مولانا ابو المحاسن سجاد: مجاہد آزادی اور اسلامی سیاسی فکر کے امین
15 اگست یوم آزادی اسپیشل
از عاصم افتخار
برصغیر کی سیاسی اور فکری تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جو بظاہر محدود دائرے میں کام کرتی نظر آتی ہیں، مگر ان کی فکر اور عملی خدمات اس قدر گہری اور دیرپا ہوتی ہیں کہ وہ اپنے عہد سے آگے نکل کر آنے والے زمانوں کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ مولانا ابوالمحاسن سجادؒ انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ عام طور پر انہیں بہار، اڑیسہ اور جھارکھنڈ میں امارت شرعیہ کے بانی اور ایک مدبر عالم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، لیکن ان کی حیثیت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ وہ بیسویں صدی کے برصغیر میں ایک ایسے اسلامی سیاسی مفکر کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے جدیدیت کے اثرات سے مکمل طور پر الگ رہتے ہوئے ایک ایسا سیاسی ماڈل پیش کیا جو خالص کلاسیکی فقہ سے ماخوذ تھا اور جس میں جدید قومی ریاست کے تصورات کی کوئی آمیزش نہ تھی، بلکہ ان کا سارا نظام اس فقہی روایت پر قائم تھا جو سیاست کے بابمیں بھی امت مسلمہ کی رہنمائی کرتی رہی ہے۔
مولانا ابوالمحاسن سجادؒ برصغیر کے اُن نابغۂ روزگار علماء، صوفیاء ، مجاہدین اور قائدین میں سے تھے جنہوں نے دینی بصیرت، فقہی استقامت اور سیاسی حکمت کو یکجا کر کے مسلمانوں کے لیے ایک ہمہ گیر رہنمائی فراہم کی۔ 1884ء میں بہار کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے مولانا سجادؒ نے ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کی، پھر مدرسہ سبحانیہ الہ آباد سے فراغت پائی ۔فکری، علمی اور فقہی گہرائی کے ساتھ ساتھ ان میں ایک غیر معمولی تنظیمی اور قائدانہ صلاحیت بھی پائی جاتی تھی، جس نے انہیں صرف ایک عالم نہیں بلکہ ایک مؤثر سیاسی رہنما بنا دیا۔
مولانا سجادؒ جمعیت العلماء ہند کے بانی اراکین میں شامل تھے اور اس پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کی۔ انہوں نے تحریکِ خلافت میں سرگرم کردار ادا کیا اور مسلمانوں کے دینی و سیاسی حقوق کے لیے برطانوی حکومت کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔ وہ متحدہ ہندوستان کے حامی تھے لیکن اس بنیاد پر کبھی مسلمانوں کی علیحدہ شناخت اور شرعی نظام سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے سماجی اصلاحات کی تحریکیں چلائیں، نکاح و طلاق میں شریعت کی پابندی اور غیر اسلامی رسوم کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے۔ زکوٰۃ و اوقاف کے منظم نظام کے قیام اور اس کے ذریعے غرباء، مدارس اور یتیم خانوں کی مدد بھی ان کے نمایاں کارناموں میں شامل ہے۔ 
مولانا ابوالمحاسن سجادؒ کی آزادی کی جدوجہد اور اس سے جڑے کارنامے برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ وہ آزادی کو محض اقتدار کی تبدیلی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے مسلمانوں کی دینی، تہذیبی اور سماجی خودمختاری کا ذریعہ مانتے تھے۔ ان کی جدوجہد کا نقطۂ آغاز تحریکِ خلافت جیسے بڑے عوامی اقدامات سے ہوا، جن میں انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ تحریکِ خلافت کے دوران مولانا سجادؒ نے بہار اور اس کے اطراف میں جلسے جلوس منظم کیے اور عوام کو برطانوی اداروں کے بائیکاٹ کی ترغیب دی۔ ترکِ موالات کے موقع پر انہوں نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ انگریز حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تعاون مسلمانوں کے دینی و قومی مفاد کے خلاف ہے، اس لیے مسلمانوں کو تعلیمی، عدالتی اور سماجی میدان میں خود انحصاری اپنانا ہوگی۔ ان کے اہم کارناموں میں آزادی کی جدوجہد کے تناظر میں سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ سیاسی تحریکوں میں شامل رہتے ہوئے بھی متبادل عملی ڈھانچے تیار کرتے رہے۔ انہوں نے مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کیا، انہیں آزادی کے بعد کی ضروریات کے لیے تیار کیا اور برطانوی اثر سے آزاد اداروں کے قیام پر زور دیا۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کی مسلم سیاست ایک دوراہے پر کھڑی تھی۔ 1857ء کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی سیاسی قوت کمزور پڑ چکی تھی اور برطانوی استعمار نے ان کے تعلیمی و عدالتی اداروں کو محدود کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں ایک طرف جدیدیت پسند طبقہ تھا جو مغربی تعلیمی و ریاستی ماڈل کو اپنا کر مسلمانوں کو نئی سیاسی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتا تھا، اور دوسری طرف علما کا وہ گروہ تھا جو اسلام کی کلاسیکی فقہی تعبیر کو ہی مسلم معاشرے کے لیے اصل راستہ سمجھتا تھا ۔ اس ماحول میں علامہ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ جیسے رہنما سامنے آئے، جنہوں نے اسلامی سیاست کو ایک نئے فکری سانچے میں پیش کیا، لیکن علامہ کے یہاں جدیدیت کے اثرات بہت نمایاں رہے۔ علامہ نے مغربی فلسفے، خصوصاً جرمن اور برطانوی مفکرین کے افکار سے استفادہ کیا، اور ان کے تصورِ خودی اور مسلم ریاست میں جدید قومی ریاست کی جھلک ملتی ہے مولانا مودودی ؒ نے گرچہ مغرب کی تہذیب کو جہالت خالصہ کہا اوراسلام کو ایک ہمہ گیر نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا لیکن ان کی اپنی جماعت کی تشکیل میں روسی کمیونسٹ ڈھانچے کی مماثلت نمایاں ہے اور ریاستی تشکیل جدید پارلیمانی جمہوریت کے اصولوں سے قریب تر ہے، اگرچہ انہوں نے اس کو اسلامیانے کی کوشش کی ۔اس کے برعکس، مولانا ابوالمحاسن سجادؒ نے اپنی سیاسی فکر کی بنیاد اسلامی سنی روایت اور فقہ اسلامی پر رکھی۔ ان کے نزدیک سیاست کا مقصد محض اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ شریعت کے احکام کو محکومیت میں بھی قابل عمل بنانا اور امت کے اجتماعی نظام کی حفاظت تھی۔ انہوں نے 1921ء میں بہار، اڑیسہ اور جھارکھنڈ میں امارت شرعیہ قائم کی، جو آج بھی باقی ہے اور حتی المقدور اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کررہا ہے گرچہ اس کا دائرہ مسلم اذہان میں بڑھتے مغربیت کی وجہ سے محدود سے محدود ہوتا جارہا ہے ۔ اس ادارے کے تحت شرعی عدالتیں، زکوٰۃ و اوقاف کا نظم، دینی تعلیم کے ادارے اور سماجی فلاح کے منصوبے ایک مربوط ڈھانچے میں شامل تھے۔ امیر کا انتخاب جمہوری طرز انتخاب کے بجائے علماء و مجتہدین کی مشاورت سے کیا جاتا، اور امیر کے لئے یہ شرط لازم تھی کہ وہ فقہ میں مہارت اور عملی انتظامی صلاحیت کا حامل ہو۔
مولانا سجادؒ نے مغربی جمہوری ماڈل یا جدید قومی ریاست کے اداروں کو اپنانے سے انکار کیا کیونکہ ان کے نزدیک ادارہ جب تک اپنی شکل میں مغرب کے بجایے اسلامی تسلسل کا حصہ نہ ہو اس سے اسلامی نتیجہ حاصل کرنا مشکل ہے ۔
یہی وجہ تھی کہ ان کا سیاسی ماڈل نہ صرف نظریاتی طور پر بلکہ عملی ڈھانچے کے اعتبار سے بھی مغربی ماڈلز سے بالکل الگ تھا یہاں تک کہ ان کے یہاں سیاسی اصطلاحات کو بھی خالص فقہی اور اسلامی تاریخ کے تناظر میں برتنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ دونوں نے برصغیر میں اسلامی سیاست کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، مگر ان کے ہاں دو ایسے بنیادی نظریاتی اصول تھے جنہوں نے انہیں روایتی فقہی سیاسی تسلسل سے کاٹ دیا۔ پہلا نکتہ یہ تھا کہ ان دونوں کے نزدیک مسلم تاریخ میں رائج بادشاہت بذاتِ خود ایک غیر اسلامی عنصر تھی جس نے خلافتِ راشدہ کے ماڈل کو بگاڑ دیا تھا۔ اقبالؒ کے نزدیک اسلامی تاریخ میں ملوکیت ایک غیر اسلامی روح کا مظہر ہے جو مسلمانوں کے نظام میں داخل ہو گئی ہے۔ اسی طرح مولانا مودودیؒ کے مطابق ملوکیت اسلام کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ اس مؤقف نے انہیں فقہی روایت کے اس تاریخی تسلسل سے جدا کر دیا جو خلافت راشدہ کے بعد کے ادوار میں فقہائے کرام نے موجود سیاسی حالات میں شریعت کا عملی نفاذ ممکن بنایا تھا۔
دوسرا نکتہ یہ تھا کہ دونوں اس بات کے قائل ہو گئے کہ اب اجتہاد کسی خاص فقہی مکتب فکر کے اندر رہ کر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اقبالؒ کا خیال یہ ہے کہ اجتہاد امت کا حق ہے کہ وہ ہر زمانے میں نئے حالات کے مطابق اپنی تعبیر پیدا کرے جو ماضی کے تعبیر سے آزاد اور یکسر مختلف ہو سکتی ہے۔ مولانا مودودیؒ کی بھی یہی رائے تھی کہ شریعت کی تعبیر ایک زندہ عمل ہے جو کسی ایک فقہی مکتب اور زمانے تک محدود نہیں۔ اس سوچ نے انہیں اس فقہی تسلسل سے کاٹ دیا جو مختلف مکاتبِ فکر کے اندر رہتے ہوئے صدیوں تک جاری رہا تھا، اور جس میں اجتہاد اجتماعی علمی روایت کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔
یہ دونوں نکات بادشاہت کو مکمل رد کر دینا اور اجتہاد کو فقہی مکتب سے آزاد کر دینا دراصل ان کے سیاسی وژن کو مسلم تاریخی تسلسل سے جدا کر گئے۔ اس کے نتیجے میں ان کا ماڈل تیرہ صدیوں کے فقہی و سیاسی تجربے سے کٹ کر ایک نئے سانچے میں ڈھلنے لگا، جو عملی طور پر خلافت راشدہ، خلافت امویہ ، خلافت عباسیہ اور سلطنت عثمانیہ سے زیادہ جدید ریاستی نظریات سے قریب تھا۔ ( آج بھی ان دونوں مفکرین کے زیر اثر بہت سے لوگ بادشاہت کو بذاتہ غیر اسلامی سمجھتے ہیں)
اس کے برعکس، مولانا ابوالمحاسن سجادؒ نے نہ تو مسلم تاریخ میں بادشاہت کے پورے دور کو خارج کر کے سوچنے کی کوشش کی اور نہ ہی اجتہاد کو فقہی روایت سے آزاد کیا۔ ان کے نزدیک، فقہاء نے بعد کے ادوار میں جو عملی نظام وضع کیے، وہ امت کے اجتماعی تجربے کا حصہ تھے اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کا اجتہاد بھی فقہ حنفی کے دائرے میں رہ کر ہوتا تھا، اور وہ اسے ایک منضبط علمی روایت کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی فکر کلاسیکی فقہ کے تسلسل میں جڑی رہی اور انہوں نے امارت شرعیہ جیسا ادارہ قائم کر کے اس تسلسل کو عملی طور پر زندہ رکھا۔ وہ حضرات جو اسلامی سیاسی فکر کو سمجھنا چاہتے ہیں اور برصغیر کے صحیح سیاسی پس منظر کا اندازہ لگانے چاہتے ہیں انہیں قطع نظر اختلاف و اتفاق کے مولانا سجادؒ کی زندگی و افکار کو ضرور پڑھنی چاہئے۔
Comments are closed.