مولاناڈاکٹر عتیق الرحمن قاسمی میدانِ علم وتحقیق کے شناور اورباکمال عالم دین تھے، ان کی وفات ملی کونسل کے لیے بڑا خسارہ:آل انڈیا ملی کونسل
پھلواری شریف،25نومبر(پریس ریلیز)
معروف عالم دین اورآل انڈیا ملی کونسل بہار کے سابق صدر مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن قاسمی کی وفات سے علمی حلقہ سوگوار ہے، مولانا قاسمی اعلیٰ درجہ کے محقق اورمتعدد کتابوں کے مصنف تھے، وہ ایک عرصۂ دراز تک خدا بخش اورینٹل لائبریری کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر رہے اورلائبریری کو علمی،تحقیقی اعتبار سے ترقی دینے میں اہم رول ادا کیا۔مولانا عتیق الرحمن قاسمی ریاست بہار ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں اپنے علمی،ادبی،تحقیقی اورملی خدمات کے حوالے سے متعارف تھے، ملک کے اکابر کا انہیں اعتماد حاصل تھا،وہ ایک بے نفس انسان تھے۔ان کی صدارت میں آل انڈیا ملی کونسل بہار کی نشأۃ ثانیہ ہوئی اوران کی قیادت میں ملی کونسل بہار نے اپنی منفرد شناخت بنائی،وہ اس عہدے پر چھ سال رہے، اس کے علاوہ وہ رابطہ ادب اسلامی بہار کے صدر اورمتعدد تنظیموں کے رکن تھے، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا کونسل کے قومی نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے ان کی وفات کو بڑا حادثہ قراردیا اوراپنا ذاتی نقصان بتایا،جب کہ ملی کونسل بہار کے صدر مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی کو جیسے ہی حضرت مولانا کی وفات کی خبر ملی، وہ ان کے رہائش گاہ پر پہونچے اوراہل خانہ سے تعزیت کی،انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہاکہ مولانا نہایت صالح فکرکے نیک صفت اورباصلاحیت اہل قلم میں تھے، وہ ملی کونسل سے والہانہ تعلق رکھتے تھے اورہمیشہ کونسل کی ترقی کے لیے فکرمند رہتے تھے،اللہ تعالیٰ ان کے حسنات کو قبول کرے اوران کی بال بال مغفرت فرمائے۔آل انڈیا ملی کونسل بہار کے جنرل سکریٹری مولانا محمد نافع عارفی نے مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن قاسمی کی وفات کو اپنا ذاتی نقصان بتاتے ہوئے کہاکہ مولانا ہمیشہ علمی میدان میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے،بطورخاص نوجوان علما کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے اوران کی رہنمائی بھی کرتے تھے۔انہوں نے مزید فرمایاکہ جب بھی میری کوئی کتاب شائع ہوئی،یا کوئی تحریر اخبارات میں چھپی،حضرت نے فون کرکے مبارک باد دی،جب کبھی حضرت مولانا سے ملاقات ہوتی تو وہ مجلس علمی اورتحقیقی بن جایا کرتی تھی،وہ محققانہ مزاج رکھتے تھے اوران کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ کتابیں تھیں،انہوں نے کتابوں کے درمیان نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزارا۔انہیں علم اورکتابوں سے بے پناہ محبت تھی۔آل انڈیا ملی کونسل ان کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کرتی ہے اوراللہ سے امید رکھتی ہے کہ ملی کونسل کو ان کا بہترین بدل ملے گا۔مولانا عارفی نے مزید کہاکہ ڈاکٹر صاحبؒ ملی کونسل کے ایک عرصے تک صدر رہے اوران کی صدارت میں ملی کونسل نے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے،ادھر تین چار مہینوں سے حضرت علیل چل رہے تھے؛لیکن علالت کے باوجود وقتا فوقتا کونسل کے کاموں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔آل انڈیا ملی کونسل بہار کے جوائنٹ جنرل سکریٹری مولانا ابوالکلام شمسی نے کہاکہ مولانا مرحوم بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، وہ ایک عرصہ تک خدا بخش لائبریری کے اسٹنٹ ڈائرکٹر رہے اورمخطوطات کی حفاظت کے حوالے سے بڑا کام کیا ہے۔وہ ملی کونسل بہار کے صدررہے اورابھی سرپرست منتخب ہوئے تھے۔وہ مولانا ابوالحسن علی میاںندویؒ،قاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ،امیرشریعت مولانا سید نظام الدینؒ اورمولانا انیس الرحمن قاسمی سے گہرا اوردلی تعلق رکھتے تھے۔اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔
Comments are closed.