ارریہ لٹریری فیسٹول : لوکل کوگلوبل کرنے کا سفر ہے
دانش ریاض،معیشت ڈاٹ اِن،ممبئی
ریاست بہار کے مردم خیز علاقہ ارریہ کا’’ارریہ لٹریری فیسٹول ‘‘گوکہ بحسن و خوبی اختتام کو پہنچ چکا ہے لیکن اس کی ’’دھنک ‘‘ اب بھی سنائی دے رہی ہے ۔ ’’چھائوں فائونڈیشن‘‘کے ’’برگد‘‘ تلے ملک بھر کے مشاہیر جمع ہوئے تھے جنہوں نے(17تا 19فروری 2024 ) شب کے تیسرے پہر تک اپنی ساحری قائم رکھی اور گائوں کا گائوں صرف دن کی روشنی میں ہی نہیں بلکہ رات کی تاریکی میں بھی برقی قمقموں کے سہارے ’’چھائوں ‘‘میں بیٹھا رہا۔ایک سوال جو ہر ذہن میں’’ کلبلاتا ‘‘محسوس ہوا کہ’’ آخر اس فیسٹیول کا فائدہ کیا ہوا؟ ‘‘ گنگا جمنی تہذیب کے حوالے سے بھی لوگوں نے محسوس کیا کہ ’’گنگا تو بہتی رہی لیکن جمنا کہاں ملا؟‘‘۔اسی طرح ’’ثواب و عذاب‘‘ کے سہارے زندگی گذارنے والے اس طور پر پریشان رہے کہ ’’اس پوری بھاگ دوڑ میں ہم نے ثواب کمایا یا عذاب؟‘‘۔
لہذامیں اپنی بساط بھر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ارریہ لٹریری فیسٹیول جہاں ’’لوکل کو گلوبل‘‘ کرنے کی کوشش تھی وہیں ’’گائوں بنتے شہر‘‘ میں ان قدروں کو بحال کرنے کی بھی کوشش تھی جو اب معدوم ہوتے نظرآ رہے ہیں۔بغیر کسی سرکاری اور کارپوریٹ امداد کے جن لوگوں نے اسے منعقد کیا وہ یقیناً قابل مبارکباد ہیں کہ علاقے کے سرکردہ لوگوں کے تعاون سے انہوں نے ایسی کوشش کی کہ ایک مشہوراستاد شاعر کو یہ کہنا پڑا کہ ’’میں نے جو سفری اخراجات لئے ہیں،میں خوفزدہ ہوں کہ کہیں میں گناہ تونہیں کر رہا ‘‘ ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت ہند کےادارے قومی اردوکونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے جتنے بھی ’’فیسٹیول اورکتاب میلے‘‘ منعقد ہوئے ہیں ان میں جہاں منتظمین ’’ہاتھ صاف کرنا ‘‘کار ثواب سمجھتے ہیں وہیں ان کے معاونین ’’مال غنیمت‘‘سمجھ کر ایسی لوٹ مچاتے ہیں کہ شیطان بھی الامان والحفیظ کی صدا لگاتا پھرتاہے۔
ارریہ لٹریری فیسٹول چونکہ منتظمین کی جانب سے کی جانے والی پہلی کوشش تھی لیکن انتظامات کے حوالے سے کوئی یہ کہہ نہیں سکتا کہ یہ پہلی کوشش ہے۔اسی طرح شرکت کےاعتبار سےبھی علاقے نے اس سے پہلے کبھی ایسا اجتماع نہیں دیکھا،جہاں اہل علم و فن جمع ہوئے ہوں اور انہوں نے تین دنوں تک علاقے کی علمی و تہذیبی پیاس بجھائی ہو۔
اگر ہم طلبہ و طالبات کی کریئر کونسیلنگ پر ہی گفتگو کریں تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ’’ارریہ لٹریری فیسٹول‘‘ میں طلبہ و طالبات نیز نوجوانوں کا ڈیٹا جمع نہیں کیا گیا جیسا کہ آجکل کچھ مسلم این جی اوز کرتی ہیں اور پھراسے ان طاقتوں کو بیچ دیتی ہیں جن سے انہیں منفعت حاصل ہونے والی ہوتی ہے۔بلکہ عمومی طور پر طلبہ و نوجوانوں کو دعوت دی گئی اور ماہرین نے کھلے میدان میں ان کی کونسیلنگ کی۔کسی بھی طالب علم نے اپنے بایوڈیٹا کا زیراکس دے کر نہ تو اپنی تفصیلات جمع کیں اور نہ ہی منتظمین نے اس طرح کے ڈیٹا کو لانے کا کوئی اعلان کیا۔ ایک بہترین ماحول میں مقامی طلبہ ایسے ماہرین سے مستفید ہوئے جس کا خواب عموماً بڑے شہروں کے طلبہ دیکھا کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ اس فراڈ سے بھی محفوظ رہے جس کا شکار بڑے شہروں کے طلبہ و طالبات ہوا کرتے ہیں۔صرف کریئر کونسیلنگ کے نام پرہی نہیں بلکہ ’’جاب فیئر ‘‘کے نام پر بھی جس طرح مسلم بچے بچیوں کا ڈیٹا دشمن طاقتوں کو دیا جاتا ہے اس سے بھی ارریہ لٹریری فیسٹیول محفوظ رہا ہے۔
مسلمانوں کے مابین جب کوئی فیسٹیول یا کتابی میلہ منعقد ہوتا ہے تو اسے عموماً کسی خاص سیاسی لیڈر کے نذر کردیا جاتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ منتظمین اکثر کسی خاص سیاسی آقا کو اسٹیج کی زینت بناتے ہیں اور پھر پس پردہ اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ ارریہ لٹریری فیسٹول نہ صرف اس مرض سے دور رہا بلکہ تمام لوگوں کو یکساں مواقع حاصل رہے اور بغیر کسی خاص پارٹی یا لیڈر کےہر اس شخص کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی جو فیسٹیول کا حصہ بننا چاہتے تھے۔
ارریہ لٹریری فیسٹول نے علاقے کے لوگوں کو آپس میں جوڑنے اور ایک دوسرے کو قریب سے قریب تر کرنے کا بھی کام کیا یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو وطن سے دور دہلی،ممبئی،حیدر آباد ،پٹنہ میں مقیم ہیں اسی بہانے ارریہ آئے اور آپس میں ربط و تعلق استوار کیا۔
ارریہ لٹریری فیسٹول نے ’’مقامی کلاکاروں ‘‘کو بھی ایک بڑا پلیٹ فارم عطا کیا جہاں اپنے ہنر کا مظاہرہ کرکے انہیں ’’پروفائلنگ‘‘کا موقع ملا ہے۔نئی نسل کی دلچسپی خصوصاً اسکول و کالج کے طلبہ کی مختلف ثقافتی پروگراموں میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طلبہ و طالبات نے پورے پروگرام کو اپنے لئے مفید پایا ہے۔
اس وقت جبکہ مسلم این جی اوز زکوۃ ،خیرات،صدقات حتی کہ ’’صدقۃ الفطر ‘‘پر نظریں گڑائے رہتی ہیں اور ان پیسوں سے ذمہ داران داد عیش دیتے ہیں ایسے ماحول میں ’’چھائوں فائونڈیشن‘‘جیسی این جی او اپنی مثال آپ ہے جہاں تمام کارکنان اپنا پیسہ لگا کر علاقے کی ترقی و ترویج میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر فرد خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم سماجی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے اور علاقے کی ان ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا کہ علاقہ مطالبہ کررہا ہو۔’’فوڈ بینک‘‘’’کلاتھ بینک‘‘اور مختلف مقامات پر لائبریری اس کی مثال ہے۔علاقے کی ایک بڑی تعداد ان خدمات سے مستفید ہورہی ہے اور ’’چھائوں فائونڈیشن‘‘کے چھتر چھایہ کو اپنے لئےنعمت غیر مترقبہ سمجھتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بہار کا ’’متھلانچل‘‘اور ’’سیمانچل‘‘علم و فن کے اعتبار سے بڑا مشہور رہا ہے اور آج بھی یہاں کے طلبہ و نوجوان ملک و بیرون ملک اپنا نام روشن کررہے ہیں اگر ارریہ لٹریری فیسٹیول ایک کیلنڈر ایونٹ بن جائےتو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی علاقے کی ذہنی و فکری بلندی میں ایک بہترین پہل ہوگی اور پورے علاقے پر اس کے دور رس اثرات پڑیں گے۔
توصیف انور بھائی نے بڑی محبت سے تصویریں بھیجی ہیں میں ان کا شکر گزار ہوں.
Comments are closed.