یوگی حکومت کو بڑا جھٹکا، دکانوں پر نام کا بورڈ لگانے کی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، عرضی گزارAPCR کی بڑی جیت
نئی دہلی (ایجنسی)
سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کے حکم پر بڑی مداخلت کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا ہے کہ کانوڑ یاترا کے راستے پر دکانوں اور سڑکوں پر دکانداروں کو اپنا نام لکھوانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ یوپی اور اتراکھنڈ سرکار کے لئے بہت بڑا جھٹکا ہے دراصل اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ اور یوپی حکومتوں کے فیصلے پر عبوری روک لگا دی ہے۔ یہی نہیں عدالت نے اس معاملے میں یوپی، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 26 جولائی کو ہوگی۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکم نامے کے تحت کہا گیا ہے کہ دکانوں کے مالکان اور ملازمین پر نام لکھوانے کے لیے دباؤ نہ ڈالا جائے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اتر پردیش حکومت کے حکم کو این جی او ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس معاملے میں جسٹس ہرشی کیش رائے اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے یہ بیان یا حکم طلب کیا۔
سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران پوچھا کہ یہ پریس بیان ہے یا حکم؟ درخواست گزار کی جانب سے سی یو سنگھ نے کہا کہ یوپی انتظامیہ دکانداروں پر اپنے نام اور موبائل نمبر ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ کوئی قانون پولیس کو ایسا کرنے کا حق نہیں دیتا۔ پولیس کو صرف یہ جانچنے کا اختیار ہے کہ کس قسم کا کھانا پیش کیا جا رہا ہے۔ ملازم یا مالک کا نام لازمی نہیں بنایا جا سکتا۔
Comments are closed.