وقف امینڈ منٹ بل 2024 اور وقف کے مسائل پر ملی کونسل کی اہم میٹنگ 25 اگست کو
اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ پٹنہ میں دو سیشن میں ہوگی میٹنگ پہلا سیشن ساڑھے دس بجے صبح سے اوردوسرا دوپہر دو بجے سے
پٹنہ(سیدمحمدعادل فریدی)
ملک کی معروف ملی و سماجی تنظیم آل انڈیا ملی کونسل نے مجوزہ وقف ترمیمی بل 2024 پر غور و خوض کے لیے اورجے پی سی اور حکومت کے سامنے اپنا موقف واضح کرنے کا کام بل کی خبر کے سامنے آتے ہی شروع کر رکھا ہے اسی غرض سے سیاسی و سماجی نیز دینی وملی نمائندوں کی ایک اہم میٹنگ مورخہ 25 اگست 2024 روز اتوار کو اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ نزد گاندھی میدان پٹنہ میں بلائی ہے ۔ اس میٹنگ کے لیے بہار سے تعلق رکھنے والے لوک سبھا، راجیہ سبھا ، کاؤنسل اور اسمبلی کے ممبران کو دعوت دی گئی ہے ، اس کے علاوہ جے پی سی کے بعض ارکان کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
سیاسی نمائندوں کے علاوہ اہم ملی و دینی تنظیموں کے سربراہان، علماء کرام ، دانشوران ، ماہرین قانون و ماہرین تعلیم اور دیگر سماجی نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ یہ میٹنگ دو نشستوں میں ہوگی ، پہلی عمومی نشست صبح ساڑھے دس بجے سے ایک بجے تک اور دوسری نشست خصوصی دو پہر دو بجے سے ہوگی ۔
میٹنگ کے مقصد کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ملی کونسل کے قومی نائب صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے کہا کہ میٹنگ کا مقصد جہاں وقف امینڈ منٹ بل 2024 کا تجزیہ کر کے اور وقف ایکٹ 1995 سے ا س کا موازنہ کرتے ہوئے ترمیمی بل کے نقصاندہ اور غیر موزوں پہلوؤں پر بحث و تمحیص کے بعد اپنا موقف سیاسی نمائندوں کے سامنے رکھنا اور ان کے واسطے سے حکومت اور جے پی سی تک پہونچانا ہے ۔نئے ترمیمی بل میں ایسی ایسی شقیں شامل کی گئی ہیں جن سے وقف کی نوعیت اور حیثیت ہی بدل کر رہ جائے گی اور شرعی معاملات میں بے جا دخل اندازی کا دروازہ کھل جائے گا۔اس لیے ان شقوں کو ترمیمی بل سے نکلوانا بہت ضروری ہے ۔
اسی طرح اس میٹنگ کا مقصد وقف کے مسائل اور زمینی صورت حال سے عوام و خواص کو واقف بھی کرانا ہے اور املاک وقف کے تحفظ کی شکلوں اور اوقاف کی آمدنی کو بڑھانے اور واقف کی منشاء کے مطابق اس کے خرچ کو یقینی بنانے کی طرف بھی توجہ دلانی ہے ۔ نیز وقف کی املاک کو ناجائز قبضوں اور ناجائز تصرفات سے بچانے کی کوشش کرنا بھی اس میٹنگ کے مقاصدمیں شامل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وقف کے مسائل اور زمینی صورت حال کی طرف لوگوں کی توجہ کم ہوتی ہے ، اس کی وجہ سے اوقاف کی بہت سی جائدادیں بے کار پڑی ہیں ، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اوربہت سی جائدادیں ناجائز قبضات او رناجائز تصرفات میں ہیں ۔
ان سب موضوعات پر اس میٹنگ میں گفتگو ہوگی اور مضبوط لائحہ عمل بنایا جائے گا ۔ انہوں نے علماء کرام ، دانشوران اور ملی ، سماجی و سیاسی قائدین ، ضلعی وقف بورڈ وں کے صدر و سکریٹریز اور ریاست کی اہم اوقاف کے متولیوں اور مدارس و مساجد کے ذمہ داروں سے گزارش کی ہے کہ وہ اس میٹنگ میں شریک ہوں اور بحث میں حصہ لیں تاکہ آپسی مشورہ سے ایک مضبوط موقف پیش کیا جا سکے۔
Comments are closed.