امریکہ میں ہندو فوبیا کارڈ ظالم مودی حکومت کو دودھ سے دھونے کے لیے کافی نہیں : ایم کے فیضی
نئی دہلی
امریکہ میں ہندوتوا طبقہ ‘ہندو فوبیا’ کے نام پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کا فائدہ ہندو بالادستی کے افراد امریکہ میں اپنے ایجنڈے کو ہندو اشرافیہ اور نریندر مودی حکومت دونوں کے حق میں آگے بڑھانے کے لیے لے رہے ہیں۔
ہندوتوا کے حامیوں نے اسرائیل کی لابی سے سیکھا ہے کہ اپنی تعداد سے غیر متناسب سیاسی طاقت جمع کرنے کے لیے مظلوم کا کارڈ کیسے کھیلا جاتا ہے۔
صیہونیوں کے اس دعوے کی طرح کہ اسرائیل پر کوئی بھی تنقید بذات خود سام دشمنی ہے، ہندوتوا کے بالادست بھی ہندوتوا کے نظریے پر کسی بھی تنقید کو تمام ہندوؤں اور ہندوستان پر حملہ قرار دینے کے لیے اسی طرح کے پروپیگنڈے کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کے مظلوم ہونے کے دعووں کو اجاگر کیا جا سکے۔
مختلف وجوہات کی بناء پر مذہبی گروہوں، خاص طور پر مسلمان اور یہودی نفرت انگیز جرائم کا سامنا کر رہے ہیں۔
مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جب امریکہ میں یہودی مخالف نفرت انگیز جرائم 1,257 سے بڑھ کر 1,951 (+55فیصد) اور اسلام مخالف واقعات 176 سے بڑھ کر 266 (+51فیصد) ہو گئے تو ہندو مخالف نفرت انگیز واقعات میں اضافے کی شرح 24 فیصد تھی، جو 25 فیصد سے بڑھ کر 31 ہو گیا۔ (+24فیصد)۔
تاہم، یہ حکمت عملی ظالم مودی حکومت کو دودھ سے دھونے کے لیے کافی نہیں ہے۔
Comments are closed.