مسلم امہ اورمذمتی وار
مفتی احمد نادر القاسمی
80لاکھ کی آبادی والی ناجائز دہشت گرد صہیونی ریاست اسرائیل اپنے اندر اتنی ہمت رکھتاہے کہ جس مسلم ملک پرچاہتاہے۔سینہ تان کر فضائی کاروائی کردیتاہے۔ اور57 مسلم ممالک سوائے مذمتی حملہ اورمذمتی وارکے اورکچھ نہیں کرپاتے۔ایسالگتاہے۔جیسے اللہ نے ان سے جرات وہمت اورایمانی غیرت اورملی حمیت چھین لی ہو۔علامہ اقبال نے تو کہاتھا ”فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے“ مگرمسلم امہ کی زبانی جنگ سے زیادہ اورکچھ نہیں والے رویئے کودیکھ کر ایسالگتاہے۔۔” فرنگ کی رگ جاں ۔نہیں۔ بلکہ مسلموں کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے“۔قطرپرحملہ ہوا خوب مذمتیں ہوئیں۔مسلم ناٹو کا غلغلہ ہوا۔اورپھر سارےکے سارے بجائے کچھ ہمت دکھانےکے ٹرمپ کی گود میں جاکر بیٹھ گئے کہ کہیں بڑے انکل ناراض نہ ہوجائیں۔اورسارے مسلم ملکوں کے خلاف مسلم ملکوں میں بیٹھی امریکی فوج اور میرینس کابٹن ہمارے خلاف ایکٹیونہ ہوجائے اورامریکہ اوراسرائیل دونوں سے ہم ایک ساتھ پٹنے نہ لگ جائیں اورہم سب کاحال صدام جیسانہ ہوجائے۔اسلئے انکل کوناراض نہیں کرناہے۔ امت کی چاہے جوگت بن جائے اس کی کوئی پرواہ نہیں اپنی کرسیاں محفوظ رہنی چاہئے۔اب قطربھی چپ۔سعودیہ بھی چپ اورسارے مسلم ممالک چپ ۔اب جوکریں گے۔انکل کریں گے۔اورپورپی ممالک کریں گے۔ اسےکہتےہیں غلامی اوراللہ کی ذات سے یقین کافقدان۔ حقیقت تو یہ ہےکہ آج اگر حماس جواس وقت امریکہ اوراسرائیل کے کہنے اورمطالبے کےمطابق تمام عرب حکمرانوں کی آنکھ کاکانٹابناہواہے۔وہ اورفلسطین کے نہتھے مسلمان اپنی بے سرومانی کےباوجود کھڑے نہ ہوتے تو یہ مسلم حکمرانوں کاٹولہ اورمسلم ملکوں کی بزدل فوجیں کب کے فلسطین سے دست بردارہوگئے ہوتے۔ بے بسی کاعالم یہ ہے کہ مسلم ممالک امریکہ کی اجازت کے بغیر اپنی فوج بنانا تودورکی بات ہے بندوق کی ایک گولی تک نہیں بناسکتے۔دنیانے اپنے سرکی آنکھوں سے مسلمانوں کی زبانی جنگ کاتماشہ دیکھ لیا۔بھلاہویمن کاکہ وہ اپناسب قربان کرکے صہیونی مظالم کا سامناکررہاہے اورفلسطین کے ساتھ کھڑاہے۔مسلمانوں کی خوب ذلت ہوئی امریکہ سب سے مال ٹھگ کرلےگیا۔اوراسرائیل جسے اورجہاں چاہا دوڑادوڑاکرمارا۔۔ان کے پاس سوائے مذمت کے اورکچھ نہیں تھا ۔بس جی بھرکے سب نے خوب مذمت کی۔اورخاموشی سے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔اس وقت عالمی مردہ قیادت سے امت مایوس ہوچکی ہے۔ تھک چکی ہے۔ امیدیں توڑچکی ہے۔ اب بظاہر کسی خیر کی توقع نہیں ۔طالبان پر اسلام پسندوں کو امید تھی۔ اب وہ بھی خاک ہوگئی ہے۔اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں ایک لفظ بھی سننے کو نہیں ملتا۔ اب تو بس اللہ کی ذات پربھروسہ ہے۔”ومن یرتدمنکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحںھم ویحبونہ “مائدہ 54۔
Comments are closed.