جنت کی خواہش ہے گر، ماں کے دل میں کرلے گھر

 

ڈاکٹر سراج الدین ندوی

ایڈیٹر ماہنامہ اچھا ساتھی۔بجنور

9897334419

ماں کا لفظ ہر زبان میں اور ہر مذہب میں ممتا اور پیار کا منبع و مخزن ہے۔ہر جاندار اپنی ماں سے محبت کرتا ہے۔مرغی کے چوزے بھی دشمن سے بچنے کے لیے ماں کی طرف بھاگتے ہیں۔ماں کا اپنے بچوں کے ساتھ اور بچوں کا اپنی ماں کے ساتھ جو فطری لگاؤ ہے وہ کسی دوسرے رشتہ میں نہیں ہے۔ماں کائنات کی سب سے نایاب اور انمول ہستی ہے، وہ دعا ہے جو لبوں سے نکلنے سے پہلے قبول ہوجاتی ہے، وہ سایہ ہے جو جلتے صحرا میں ٹھنڈک بخشتا ہے، وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں جل کر راستہ دکھاتا ہے۔ اس کی ممتا ایک ایسا گلاب ہے جس کی خوشبو ہر غم کو مٹا دیتی ہے، اس کی قربانی ایک ایسا دریا ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔ ماں کی آغوش وہ جنت ہے جہاں دل کو سکون اور روح کو قرار ملتا ہے، اور اس کے قدموں کے نیچے وہ جنت ہے جس کی تلاش میں انسان پوری زندگی سرگرداں رہتا ہے۔ ماں دراصل وہ شعر ہے جو ہر دل میں لکھا گیا ہے اور وہ نغمہ ہے جو ہر دھڑکن کے ساتھ گنگناتا ہے۔

دین اسلام میں اللہ ورسول کے بعد والدین کاحق ہے۔اسلام نے والدین کے حقوق میں ماں کو اولیت دی ہے۔ یعنی ماں کا حق باپ کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔ایک صحابیؓ نے خدمتِ اقدسؐ میں حاضر ہوکر پوچھا:”اے اللہ کے رسولﷺ! میرے حسنِ سلوک کا کون سب سے زیادہ مستحق ہے؟“ آپؐ نے فرمایا: ”تیری ماں“ دریافت کیا:”پھر کون؟”فرمایا: تیری ماں“ دریافت کیا: ”پھر کون؟“ فرمایا: تیری ماں ”دریافت کیا پھر کون؟“ فرمایا:”تیرا باپ“۔(متفق علیہ)

واقعی ماں کابہت بڑا درجہ ہے، ماں وہ ہستی ہے جو بچے کو نوماہ تک اپنے پیٹ میں رکھتی او ر اس کی خاطر طرح طرح کی مشکلات جھیلتی ہے۔پھر نہایت درد وتکلیف سہ کر پیدائش کے مرحلے کوطے کرتی ہے۔بچے کی پرورش کے دوران ناقابل بیان پریشانیاں برداشت کرتی ہے، اپنے خون کو دودھ بناکر اسے پلاتی ہے۔ گرمی میں کڑکتی دھوپ، سردی میں ٹھنڈے جھوکوں، برسات میں برستی بارش کوکوئی اہمیت نہیں دیتی ہے۔ وہ راتوں کی نیند اوردن کاسکون لٹا دیتی ہے۔ اگربچہ بیمار پڑجائے تو اس کی خاطر کھانا پینا چھوڑ دیتی ہے۔مختصر یہ کہ ماں بچے کے آرام کے لیے اپنی ہر خوشی اپنی راحت نچھاور کردیتی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آکر عرض کیا:”یا رسول اللہ مجھ سے ایک بہت بڑاگناہ سرزد ہوگیا ہے۔ کیا میرے لیے کوئی توبہ ہے؟“آپؐ نے دریافت فرمایا:”کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟“ جواب ملا:”نہیں“ دریافت کیا:”کیا تمہاری خالہ ہے؟“ عرض کیا: ”جی ہاں“ آپؐ نے فرمایا:”تو جاؤ اس کے ساتھ نیکی کرو۔“ یعنی یہی تمہارے گناہ کی توبہ ہے۔(ترمذی)

ایک بار ایک صحابیؓ نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا:”یا رسول اللہ میں نے جہاد کا ارادہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آپؐ سے مشورہ چاہتاہوں۔ آپ ؐ نے دریافت کیا:”کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا:”جی ہاں!“ آپؐ نے فرمایا:”تب اس سے چمٹے رہو کہ جنت اس کے پاؤں کے نیچے ہے۔“(نسائی،مسند احمد بن حنبل)

ایک بار آنحضرت ﷺنے چاربڑے بڑے گناہوں کا ذکرکیا تو سب سے پہلے ماں کی نافرمانی کو گناہ قرار دیا اور فرمایا کہ تمہارے اللہ نے تم پر تمہاری ماؤں کی نافرمانی حرام کی ہے۔(متفق علیہ)

ان احادیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ماں کا بڑا مرتبہ ہے۔ آنحضورﷺ ماں کی اطاعت وخدمت پر ابھارتے رہتے تھے۔ صحابہ کرامؓ بھی اپنی ماؤں کی بڑی خدمت کیا کرتے تھے۔ ایک صحابیؓنے کاندھے پر بٹھاکر اپنی والدہ کو حج کرایا تو خوش ہوکر حضرت عبداللہ ابن عمر ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

”اے صحابی رسول ﷺمیں نے اپنی ماں کا حق ادا کردیا۔“آپ نے فرمایا: ”کیسے؟“ انھوں نے کہنا شروع کیا:”میری ماں بہت ضعیف ہے۔ میں نے اسے کاندھے پر بٹھاکر حج کے تمام مناسک ادا کرائے ہیں۔ اب تو میں نے حق ادا کردیانا؟“ آپ نے فرمایا:”تم نے تو اس ایک آہ کا بھی حق ادا نہیں کیا جو تمہاری پیدائش کے وقت دردِزہ کی وجہ سے تمہاری ماں کو ہوئی تھی۔“(بیہقی)

ماں کی خدمت کے سلسلے میں تاریخ میں ہمیں بہت سے واقعات ملتے ہیں ان ہی میں سے ایک مشہور واقعہ حضرت شرف الدین یحییٰ منیریؒ کا ہے جو اپنے وقت کے ایک بڑے بزرگ اورعالم تھے۔

آپ ابھی چھوٹے ہی تھے۔یک دن امی جان چار پائی پر لیٹی تھیں۔ اتفاق سے انہیں پیاس لگی۔ آپ کو پاس بلایا اور کہا:”بیٹا:مجھے پیاس لگی ہے ذرا پانی پلادو۔“ آپ کٹورا لے کر پانی لینے گئے۔ پانی لے کر واپس آئے توامی جان کی آنکھ لگ گئی تھی۔ آپ نے جگانا مناسب نہ سمجھا کہ امی جان کو تکلیف ہوگی اس لیے پانی کا کٹورا ہاتھ میں لیے چارپائی کے پاس کھڑے رہے کہ نہ جانے کب امی کی آنکھ کھل جائے اور وہ پانی مانگ لیں۔ رات کا بڑاحصہ اسی طرح گزر گیا لیکن آپ اسی طرح پانی لیے کھڑے رہے۔ رات میں جب ماں کی آنکھ کھلی تو پوچھا:”بیٹا کیا تم اسی وقت سے اب تک پانی لیے کھڑے ہو؟“ بیٹے نے ادب سے جواب دیا:”ہاں امی جان! میں اسی وقت سے کھڑا ہوں تاکہ جب آپ کی آنکھ کھلے تو پانی پیش کردوں۔“ یہ جواب سن کر امی جان بہت خوش ہوئیں۔ بیٹے کو دعائیں دیں۔ آگے چل کر یہی شرف الدین بہت بڑے بزرگ اور ولی ہوئے۔

ماں نے بڑے خلوص اورمحبت سے آپ کو پالا اور پوسا ہے۔ بہت سی پریشانیاں اور تکلیف برداشت کرکے آپ کو بڑا کیا ہے۔اب آپ کا فرض بنتا ہے کہ نہایت خلوص اور محبت سے ان کی خدمت کیجئے، ان کا ہر حکم خوش دلی سے بجالائیے، ان کے اشاروں کو بھی حکم کا درجہ دیجئے۔ ان کے کہے بغیر ان کی ہر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کیجئے۔ان سے کسی بات پر جھگڑا نہ کیجئے۔نہایت نرم لب ولہجہ میں بات کیجئے۔ وہ اگر سخت بات بھی کہہ دیں تواف بھی نہ کیجئے۔ ان کے لیے دعائیں کرتے رہئے اور ان سے بھی دعائیں کراتے رہیے کہ ان کی دعائیں آپ کے لیے بڑا سرمایہ ہے۔

اگر ماں کا انتقال ہوجائے تو ان کی عنایتوں کو بھول نہ جائیے بلکہ ان کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے رہیے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا:”جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے۔صرف تین چیزوں کا اجر ملتا رہتا ہے۔ ایک صدقہ جاریہ دوسرے وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں تیسرے والدین کے حق میں صالح اولاد کی دعا۔حضرت ابوہریرہؓبیان کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد جب میت کے درجات بلند ہوتے ہیں تو وہ تعجب سے پوچھتا ہے یہ کیسے ہوا؟اسے بتایا جاتا ہے کہ تمہاری اولاد نے تمہارے لیے دعائے مغفرت کی تھی وہ اللہ نے قبول کرلی ہے۔

اگر آپ کی زندگی میں آپ کی والدہ کا انتقال ہوجائے تو ان کے رشتہ داروں سے وہی تعلق رکھئے جو وہ رکھتی تھیں۔ان کے رشتہ داروں کو ان کی کمی کا احساس نہ ہونے دیجئے۔ ان کے رشتہ داروں کی خدمت بھی کیجئے اور ان کا ادب واحترام بھی کیجئے۔

دور حاضر میں جو رشتے،ناطے اپنی معنویت کھوتے جارہے ہیں۔ان میں ماں کے رشتہ میں بھی کسی حد تک کمی دیکھنے کو ملی ہے۔مادہ پرست اولادیں ماں کا اس طرح خیال نہیں رکھتیں جس طرح رکھنا چاہئے۔کتنی ہی مائیں اولڈیج ہوم میں کسمپرسی کی زندگی بسر کررہی ہیں۔کئی کئی بیٹے ہونے کے باوجود نہ کفالت ڈھنگ سے کی جارہی ہے اور نہ علاج معالجہ پر توجہ دی جارہی ہے۔بعض خاندان تو وہ ہیں جو اپنے والدین کو بھی سامان زیست کی طرح تقسیم کرلیتے ہیں،کوئی صرف اپنے والد کو ساتھ رکھتا ہے اور کوئی صرف ماں کو۔اس طرح والدین بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوجاتے ہیں۔یہ انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے۔ماں کو پلٹ کر جواب دینا،ان پر چیخنا،چلانا اور ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا عام بات ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ماں کی ناقدری وہ لوگ بھی کررہے ہیں جو دن رات یہ قول رسولؐ سنتے ہیں کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔

اگر آپ کی ماں کا سایہ آپ پر سلامت ہے تو اپنی خوش نصیبی پر اللہ کا شکر ادا کیجیے اوران کی خدمت کیجئے اوران کی وفات کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت کیجئے اور ان کے رشتہ داروں سے مخلصانہ تعلق رکھئے۔

 

ہر حادثے سے بچتے رہے بال بال ہم

ماں کی دعا کا ہم یہ اثر دیکھتے رہے

Comments are closed.