بنگلہ دیشی کے نام پر کارگل جنگ میں حصہ لینے والے سابق مسلم فوجی کے گھر میں پولیس اور ہندوتوا وادی کا گھس کر ہنگامہ و اشتعال انگیز نعرے۔ غیر ملکی کہہ کر ڈاکیومنٹس کئے گئے طلب

جمعیۃ علماء ہند پونے ٹیم بروقت جائے وقوع پہنچی، پولیس کمشنر کے ساتھ کامیاب میٹنگ، خاطیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی یقین دہانی

پونے کے چندن نگر علاقے میں پیش آئے ایک عجیب وغریب واقعے نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے نظام پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 1999 کی کارگل جنگ میں حصہ لے چکے سابق فوجی حکیم الدین شیخ کے خاندان نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اہلکار اور ہندوتوا نظریے سے وابستہ افراد پر مشتمل ایک ہجوم ان کے گھر میں داخل ہوا، انہیں اور ان کے ارکان خاندان کو آدھی رات کو نیند سے جگا کر شہریت ثابت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ خاندان کے مطابق ہفتہ کی رات تقریباً 30 سے 40 افراد ان کے گھر میں داخل ہوگئے، نعرے بازی کی، دروازہ پیٹا اور گھر میں موجود خواتین کو بھی بدتمیزی کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق، حکیم الدین کے بھائی ارشاد شیخ نے بتایا ’’وہ ہمیں دھمکا رہے تھے کہ اگر ہم نے کاغذات نہ دیے تو ہمیں بنگلہ دیشی یا روہنگیا قرار دے کر حراست میں لے لیا جائے گا۔‘‘حکیم الدین شیخ نے بتایا ’’میں نے کارگل جنگ میں اس سرزمین کے دفاع کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی آج اسی ملک میں مجھے غیر ملکی کہا جا رہا ہے۔ کیا ہماری حب الوطنی کو اب صرف نام سے تولا جائے گا؟‘‘
ارکان خاندان نے الزام لگایا کہ انہوں نے آدھار کارڈ اور دیگر درست دستاویزات پیش کیے مگر ہجوم اور پولیس ملازمین نے انہیں نقلی قرار دے کر مذاق اڑایا۔ بھتیجوں نوشاد اور نواب شیخ کے مطابق ہجوم نے خواتین کو دھمکایا اور گھر کی تلاشی کے دوران تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا۔
خاندان کے افراد کو اتوار کو بھی دوبارہ پولیس اسٹیشن بلایا گیا جہاں دو گھنٹے انتظار کے بعد انہیں مطلع کیا گیا کہ متعلقہ افسر موجود نہیں۔ حکیم الدین کے بھتیجے شمشاد شیخ کے مطابق ان کے اصل دستاویزات اب بھی پولیس کے قبضے میں ہیں۔
خاندان کے مطابق حکیم الدین کے علاوہ ان کے دو بھائی نعیم الدین اور محمد سلیم بھی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور بالترتیب 1965 اور 1971 کی جنگوں میں شریک رہ چکے ہیں۔ ارشاد شیخ نے کہا، ’’ہم نے فوج میں نسلوں تک خدمات دی ہیں، کیا اب بھی ہمیں اپنی وفاداری ثابت کرنی ہوگی؟‘‘پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں کچھ ’مشکوک افراد‘ کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی اور کارروائی اسی بنیاد پر کی گئی مگر خاندان نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی منظم طریقے سے صرف مسلم نام والے خاندان کو ہراساں کرنے کے لیے کی گئی۔

  1. خاندان نے اس واقعے پر آزاد عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صرف ایک گھر پر چھاپہ نہیں بلکہ اس ملک کے وفادار فوجیوں کی عزت پر حملہ ہے۔
    متاثرہ فیملی کو اس وقت راحت پہنچی جب چندن نگر سے مولانا شکیل نے رات دیر گئے فون کر کے جمعیۃ علماء ہند پونے کے روح رواں مفتی شاہد قاسمی کو واقعہ اطلاع دی، مفتی شاہد نے رات کے اسی پہر اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچ گئے اور اس خاندان کو اطمینان دلایا کہ ہم آگئے ہیں اب گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعدہ معاملہ رفع دفع کروا دیا۔
    موصولہ اطلاع کے مطابق آج ٣٠/ جولائی کو جمعیۃ علماء پونے کے صدر مفتی شاہد قاسمی مع متاثرہ فیملی کی پونے پولیس کمشنر امتیش کمار کے ساتھ میٹنگ ہوئی، جس میں پولیس کمشنر بلا تاخیر تمام غیر سماجی عناصر اور ملوث پولیس پر مختلف دفعات داخل کر کے سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
    کمشنر کے ساتھ میٹنگ میں متاثرہ فیملی کے ہمراہ جمعیۃ علماء پونے کے صدر مفتی شاہد قاسمی کے علاوہ مولانا شکیل، مولانا وسیم، جناب راہل ڈہمباڑے، ایڈوکیٹ جناب توصیف اور دیگر حضرات موجود تھے۔

Comments are closed.