دنیامیں بڑھتی مذھبی اورنسلی منافرت
مفتی احمدنادرالقاسمی
جامعہ نگر دہلی
اس وقت پوری دنیا اورگلوبل سیاسی نظام{GO P)۔ میں مذھبی، نسلی اورطبقاتی نہ صرف یہ کہ گروہ بندیاں ہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت، عصبیت، حقارت اوراپنےہمنوا یااپنی کمیونٹی کے علاوہ دوسرے کو ذلیل اورکمتردرجے کاانسان سمجھنا۔ان کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنا۔ان کو سیاسی اورسماجی ہرسطح پر دبانے کی پالیسی اپنانا یہ عام سی بات ہوگئی ہے۔اور ہمارے ملک بھارت میں تو گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کےلئے باضابطہ ماحول سازی کی گئی ہے۔ جس کامظاہرہ قانونی، سیاسی، سماجی اورمذھبی ہرسطح پر دیکھنے کو مل رہاہے۔کبھی قانون کے ذریعہ مذھبی اورسیاسی حقوق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے توکبھی معاشی ۔تعلیمی اورسماجی طورپر بائکاٹ کئے جانے کی اپیل کی جاتی ہے توکبھی قانون کا سہارا لیکر مذھبی تشخص پرپابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ کبھی مسلمانوں کے اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔اورنفرت وعصبیت اس قدر بڑھ چکی ہےکہ کھانے کی چیزوں پر پابندی ۔عبادات پر روک ٹوک اور سرعام مسلمانوں کو گالیاں تک دی جارہی ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا انسانیت اب دنیاسے دم توڑرہی ہے۔اوردنیا کسی عالمی تکڑاو اورتصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔مذھبی اورسماجی روایات اپنارسوخ کھوتی جارہی ہیں۔اورآنے والے وقت میں دنیامیں جنگل راج اورجس کی لاٹھی اس کی بھینس کی صورت حال جنم لینے والی ہے۔جہاں صرف انسان کے جذبہ انتقام کا تسلط اورراج ہوگا۔ہرطبقہ اپنی ناکامی کاذمہ داراپنے مدمقابل کمیونٹی کو ٹھہرائےگا ۔بلکہ ٹھہرارہاہے۔ کمزور طبقہ طاقترو طںقہ کوپھوٹی آنکھ نہیں بھاتا۔ زمین پہ صرف وہ زندہ رہناچاہتاہے۔دوسرے کو جینے نہیں دیناچاہتا۔زمین پہ جینے کاحق بھی نہیں دیناپسند کرتا۔ یہ کیسی انسانی روش پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ رجحان اپنےآپ کو سناتن کے نام سے متعارف کرانے والے طبقہ میں بڑی گہرائی کے ساتھ جڑپکڑ رہاہے۔ جوکسی بھی طرح انسانیت اورمانوتہ کے حق میں نہیں ہے۔یہ کٹرتااس قدر آگے جاچکاہے کہ اگر اسے ”سناتنی اورگیروا آتنک واد“ کہاجائے تو بےجانہ ہوگا۔ قانون اورانصاف کاحال یہ ہے کہ عدالتوں میں فیصلے بھی اب ارباب اقتدار سے پوچھ کرلکھے جاتےہیں۔مسلمانوں اوردلتوں سے متعلق مقدمات تو ایسے ہی کنارے کردئیے جاتےہیں۔ہرچیز پر نام نہاد اعلی ذاتوں اوردنیاکے دوسرے ملکوں میں اشرافیہ کی بالادستی ہے۔غریب اورمفلس وناچار کو تو انسانوں کی گنتی میں بھی نہیں لایاجاتا۔ انتخاب اورالکشن میں گھوماپھراکراسی کے نقارے بجتےہیں۔ جیسے وہ راجاہوں اورباقی سب پرجا۔ اورپھر ایوانوں میں پہچ کر انھیں ووٹروں کے خلاف قانون بنائے جاتےہیں۔ وہ جس پر چاہیں اورجب چاہیں دیش کاغدار اورگھسپٹیا کالیبل لگادیں۔جیسے گجراتی اوربھاجپائی سب سے اوپر ہوں اوریوپی۔بہار جھارکھنڈ اوربنگال کے لوگ کوئی نچلے درجے کے بھارتی ہوں۔جنھیں جوچاہیں کہتے رہیں۔ جیسے چاہیں نچاتے رہیں۔اوریہ سب کرنے کے لئیے قانون۔ عدالت۔اورپارلیمنٹ میں اکثریت تو ہے ہی ۔کہنے کوساراماحول پرامن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہےکہ معاشرے میں اضطراب ہے۔ بےچینی ہے۔ سکون توصرف سیاست دانوں اورارباب اقتدار کوحاصل ہے۔اورانھیں کوسکون پہونچانے کےلئیے پوراعسکری۔ دفتری۔ اورعدالتی نظام ہے۔ اورچاپلوسی اور ارباب اقتدار کی تعریفیں کرکے کھا نےاوران کی ساخت اورچھوی کوبچائےرکھنے کے لئے پورامیڈیائی نظام ہے۔پریس تواب دنیا کےتمام ممالک میں بےاثرہوکررہ گیاہے۔ جھاوں جھاوں کرنے کے لئے بس سوشل میڈیاہے۔ منجملہ عالمی پیمانے پر جواس وقت انسانیت کی بےتوقیری ہے ۔ویسی بےتوقیری تو منگولوں اورتاتاریوں کے غلبے کے دورمیں بھی نہیں تھی۔ اورجب تک یہودونصاری اوراس کے چھوٹے بھائی اوثان پرست دنیامیں مضبوط رہیں گے۔مزید بےتوقیری بڑھتی ہی جائے گی۔ انسان کو دنیامیں حقیقی مقام نہیں ملے گا۔ اوریہ ساراکھیل مذھب کی آڑمیں کھیلاجارہاہے۔ *پہلے اوراب میں فرق اتناہے کہ ماضی میں یہ سب کچھ اقتدار کے لئے ہواکرتاتھا۔ اوراب نسلی اورطبقاتی برتری کےلئے ہورہاہے*۔ امت مسلمہ کے مقدرمیں اسی وقت دنیامیں ذلت لکھ دی گئی جب عربی قوم دنیاکے جمہوری نظام کا حصہ بنی۔اوردوسری اقوام کے ساتھ تہذیبی اورتعلیمی طورپر شیروشکرہوگئے اورایک قدم آگے بڑھ کر اقوام متحدہ کاحصہ بن کر امریکہ کی گود میں جاگری۔۔اگرقانون الہی کے مطابق ایک داعی قوم کی طرح خط امتیازبرقراررکھتے تو یہ گت نہیں ہوتی۔آج امریکہ اوراسرائیل دنیامیں مرغالڑارہاہے اوردنیالڑرہی ہے۔اوردونوں دیکھ دیکھ کر مسخرے کررہے ہیں اب جب تک ۔مسلم ممالک امریکہ کی غلامی سے آزاد ہوکر روس اورچین کی طرح اپناوجود قائم نہیں کریں گے ایسے ہی بےوزنی اوربےتوقیری کاشکار رہیں گے۔ کم ازکم یہ توسوچناچاہئیے کہ ہم امریکہ کی غلامی کی وجہ سے بندوق کی ایک گولی تک نہیں بناپارہے ہیں۔حیرت تویہ ہےکہ الہ واحد پر ایمان رکھنے والی قوم انسان کی غلام اورتابع دارکیسے بن گئی؟ ۔سچ کہا اقبال نے : ”توجھکاجب غیرکے آگے نہ تن تیرا نہ من “۔ ہم تودنیاکو انسانوں کی غلامی سے نکالنے آئےتھے۔ ہم کیسے دنیاہی کے۔بلکہ انسان کے غلام بن گئے۔ ؟ ذراغورسے دیکھئے کہیں سے بھی عرب آزاد لگتےہیں؟۔ ایک بات بغیر امریکہ سے پوچھے اوراس کی اجازت کے نہیں بول سکتے۔ دین اوراسلام تک کی توبات نہیں کرپاتے۔ان سے زیادہ تو غیرمسلم کرتاہے۔ کیایہ اسلام کی بالادستی قائم کریں گے؟۔ہاں آپس میں ایک دوسرے کومارنے اورکافرقراردینے کے لئے جوبھی بن پڑے گا کریں گے۔اگراس کے بھی اسرائیل اورامریکہ مدد لینے کی ضرورت پڑی تو پیچھے نہیں رہیں گے۔ امریکہ اوردجال کے خلاف زبان کھولنے والوں کو امریکہ سے پہلے ہم خود ماردیں گے۔ یاپابندسلاسل کردیں گے۔
Comments are closed.