امریکہ اسرائیل اورپورپی ملکوں کی دغابازی اورعرب حکمراں
مفتی احمدنادرالقاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
جامعہ نگر دہلی
امریکہ اورمسلم ملکوں کی قضیہ فلسطین پرڈیل اورخفیہ میٹنگ۔کیا فلسطینیوں کی قربانیوں کا گلہ گھونٹنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔۔کیا مسلم ملکوں کو بےوقوف بنایاجارہاہے۔کیاامریکہ اوراسرائیل نے مسلمانوں کو غزہ سے قسطوار بےدخلی کی تیاری کرلی ہے۔اورعبوری انتظام مغرب اورامریکہ اپنے ہاتھ میں رکھ کر کیا آخرکار فلسطین کو اسرائیل ہی کے حوا لے کرےگا؟ جیساکہ آثار ہیں۔ ان سارے سوالوں کاجواب یہ ہے کہ اگر حماس کوبےدخل کرکے ایساکیاجارہاہے اوراکیس نکاتی امریکی ایجنڈا جو اسرائیل کے ساتھ مل کربناہے یابناگیاہے۔ان پر عمل درآمدہوجاتاہے تو فلسطین ہمیشہ ہمیش کے لئے مسلمانوں کے ہاتھ سےجانے والاہے۔ اورجولوگ فلسطین میں بچ گئیے ہیں ان سب کو مصر۔سعودیہ ۔اورآس پاس کے ملکوں میں چندامریکی ڈالروں کے عوض منتقل کردئیے جانے اورمسجداقصی سے دست بردار کردئیے جانےکی پانچ سالہ منصوبے میں تیاری کرلی گئی ہے۔یہ وہ اندیشے ہیں جو پورے کے پس پردہ ۔یاانسایڈ اسٹوری میں مضمر محسوس ہوتےہیں۔ دنیابھرکے مسلمانوں کو اس خطرناک امریکی اوراسرائیلی سازش کوسمجھ کربیدار اورہوشیارہوناچاہئیے۔ گونگے بہرے بن کے خاموش نہیں ہوناچاہئے۔ اس پورے یواین سناریو میں جس طرح پیچیدگی ہے۔اس سے تو یہ اندازہ ہوتاہے کہ یہ امت کے ساتھ دھوکے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اوراس میں وہ تمام آٹھ ملکوں کے حکمراں امریکہ کے خوف سے شامل ہیں جو اس ابلیسی کی مجلس شوری میں موجود تھے۔ اگر ایسانہ ہوتاتوشرائط میں حماس کی قربانیوں کو دہشت گردی کے نام پرمکمل بےدخلی کی بات نہیں کی جاتی۔اورغزہ کاکنٹرول امریکہ اوربرطانیہ اپنے ہاتھ میں نہ رکھتا۔۔بلکہ غزہ اورویسٹ بینک۔اوریروشلم سے اسرائیلی دہشت گردوں کومکمل طورپرخالی کرکے فلسطین کے عوام کے ہاتھ میں اس کی باگ ڈوردیتا۔ امریکہ مسلم حکمرانوں کو دھوکہ دے رہاہے۔ اوراس طرح کی لفاظی کررہاہے۔ایساکریں گے۔دھیرے دھیرے اقتدار منتقل کریں گے۔ بفرزون بنائیں گے اورمسلم حکمراں ہاں میں ہاں ملائے جارہے ہیں۔ امریکہ کی دوغلی پالیسی اوراسرائیل کی مکاری یہ ثابت کیاہے کہ ایساکبھی نہیں ہوگا۔۔یہ انیس سو اڑتالیس کی پوزیشن پر اسرائیلی خطہ کوچھوڑ کر فلسطینی علاقوں پر برطانیہ کے قبضہ کو واپس لانے کے مترادف ہے اورپھر اسرائیل کے حوالہ کرنے کامنصوبہ ہے۔ جسے مسلم حکمراں امریکہ کے آگے بےبسی میں مانتے۔یاخاموش ہوتے جارہے ہیں۔فلسطین اوراقصی کوبچانے کےلئیے پوری امت میں چنگاری بھڑکنی چاہئیے ۔اورمسلمانوں کو احتجاج کے ذریعہ بتاناچاہئیے کہ ہم مسجداقصی اورفلسطین کے معاملے میں اس فارمولے کو نہیں مانتے ۔اسرائیل کامکمل انخلاء اورفلسطین کی سرزمین فلسطینیوں کے حوالے کرنےکا مطالبہ بھی کرتے ہیں اورہم اس کے لئیے ہرقربانی دینے کوتیار ہیں۔یہ 21 نکاتی ایجنڈاجو اسرائیل کاخود تیارکردہ ہے۔جس میں حماس۔ یعنی فلسطین کی بےدخلی شامل ہے۔یہ فلسطین کےعوام اورپوری دنیا کےمخلص عوام جوفلسطین کے معاملے میں سڑکوں پر ہیں ان کی مخلصانہ جدوجہد پر چھری بھیرنے کے برابر ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ اس پر ایران اورحقیقت پسند مسلم مذھبی لیڈران کیوں خاموش ہیں۔کیا یوسف قرضاوی کے بعد کوئی مغرب کی چالاکی۔اورفلسطین کے معاملے کو سمجھنے والانہیں رہا؟۔ مسلم ملکوں کے عوام کیوں چپ ہیں اورتماشادیکھ رہے ہیں۔یاد رکھئیےحکومتیں مسجد اقصی اورفلسطین کو نہیں بچائیں گی۔ان کا کام صرف ہتھیاروں اوردولت کی نمائش ہے۔ مسججد اقصی اورفلسطین کوصرف ہماری ایمانی غیرت وحمیت ہی بچاسکتی۔ اللہ اس بے بس ولاچارامت کاحامی وناصرہو۔آمین۔
Comments are closed.