یہ یا جسمانی کمزوری کی وجہ سے بچہ احساس کمتری کا شکار تو نہیںہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو فوراً اپنے رویہ کی اصلاح کیجئے۔ بچہ کو بات بات پر چڑانے ، دوسروں کے سامنے تحقیر و تذلیل کرنے سے باز رہئے۔
۱۹۔ اگر آپ کی کوشش سے بچہ کی ایک بری عادت چھوٹ جائے تو اس کا سہارا لے کر دوسری بری عادت کو چھڑانے میں مدد لیجئے اور اسے یہ بات باور کر ائیے کہ جب تم ایک بری عادت کو چھوڑ سکتے ہو تو دوسری بری عادت کو کیوںنہیں چھوڑ سکتے۔
۲۰۔ جس حد تک آپ کو کامیابی ملتی رہے اس پر بچہ کو تحسین و شاباشی دے کرقوت بہم پہنچائیے اور اپنے اس سفر کو تسلسل سے جاری رکھئے۔
۲۱۔ بچوں میں بھی اعتماد و یقین پیدا کیجئے اور اپنے اندر بھی کہ کامیابی آخر کارآپ کے قدم چومے گی اس سلسلہ میں مایوسی و قنوطیت کو اپنے پاس نہ پھٹکنے دیجئے۔
آخری بات یہ ہے کہ کوئی بھی نصیحت یا تذکیر یا تدبیر اس وقت تک کارگر نہیں ہوتی جب تک اس کا کہنے یا کرنے والا خود اس پر عمل نہیں کرتا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں میں مستحسن عادات پیدا ہوں اور وہ بری عادات سے باز رہیں تو پہلے ہم خود اچھا کردار پیش کریں ۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ بچے جتنا کتابوں کو پڑھ کر سیکھتے ہیں اس سے زیادہ وہ دیکھ کر سیکھتے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ ہم وہ بات کہیں جس کو ہم کرتے نہیں ہیں۔

Comments are closed.