کولکاتاعصمت دری وقتل معاملہ کے خلاف ہزاروں جونیئرڈاکٹروں کااحتجاج جاری
نئی دہلی(ایجنسی؍نمائندہ)کولکاتاعصمت دری وقتل معاملہ کے خلاف ہزاروں جونیئر ڈاکٹروں نے پیر کے روز بھی اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ وہ مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ میں ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر کے ہسپتال کے اندر ہی ریپ اور قتل کے واقعے کے خلاف پچھلے تقریبا ایک ہفتے سے احتجاج کررہے ہیں، جس کی وجہ سے بالخصوص سرکاری ہسپتالوں میں طبی خدمات متاثر ہوئی ہیں۔
احتجاج کرنے والے ڈاکٹر اپنے لیے کام کے جگہوں کو زیادہ محفوظ بنانے اور مجرم کے خلاف فوری سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
۹؍ اگست کو اکتیس سالہ ڈاکٹر کے ریپ کے اس واقعے کے بعد ڈاکٹروں نے "نان ایمرجنسی مریضوں” کو دیکھنے سے انکار کردیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاتون کا کولکاتہ کے ایک ہسپتال میں ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا گیا۔ وہ وہاں ٹرینی ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے کہ ملک میں خواتین اب بھی جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہیں۔ حالانکہ سال دو ہزار بارہ میں قومی دارالحکومت دہلی میں ایک بس کے اندر تیئیس سالہ پیرا میڈیکل طالبہ کی اجتماعی ریپ اور ہلاکت کے بعد حکومت نے سخت قوانین بنائے تھے۔
ریاستی حکومت نے ڈاکٹروں سے اپنی ڈیوٹی پر لوٹ آنے کی اپیل کی ہے۔ اس نے صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ پروفیشنلز کے لئے تحفظ کو بہتر بنانے کی خاطر اقدامات تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی ہے۔
لیکن آر جی کار میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل، جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا، میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ترجمان ڈاکٹر انکت مہاٹا نے کہا، ” مطالبات پورے ہونے تک ہمارا کام بند اور دھرنا جاری رہے گا۔”
اوڈیشہ، گجرات اور دہلی میں بھی ڈاکٹروں نے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹروں نے آج دہلی میں مرکزی وزارت صحت کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔
سپریم کورٹ نے سرکاری آر جی کار میڈیکل کالج اور ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کا ازخود نوٹس لیا ہے۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس جے بی پاردی والا اور منوج مشرا کی بنچ 20 اگست کو اس کیس کی سماعت کرے گی۔
پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی لاش 9 اگست کو آر جی کار اسپتال کے سیمینار روم میں ملی تھی۔ کولکاتا پولیس نے اس سلسلے میں اگلے دن ایک شہری رضاکار سنجے رائے کو گرفتار کیا تھا۔
کولکاتہ ہائی کورٹ نے کولکتہ پولیس سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سی بی آئی کو تحقیقات سنبھالنے کا حکم دیا ہے۔
Comments are closed.