مولانا محمود مدنی نے چیف جسٹس آف انڈیا کو لکھا خط مندر – مسجد تنازع میں فوری مداخلت کا مطالبہ

نئی دہلی 26 نومبر. جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نےملک میں مسجد و مندر کے بڑھتے تنازع پر روک لگانے کے لئے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کو آج ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں گزارش کی گئی ہے کہ امن و امان اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ فوری مداخلت کریں۔مولانا مدنی نے زور دے کر کہا کہ سروے کے نام پر کی جانے والی سرگرمیاں عوامی اعتماد کو مجروح کر رہی ہیں اور بے چینی کی باعث بن رہی ہیں۔ تازہ مثال یوپی کے سنبھل میں پیش آمدہ واقعہ کی ہے ۔مولانا مدنی نے چیف جسٹس آف انڈیا کو متوجہ کیا کہ عبادت گاہوں سے متعلق خصوصی قانون (پلیسیز آف ورشپ ایکٹ 1991) فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانے اور عبادت گاہوں پر پیدا کردہ تنازعات کو پر قد غن لگانے کے لیے بنایا گیا تھا۔
تاہم حالیہ پیش رفت خاص طور پر سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ سروے اس قانون کے تحت ممنوع نہیں ہے، اس نے پھر سے تنازع کی راہیں کھول دی ہیں ۔ خط میں مولانا مدنی نے چیف جسٹس آف انڈیا سے درخواست کی ہے کہ وہ ان معاملات کا از خود نوٹس لیں اور فیصلہ کن اقدام کے ذریعہ حالات کی سنگینی کا تدارک کریں ۔خط میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمی ہمیشہ آئین کی محافظ کے طور پر کھڑی رہی ہے ، وہ ملک کی سالمیت اور اس کے تانے بانے کو جوڑنے کے لیے آہنی دیوار ہے. موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ بحیثیت چیف جسٹس آپ اس فریضے کو انجام دیں اور ملک کے ایک مضبوط ستون کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں ۔ آپ سے عاجزانہ گزارش ہے کہ فوری مداخلت کر کے یہ یقینی بنائیں کہ قانون کی حکمرانی قائم رہے اور 1991 کے ایکٹ کے مقاصد کا احترام کیا جائے۔
Comments are closed.