سابق ریاستی وزیر عارف عقیل کی وفات پر جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال میں تعزیتی نشست کا انعقاد
آج ہم نے صوبہ کے ایک بڑے لیڈر اور عظیم ترین شخصیت کو کھودیا: مولانا مفتی محمد احمد خان صدر جمعیت علماء مدھیہ پردیش
بھوپال: 29؍ جولائی (پریس ریلیز) سابق رکن اسمبلی و سابق ریاستی وزیر، قدآور کانگریسی لیڈر عارف عقیل کی وفات پر 29 جولائی 2024ء بروز پیر کو جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال میں بعد نماز ظہر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔ جس میں امیر شریعت، مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد احمد خان صاحب نے مرحوم کے انتقال پر بڑے رنج و غم کا اظہار کیا اور اپنے تعزیتی خطاب میں فرمایا کہ مرحوم عارف عقیل کے میرے والدِ محترم حضرت مولانا مفتی عبد الرزاق خان صاحبؒ سے گہرے تعلقات رہے ہیں، حضرت نے ان کی کامیابی کے لئے بارہا دعائیں کی تھیں، جناب مرحوم 1990ء میں پہلی مرتبہ بھوپال اتر ودھان سبھا سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے اور لگاتار 6 مرتبہ اتر ودھان سبھا سے کامیاب ہوتے رہے، 1998ء میں آپ نے کانگریس سے چناؤ لڑا، آپ کو کانگریس میں دو مرتبہ ریاستی وزیر بھی بنایا گیا، آپ اقلیتی فلاح و بہبود، جیل، اور کھاد محکمہ کے وزیر رہے، آپ نہایت سادہ مزاج، ملنسار، سیاست کے شہسوار، خوش مزاج اور امن و شانتی کے علمبردار تھے، صلحِ کل کی صفت مرحوم کی طبیعت میں رچی بسی تھی، آپ بلا تفریق مذہب و ملت ہر ایک کے کام آتے تھے، افسوس کہ آج ہم نے صوبہ کے ایک بڑے لیڈر اور عظیم ترین شخصیت کو کھودیا۔
تعزیتی نشست کے بعد جامعہ میں مرحوم کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور حضرت مفتی صاحبؒ کے بڑے فرزند جناب حاجی عبد العزیز صاحب نے ان کے لئے ایصالِ ثواب و دعائے مغفرت کی۔
اس موقع پر جناب حاجی عبد المجید سالار خان صاحب، حضرت مولانا عبدالودود خان صاحب اور جامعہ کے تمام اساتذہ کرام و طلباء عظام موجود رہے۔
جامعہ کے تمام اساتذہ کرام و طلباء عظام مغموم و مضطرب دل کے ساتھ تعزیت پیش کرتے ہوئے آپ کے وصال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے، بشری لغزشوں سے درگزر فرمائے، جنت الفردوس کا مکین بنائے، اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے اور آپ کے پسماندگان، فرزندگان و لواحقین کو صبر جمیل عطا فرئے۔ آمین
Comments are closed.