وقف کے مسائل پر آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی کی وزیر اعلیٰ بہار سے ملاقات

پٹنہ(سیدمحمدعادل فریدی؍بی این ایس)
مرکزی حکومت کے نئے مجوزہ وقف ترمیمی ایکٹ 2024 کے حوالہ سے آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے 18 اگست کو وزیر اعلیٰ بہار اور مرکزی حکومت کی حلیف پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ کے قومی صدر جناب نتیش کمار سے ان کی رہائش گاہ پر ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مل کر نئے ترمیمی بل کے حوالہ سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمت میں ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وقف کا تعلق مسلمانوں کے نظام عبادت اور شعائر اسلا م سے ہے ، مساجد ، مدارس ، خانقاہیں ، قبرستان وغیرہ وقف کی زمینوں پر قائم ہیں ۔ شریعت کے مطابق ایک بالغ مسلمان کبھی بھی اپنی زمین کو اللہ کے لیے وقف کرسکتا ہے او ر اس کی آمدنی اس کی منشا ء کے مطابق خیر کے کاموں میں خرچ کی جائےگی ۔ یہ ایک اسلامی روایت ہے جس میں کوئی شخص اپنی جائیداد کو مذہبی یا سماجی کاموں کے لیے وقف کرتا ہے۔ وقف کا مقصد صرف مذہبی امور کے لیے نہیں ہے بلکہ عام لوگوں کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے بھی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اسے اسلام میں عبادت کا درجہ دیا گیا ہے اور زیادہ تر مذہبی امور اس سے وابستہ ہیں ، نئے مجوزہ بل میں غیر مسلم افراد کو مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں شامل کرنے کا جو التزام ہے اس سے اسلام کے نظام عبادت میں بے جا مداخلت کا ایک نیا دروازہ کھلے گا۔ اس لیے اسی مذہب کے لوگوں کو اس کے انتظام اور کمیٹیوں میں شامل رکھا جائے جیسا کہ پہلے سے چلا آ رہا ہے۔
نئے بل میں بعض ایسی قیو د لگائی گئی ہیں جن سے وقف کی نوعیت اور حیثیت مجروح ہو رہی ہے، مثال کے طور پر وقف کی تعریف میں پانچ سال سے عملی طور پر مسلمان ہونے کی قید وقف کی نوعیت اور حیثیت پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کر دیگی ۔ اسی طرح وقف ٹربیونل کے اختیارات کو کم کر دینا انصاف کی راہ کو دشوار بنانا ہے 1995 کے وقف ایکٹ اور 2013 کی ترمیم میں ٹربیونل کو وقف کے تنازعات کو حل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جس سے پورے ملک خاص طور پر بہار میں بڑا فائدہ ہوا اور ہزاروں تنازعات حل ہوئے، ٹربینول کے اختیارات کو کم کر کے کلیکٹر کو دینا نئے تنازعات کو جنم دے گا اور تنازعات کے حل میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ اس لیے وقف بورڈ اور ٹربیونل کے اختیارات کو کم نہ کیا جائے۔وقف علی الاولاد کے اندر بھی نئے قید کا اضافہ کئی قسم کے تنازعات پیدا کرے گا۔جس سے وقف کی املاک کا نقصان ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکار کے سامنے ایسے ناموزوں ترمیمات کو وقف بل سے ختم کرانے کی کوشش کریں ، جنتا دل یونائیٹڈ کے ایک ایم پی دلیشور کامت جے پی سی میں بھی شامل ہیں ان سے بھی فون پر مولانا نے بات کر کے وقف ترمیمی بل2024 میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ۔ اسی طرح مولانا نے جے پی سی میں شامل ایم پی مولانا محب اللہ ندوی سے بھی بات کی اورانہیں اپنے موقف سے واقف کرایا۔جے پی سی کے دیگر ارکان سے بات چیت کا سلسلہ جا ری ہے ۔

Comments are closed.