وہ شخص اپنی ذات میں اِک انجمن سا تھا
خاد القرآن حضرت مولانا غلام محمد وستانوی رحمتہ اللہ علیہ
از: محمد اللہ قیصر
عموما کسی بڑی شخصیت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ، مطلب ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت، ہمہ جہت تھی، گونا گوں صفات کی حامل تھی، وہ کسی ایک میدان کے شہسوار نہیں تھے، ان کا میدان عمل ایک سے زیادہ تھا،
اس کارگہِ عمل میں عام طور پر انسان ایک وقت میں کوئی ایک ہی کام انجام دے پاتا ہے۔
بالخصوص موجودہ دور کو اسپیشلائزیشن یعنی "تخصص” کا دور کہا جاتا ہے۔اگر بلندیوں کے آخری نقطے تک پہونچنا ہے تو ایک میدان، اور ایک ہدف کا انتخاب ضروری سمجھا جاتا ہے، ورنہ ناکامی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آسکتا، لیکن کچھ خدا کے بندے ایسے ہوتے ہیں کہ ان شخصیت حقیقی معنوں میں ہمہ جہت ہوتی ہے، زندگی کے ہر میدان میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں، محاذ کوئی بھی ہو وہ ہر جگہ کہتے ملیں گے کہ
"جو ڈٹے ہوئے تھے محاذ پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر”
ان کی طبیعت ایسی ہوتی ہے کہ”جہاں روشنی کی کمی ملی وہی ایک چراغ جلا دیا”
حضرت مولانا وستانوی رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی، وہ روایتی ادارہ کے فیض یافتہ روایتی مولوی تھے، خانقاہ کے تربیت یافتہ تھے، لیکن عملی زندگی میں وہ روایت شکن ثابت ہوئے، انہوں نے اس ضرورت کو خوب محسوس کیا کہ ہندستان میں ہمارے سامنے دو چیلینجیز ہیں، دین کی حفاظت اور ملکی نظام میں شراکت، دین کی حفاظت کے لیے دین کی تعلیم ضروری ہے اور ملکی نظام میں جینے کے لیے، اس نظام میں رہتے ہوئے زندگی کو برتنے کے لیے، اس میں شراکت داری کے لیے، وہ تعلیم ضروری ہے جس پر یہ سارا نظام قائم اور جاری و ساری ہے، لہذا انہوں نے آغاز ایک مدرسہ سے کیا، جہاں وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے لگے پھر ایک وقت ایسا آیا جب وہی چھوٹا سا ادارہ ایک بڑے دینی تعلی مرکز کی شکل میں ظاہر ہوا، آج یہ ادارہ مہاراشٹر میں دینی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں بڑی تعداد میں دین کے خدام اور مذہبی اسکالر تیار کیے جاتے ہیں، دینی تعلیم کی نشرو اشاعت کے میدان میں ایسا بلند مقام حاصل کیا کہ ہندستان بھر میں لوگ انہیں خادم قرآن کی حیثیت سے جاننے لگے،
دوسری طرف ایسا نہیں ہوا کہ مدرسہ قائم کردیا، شہرت مل گئی، ہندستان بھر میں بڑا مقام حاصل کرلیا تو مدرسہ کی چہار دیواری میں قید ہوکر بیٹھ گیے بلکہ وہ قوم کے سامنے دوسرے چلینج سے نپٹنے کے لیے میدان میں کود پڑے
مولانا رحمۃاللہ علیہ چاہتے تو مدرسہ میں رہ کر اپنی بقیہ زندگی بڑے آرام سے گذار سکتے تھے، لیکن ان کی طبیعت میں ایک منزل پر پہونچ کر ٹھہرنے کا مزاج نہیں تھا ، اسلیے وہ آگے بڑھے اپنے میدان سے باہر نکلے ،مختلف علوم و فنون کے ماہرین کو یکجا کیا منصوبہ بندی کی اور اللہ پر بھروسہ کرکے کام شروع کردیا،
انہوں نے خود کو دینی تعلیم کی نشرو اشاعت کے میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ تعلیمی میدان کے نئے گوشوں کی تلاش اور وہاں ملت کی رہنمائی کے لیے نکل پڑے، پھر "جو ہو عزم سفر پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں” کے یقین کے ساتھ کام شروع کیا اور انہوں نے وہاں بھی کامیابی کے جنھڈے بلند کیے ، چناں چہ
انہوں نے، اسکول، ٹیچر ٹریننگ، انجینئرنگ، میڈیکل، فارمیسی اور لاء کالجز قائم گیے، جہاں آج بھی ہزاروں طلبہ دینی ماحول میں عصری علوم سے سرفراز ہورہے ہیں،ان کے ذریعہ قائم کیے گئے عصری علوم کے مراکز دیکھ کر عقل حیراں رہ جاتی ہے کہ یہ سب اسی "مولوی” نے کیا ہے جسے دنیا عصر حاضر کا ناکارہ عضو سمجھتی ہے، مدرسہ کا تعلیم یافتہ، خانقاہ کا تربیت یافتہ اور بزرگان دین کا خوشہ چیں آخر اتنا کچھ اکیلے کیسے کرسکتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے یہ سب کر کے دکھایا، امت کی نوجوان نسل ان کے ذریعہ قائم تعلیمی مراکز سے فیضیاب ہو رہے ہیں
مولانا رحمۃاللہ علیہ حالات کا رونا رونے والوں میں سے نہیں تھے، اپنوں کی سادگی اور دوسروں کی عیاری پر محض آنسو بہانا، سینہ کوبی کرنا، غیروں کی مکاریوں کا شکوہ کرنا، مخالفین کی دسیسہ کاریوں پر رونا پیٹنا واویلا مچانا یہ سب ان کی فطرت میں نہیں تھا، ان کا فکر یہ تھی کہ مخالفین ہیں تو مخالفت کریں گے ہی، وہ اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں سوال تو خود سے ہونا چاہیے، اپنے رہنماؤں سے نونا چاہیے کہ ہم اپنے لیے، اپنی قوم کے لیے، قوم کی آئندہ نسلوں کے لیے، ان کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں، ان کی بھلائی اور ترقی کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں،
صرف رونا دھونا، سینہ کوبی کرنا، حق تلفی پر ہائے توبہ مچانا جلسے جلوس کرکے قوم کو آگاہ کردینا کہ تمہارے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں مسئلہ کا حل نہیں ہے، اپنی حفاظت اور بہتری کے لیے منصوبہ بند عملی اقدامات ضروری ہیں
اور مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے کر کے دکھایا کہ ملت اسلامیہ کے بقاء اور اس کے تحفظ کے لیے جو چیز سب سے زیادہ ضروری تھی کہ اپنی قوم کو قوت و شوکت کے اصل سرچشمہ علم و حکمت کا اکسیر پلاجادیا جائے، انہیں تعلیم کا رأس المال فراہم کردیا جائے، ضلالت و جہالت سے محفوظ رکھنے کے لیے علوم دینیہ کی روشنی اور جہاد زندگانی میں مسائل و مشکلات کی بلاخیزیوں سےلڑنے کے لیے علوم عصریہ کی قوت دونوں سے لیس کردیا جائے، اور اس مشن کے لیے انہوں نے خود کو جھونک دیا،
ان کی فکر تھی کہ صرف حکومت سے امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے ہمیں خود اپنی دنیا آباد کرنی ہوگی، اور انہوں نے کر دکھایا۔ انہوں نے تعلیمی میدان ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے کہ سوچنے والے کا ذہن حیران رہ جاتا ہے ایک اکیلا شخص اتنے سارے کام بھی کرسکتا ہے، تعلیمی میدان میں ان کے کام کا حجم اتنا بڑا اور وسیع ہے، ان کے کارنامے اتنے عظیم اور ہمہ گیر ہیں کہ انہیں امام قاسم نانوتویؒ اور سرسید احمد خانؒ کا سچا جانشین قرار دیا جا سکتا ہے۔ اور درست بھی ہے کہ ازاد ہندستان کی تاریخ میں اتنے وسیع پیمانے پر اور ہمہ جمت تعلیمی کارنامہ شاید ہی کسی نے انجام دیا ہو
کچھ لوگ اپنی خدمات کی وجہ سے زمانہ سے ماوراء ہوجاتے ہیں اپنے وہ انسانیت کا ناز اور قوم کا فخر بن کر وقت کے ماتھے پر اپنا نام یوں ثبت کر لیتے ہیں کہ تاریخ انہیں فراموش نہیں کرپاتی
مولانا رحمۃ اللہ علیہ اپنے عظیم کارناموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے
ان کے تعلق سے حقیقی معنوں میں کہا جا سکتا ہے کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
Comments are closed.