’قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور ان کے افکار کی معنویت‘ پر دو روزہ سمینار

 

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، مولانا محمود اسعد مدنی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سمیت ملک کی تمام بڑی بڑی تنظیموں کے ذمہ داران کی شرکت

اعتدال اور بلا تفریق مسلک وملت امت میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش قاضی صاحب کی زندگی کا طرۂ امتیاز تھا: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

نئی دہلی (پریس ریلیز) اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے زیر اہتمام دار الحکومت دہلی کی مشہور یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور ان کے افکار کی معنویت‘ کے موضوع پر دو روزہ اہم سمینار منعقد ہوا۔ جس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی، جماعت اسلامی ہند کے امیر سعادت اللہ حسینی، مولانا محمود مدنی سمیت ملک وملت کی اہم اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت معروف دینی درسگاہ دار العلوم دیوبند کے سینئر استاذ حدیث مولانا نعمت اللہ اعظمی نے کی اور نظامت دار العلوم ندوۃ العلماء کے استاذ حدیث وفقہ مولانا عتیق احمد بستوی نے کی۔پروگرام کا آغاز مولانا قاری فضل الرحمن کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔

اس موقع پر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اگر قاضی مجاہد الاسلام ؒ کی فکر کو ایک لفظ میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو اس کا خلاصہ ’اعتدال‘ تھا، جسے انہوںنے ابوالمحاسن محمد سجادؒ کی زندگی سے اخذ کیا تھا اور اسی سے وہ بے انتہا متاثر بھی تھے اور اسی کو انہوںنے پورے ملک میں آگے بڑھایا۔ قاضی صاحب اپنے چالیس سالہ ملی ودینی سفر میں امات شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، آل انڈیا ملی کونسل اور اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے پلیٹ فارم سے پوری زندگی اسی اعتدال کی ڈگر پر چلتے ہوئے ملک کی مختلف جماعتوں، تنظیموں اور ملت میں افراط وتفریط سے بچتے ہوئے اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ملت کی زبوں حالی کا اہم سبب باہمی انتشار تھا اور وہ اپنے عہد میں ایک ایسی قوم کے رہنما تھے جو دین کے اعتبار سے غفلت کا شکار، دنیا کے اعتبار سے مفلس اور مقہور اور تعلیم کے اعتبار سے ناخواندہ اور پسماندہ تھی۔ ان حالات میں انہوںنے جرأت و حوصلہ اور حکمت وتدبر کے ساتھ ملت کی ناخدائی کی اور باگ ڈور سنبھالی۔

مولانا ارشد مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اپنے وقت کے جری، باہمت، باکمال اور گوناں گوں صلایت شخص تھے اور اللہ نے ان سے کام لیا۔ مولانا عتیق احمد بستوی قاسمی نے کہا کہ قاضی صاحب کی زندگی میں حضرت شیخ الہند جیسی ہمہ گیری اور جامعیت پائی جاتی تھی۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ حضرت قاضی صاحب بڑے دور اندیش اور صاحب بصیرت انسان تھے اور انہوںنے اپنی مجتہدانہ صلاحیت کے ذریعہ دور جدید میں پیدا ہونے والے شرعی مسائل کو فقہ اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے ہر مسلک کے علماء اور جدید علوم کے ماہرین کو ساتھ لے کر قرآن وحدیث کی روشنی میں حل فرمایا۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جب وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر منتخب ہوئے اور جمعیۃ علماء ہند کے دفتر میں تشریف لائے تو میں ان سے ملا۔ اس وقت انہوںنے جس طرح ملت کے مختلف مسائل اور مشکلات پر اظہار خیال فرمایا، اس سے میں بہت متاثر ہوا۔ حضرت کی اس ملاقات نے جو میرے دل پر گہرے نقوش چھوڑے وہ آج تک اسی طرح نقش ہیں۔اس سے ملت کے تئیں ان کی دردمندی اور ذمہ داری کا اندازہ ہوتا ہے۔

مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت قاضی صاحب نے جہاں امارت شرعیہ اور بورڈ کے پلیٹ فارم سے ملت کو دین اور شریعت سے جوڑکر رکھنے کی کوشش کی، اسی طرح فقہ اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے نئے پیدا شدہ دینی اور فقہی مسائل کو حل کرنے کی جو طرح ڈالی اور ملت کو متحد کرنے کیلئے ملی کونسل قائم فرمائی اور کم وبیش بیس سالوں تک اس میدان میں امت کے ہر طبقہ کو جوڑنے میں مصروف رہے۔ ان کا یہ کارنامہ لائق تقلید ہے۔ مولانا نعمت اللہ اعظمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ اپنے معاصرین میں نہایت ذہین وفطین، اپنے اساتذہ کے عقیدت مند ایک ممتاز اور جید عالم دین تھے۔ انہوںنے دینی مسائل کو حل کرنے میں دین کے تمام اصولوں وقواعد سے فائدہ اٹھایا۔ دار العلوم ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا سید بلال حسنی ندوی نے کہا کہ حضرت قاضی صاحب ملت کے انمول سرمایہ تھے اور انہوںنے بہت ہی دور اندیشی کے ساتھ ملت کی قیادت فرمائی۔ ان پر حضرت علی میاں ندویؒ کو بہت اعتماد ہی نہیں تھا، بلکہ حضرت قاضی صاحب کی علمی لیاقت، ذہانت، حکمت ، تدبر اور صلاحیت کی منہ بھر بھر کر تعریف کیا کرتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے افکار وگفتار اور خیالات میں حضرت علی میاںؒ کے عکس جمیل تھے۔ مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے کہا کہ قاضی صاحب دینی اور شرعی مسائل کو حل کرنے کے لیے فقہ حنفی سے اوپر اٹھ کر دوسرے مسالک کے علماء سے استفادہ کرنے میںکوئی دریغ محسوس نہیں کرتے تھے۔اس کے علاوہ ڈاکٹر محمد منظور عالم، مولانا عباس علی جناح ساؤتھ افریقہ کے پیغامات بھی سامعین کے سامنے رکھے گئے۔ قطر سے ڈاکٹر محی الدین علی قرہ الداغی نے اہم آن لائن قاضی صاحب کی شخصیت پر خطاب کیا اور سمینار کی کامیاب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس سمینار میں قاضی صاحب کے افکار وخیالات پر پندرہ اہم اور قیمتی دستاویزی مقالات پیش کیے گپء، جس میں ملک کی اہم عصری، دینی درسگارہوں کی نمائندگی رہی۔ اس کے دو اہم سیشن ہوئے۔ پہلے سیشن کی صدارت مولانا عتیق احمد بستوی اور نظامت ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی اور دوسری نشست کی صدارت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور نظامت مفتی امتیاز احمد قاسمی نے کی اور اخیر میں مفتی احمد نادر القاسمی کے اظہار تشکر اور مفتی احمد یعقوب دیلوی کی دعا پر یہ دو روزہ سمینار اختتام پذیر ہوا۔

Comments are closed.